سوال
میں جب 18 سال کی تھی ، اس وقت میری والدہ نے اپنے بھانجے کی دلہن کے لئے زیور بنوایا تھا ، مگر اللہ کے حکم سے وہ بھانجے کی شادی سے پہلے ہی انتقال کرگئی ۔ اس طرح وہ زیور ان تک نہیں پہنچ سکا ۔والدہ کے انتقال کے بعد وہ زیور میں نے استعمال میں لے لیا ۔ وقت گزرتا رہا اب میری عمر 70 سال ہے مجھے ایک بوجھ لگ رہا ہے کہ میں نے کسی کا حق مارا ہے ۔ قرآن وسنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں کہ مجھے اس زیور کی رقم انہیں دینی ہے یا نہیں ؟ جو میں نے کیا وہ گناہ تو نہیں ؟
سائلہ:ام حارث : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
کسی کے لئے زیور بنوانے سے اسکی ملک نہیں ہوتے جب تک کہ اسکے قبضے میں نہ دے دیئے جائیں۔کیونکہ کوئی چیز بلاعوض دےدینا ھبہ ہے اور ھبہ بغیر قبضہ کامل کے تام نہیں ہوتا ۔لہذا مذکورہ صورت میں آپکی والدہ نے جو زیور بھانجے کی دلہن کے لئے بنوائے اور دیئے بغیر وفات پاگئیں وہ خاص آپکی والدہ کی ملک ہی رہے اور انکی وفات کے بعد انکے ترکہ میں شامل ہوکر تمام ورثاء میں انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کئے جائیں گے ۔
آپ کا ان زیورات کو لے استعمال کرنے کا حکم یہ ہے کہ آپکے حصہ وراثت سے ان زیورات کی قیمت کے بقدر رقم منہا کی جائے گی، اسکے بعد حصہ وراثت زیورات کی رقم سے زیادہ ہو تو زیادتی کی آپ مالک ہوں گی اور کمی کی صورت میں آپ زائد رقم کی دین دار ہوں گی۔
ھبہ بغیر قبضہ میں تام نہیں ہوتا اس کے بارے میں تنویرالابصارمیں ہے: وَ شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ۔ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ) کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو)اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)
اسی میں ہے: تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)
عالمگیریہ میں ہے : لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض۔ ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)
ہدایہ میں قبضہ کی شرط کی علت یوں بیان کی گئی :والقبض لا بد منه لثبوت الملك لأنه عقد تبرع، وفي إثبات الملك قبل القبض إلزام المتبرع شيئا لم يتبرع به، وهو التسليم فلا يصح۔ترجمہ: ھبہ میں ملکیت کے ثبوت کے لیے قبضہ ضروری ہے کیونکہ یہ مفت عطیہ کا عقد ہے ، جبکہ قبضہ سے قبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت کرنا تبرع کرنے والے پر ایسی چیز کو لازم کرنا جس کا ابھی اس نے تبرع نہیں کیا اور یہ قبضہ دینا تبرع ہے تو قبل قبضہ درست نہ ہوا۔(الہدایہ شرح بدایۃ المبتدی کتاب الھبہ جلد 3 ص 222)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:17 صفر المظفر1441 ھ/17 اکتوبر2019 ء