سوال
مسجد میں آذان دینا کیساہے ؟اور اگر مکروہ ہے تو کونسا ؟
سائل:محمد شاہد عطاری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مسجد میں اذان دینا مکروہ ہے اور فقہا کرام نے مطلق مکروہ لکھا ہے ،اور کراہت کے اطلاق سے یہی ظاہر ہے کہ کراہت سے مراد تحریمی ہو ۔لہذاگر خارج مسجد جگہ نہ ہو تو فناء مسجد میں آذان دی جا ئے ،اور اگربغیر کسی حرج (مثلا جگہ کی قلت وغیرہ)کی وجہ سے مسجد کے اندر آذان دی جاتی ہو تو آذان ہوجائے گی لیکن گنہگار ہونگے ۔ فتاوی ہندیہ(باب الاذان،الفصل الثانی،ج:۱،ص:۵۵،طبع:دارالفکر)میں ہے :وينبغي أن يؤذن على المئذنة أو خارج المسجد ولا يؤذن في المسجد كذا في فتاوى قاضي خان۔ترجمہ: آذان مینار یا مسجد کے باہر دی جائے اور مسجد کے اندر آذان نہ دی جائے ،اسی طرح قاضی خان میں ہے ۔(فتاوی ہندیہ،باب الاذان،الفصل الثانی،ج:۱،ص:۵۵،طبع:دارالفکر)
اسی طرح حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے :والظاهر أنه يؤذن في مكان عال أيضا كما في السراج ويكره أن يؤذن في المسجد كما في القهستاني عن النظم فإن لم يكن ثمة مكان مرتفع للأذان يؤذن في فناء المسجد كما في الفتح۔ترجمہ: اورقول ظاہر یہ ہے کہ آذان کسی اونچی جگہ دی جائے ،جیساکہ سراج الوھاج میں ہے ،اور مسجد کے اندر آذان دینا مکروہ ہے ،جیسا کہ قھستانی میں نظم سے منقول ہے،اور اگر وہاں پر بلند جگہ نہ ہو تو فنا مسجد میں آذان دی جائے ،جیساکہ فتح القدیر میں ہے ۔( حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح،باب الاذان، ج:1، ص:197،طبع:دارالکتب العلمیہ)
امام اہل سنت اما احمد رضا خان علیہ الرحمۃ سے پوچھا گیا کی مسجدکے اندر آذان دینے میں کونسی کراہت ہے تو آپ فرماتے ہیں :اور اس مسئلہ میں نوع کراہت کی تصریح کلمات علما سے اس وقت نظرِ فقیرمیں نہیں !ہاں صیغہ ''لایفعل''سے متبادر کراہت تحریم ہے کہ فقہائے کرام کی یہ عبارت ظاہراً مشیر ممانعت وعدم اباحت ہوتی ہے۔ اورعبارت نظم میں لفظ ''یکرہ'' کہ غالباًکراہت مطلقہ سے کراہت تحریم مراد ہوتی ہے : کما فی الدرالمختاروردالمحتار وغیرھما من الاسفار ویؤیدہ منع رفع الصوت فی المساجد کمافی حدیث ابن ماجۃ جنبوا مساجدکم صبیانکم ومجانینکم وسل سیوفکم ورفع اصواتکم وقدنھوا عن رفع الصوت بحضرۃ النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وحذروا علی ذلک من حبط الاعمال والحضرۃالالٰھیۃ احق بالادب کماتری یوم القیمۃ ''وخشعت الاصوات للرحمٰن فلاتسمع الاھمسا''۔وبھذا یضعف مایظن ان لیسفیہ الاخلاف السنۃ فلایکرہ الاتنزیھا علی ان التحقیق ان خلاف السنۃ المتوسطۃ متوسط بین کراھتی التنزیہ والتحریم وھو المُعبّر بالاساء ۃ کماسیظھر لمن لہ المام بخدمۃ العلمین الشرفین الفقہ والحدیث فلیراجع ولیحرر واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ ترجمہ:جیسا کہ دُرمختار، ردالمحتار اور دیگر معتبر کتب میں ہے اور مساجدمیں بلندآواز سے منع کرنا بھی اس کی تائید کرتاہےجیسا
کہ حدیث ابن ماجہ میں ہے، اپنی مساجد کو اپنے ناسمجھ بچّوں سے، دیوانوں سے، تلواروں کو سَونتنے سے اور آوازوں کو بلند کرنے والوں سے محفوظ رکھو،اور بارگاہِ نبوی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں آواز بلند کرنے سے منع کیا گیا ہے اور اس پر تمام اعمال کے ضائع ہونے کی دھمکی دی گئی ہے،اور بارگاہِ خداوندی اس ادب واحترام کے زیادہ لائق ہے جیسا کہ تم قیامت کے روز دیکھو گے‘‘ رحمٰن کے لئے تمام آوازیں پست ہوجائیں گی تو تُو نہیں سنے گا مگر بہت آہستہ آواز’’۔
اس گفتگو سے یہ گمان وقول ضعیف ہوجاتا ہے کہ یہ عمل صرف خلاف سنت ہے تو اس میں صرف کراہت تنزیہی ہے۔ علاوہ ازیں تحقیق یہ ہے سنتِ متوسطہ کا خلاف کراہت تنزیہی اور تحریمی کے درمیان ہوتا ہے اور اس کو ''اساء ۃ'' سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ یہ اس شخص پر ظاہر ہوجائیگا جس نے دو۲ مقدس علوم حدیث وفقہ کی خدمت کی ہے اس کی طرف رجوع کیا جائے اور اسے ذہن نشین کرنا چاہئے۔(فتاوی رضویہ ،باب الاذان ،ج:۵،ص:۳۶۴،۳۶۵ ،طبع:رضافاؤنڈیشن)
واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد
تاريخ اجراء:24ربیع الثانی 1439 ھ/01جنوری 2019ء