سوال
کہ اگر کو ئی شخص مدینہ منورہ میں ہوٹل پر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرے ،اس طرح کہ ہوٹل سے مسجد نبوی نظر بھی آتی ہو اور آواز بھی صاف آتی ہولیکن درمیان میں بڑی شارع بھی ہے تو کیانماز ہو جائے گی یا اعادہ لازم ہوگا ؟
سائل:مولانا اجمل رضا،کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جو صورت آپ نے بیان کی ہے اس کے مطابق امام کے پیچھے اقتداء نہیں ہوئی ہےلہذا نماز کا اعادہ کرنا لازم ہے ۔تفصیل اس کی یہ ہے امام کی اقتداءصحیح ہو نے کے دو شرائط ہیں ،ایک یہ کہ امام اور مقتدی کی جگہ کا متحد ہونا اور اتحاد سے مراد یہ ہے کہ امام اور مقتدی کے درمیان کوئی بڑا راستہ،یا کو ئی نہر وغیرہ نہ ہو ،دوسرا مقتدی پر امام کا حال مشتبہ نہ ہو،اگر ان دونوں شرائط میں سے دونوں یا ایک مفقودہو تو اقتداء درست نہیں ہوگی ۔
تبیین الحقائق ،میں سیدنا عمرَضِيَ اللہ تعالٰی عنہ کا فرمان ہے:مَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ إمَامِهِ طَرِيقٌ أَوْ نَهْرٌ أَوْ صَفٌّ مِنْ نِسَاءٍ فَلَيْسَ هُوَ مَعَ الْإِمَامِ۔ترجمہ:وہ شخص جس کے امام اور اس کے درمیان کوئی راستہ یا نہر ،یا عورتوں کی صف ہوتو وہ امام کے ساتھ نہیں ہے۔( تبیین الحقائق ،باب الاحق بالجماعۃ ، ج:۱،ص:۱۳۹،طبع:المکتبۃ الکبری الامیریۃمصر)
تنویر الابصار مع الدرالمختار میں راستہ کی تفصیل اس طرح ہے:وَيَمْنَعُ مِنْ الِاقْتِدَاءِطَرِيقٌ تَجْرِي فِيهِ عَجَلَة۔ترجمہ:اوروہ راستہ (بھی )اقتداء سے مانع ہے جس میں بیل گاڑی گزر ہو سکتی ہو۔(تنویرالابصار مع الدرالمختار (باب الامامۃ،ج:۱،ص:۵۸۵،طبع:دارالفکر بیروت)
ردالمحتار علی الدرالمختار میں ہے :وَحَاصِلُهُ أَنَّهُ اشْتَرَطَ عَدَمَ الِاشْتِبَاهِ وَعَدَمَ اخْتِلَافِ الْمَكَانِ، وَمَفْهُومُهُ أَنَّهُ لَوْ وُجِدَ كُلٌّ مِنْ الِاشْتِبَاهِ وَالِاخْتِلَافِ أَوْ أَحَدُهُمَا فَقَطْ مَنَعَ الِاقْتِدَاءَ۔ترجمہ:اور اس کا حاصل یہ ہے کہ اشتباہ اور مکان کا مختلف نہ ہونا شرط ہے ،اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر اشتباہ اور اختلاف میں سے دونوں یا صرف ایک بھی پایا جائے تو اقتداء ممنوع ہے۔( ردالمحتار علی الدرالمختار،باب الامامۃ، ج:۱، ص:۵۸۶، طبع:دارالفکر، بیروت)
اور حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے: فلو إقتدى من بمنزله بمن في المسجد وإن إنفصل عنه صح إن لم يوجد مانع من نحو طريق ولم يشتبه حال الإمام’’ترجمہ:اگر کسی شخص نے اپنے گھر پہ اس شخص کی اقتداء کی جو مسجد میں ہے اگر چہ اس کے درمیان فاصلہ ہوتو اقتداء درست ہے ،اگر کوئی مانع اقتداء نہ پائی جائے جیسے راستہ ،اور امام کا حال مشتبہ نہ ہو۔(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ،باب الامامۃ،ج:۱،ص:۲۹۳،طبع: دار الکتب العلمیۃ،بیروت)
واللہ تعالی اعلم باالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد
تاریخ اجراء:08جمادی اولی 1439 ھ/15جنوری 2019ء