تسبیح و تحمید کا استعمال
    تاریخ: 4 فروری، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 737

    سوال

    کیا کوئی قادیانی اپنی تحر یرو تقریر میں (بِسمِﷲِالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ،نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم )جیسے الفاظ کا استعمال کرسکتا ہے؟ سائل:عبد المصطفٰی :کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بِسمِﷲِالرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ،نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم یا اس جیسے کلمات سے اپنی تحریر وتقریرکی ابتداء کرناشعائر مسلمین سے ہے۔کسی بھی غیر مسلم (مثلاً ہندو ،سکھ ،قادیانی وغیرہ)کو ان الفاظ کے استعمال کرنے کی قطعاً اجازت نہیں۔اگر کوئی غیر مسلم ایسا کرتا ہے تو وہ صرفدین اسلام کا ہی مجرم نہیں بلکہ آئین ِ پاکستان کی خلاف ورزی کرنے کے سببقانون کا بھی مجرم ہے۔بالخصوص اس صورت میں جبکہ کوئی عام مسلمان کسی غیر مسلم کی تحریر و تقریر میں مذکورہ بالا الفاظ پڑھ یا سن کر اسے مسلمان سمجھے تو یہ مسلمانوں کےساتھ دھوکہ دہی،خیانت اور انہیں گمراہ کرنے کے مترادف ہے ۔جس کی اسلام اورپاکستان کے آئین میں قطعاً و یقیناً گنجائش نہیں ہے۔

    نیزاگر ہم دنیاوی سطح پر دیکھیں تو بین الاقوامی مسلمہ قانون بھی یہی ہے کہ اگر کوئی کمپنی کسی مخصوص نام اور لیبل سے رجسٹرڈ ہو تو کوئی دوسری کمپنی اس کا نام و لیبل استعمال نہیں کرسکتی کہ اس سے لوگوں کو اصل کادھوکہ ہوگااور یہ قانون کی نظر میں قابلِ سزا جرم ہے بعینہ مذکورہ بالا الفاظ کابھی یہی حکم ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم اپنی تحریر و تقریر میں ایسےالفاظ استعمال کرے تو لوگوں کو اسکے مسلمان ہونے کا دھوکہ ہوگا جس کے نتیجے میں مسلمانوں میں شدید فتنہ و فساد پیدا ہونے کا خدشہ ہوگا گویا کہ ان کلمات کے استعمال کا حق مسلمانوں کے لیے محفوظ ہے اورکسی کافر کا اسے استعمال کرنا یہ مسلمانوں کے حق پر ڈاکہ ہے جو شرعاً اور قانوناً بد ترین جرم ہے۔حکومت ِ وقت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر شرعاً ، اخلاقاً اور قانوناً یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ایسے شرپسند اور موجبِ فتنہ و فساد عناصر کے خلاف سخت قانونی کاروائی کرکے شریعت اور آئین پاکستان کی بالادستی قائم کریں۔

    اس کی تفصیل یہ ہے کہ تسمیہ ،تحمید اور صلوٰۃ علی النبی ﷺ سےتحریر وتقریر کا آغاز کرنا ابتداءِ اسلام سے مسلمانوں کا طریقہ رہا ہے ۔اگرچہ مرور ِ زمانہ کے سبب دین سے دوری ہونے کی وجہ سے اب عام مسلمانوں کی تحریرو تقریر میں اس کا استعمال کم ہوچکا ہے لیکن علماء اور خواصحضرات آج بھی اہتمام کے ساتھ اپنی تحریر و تقریر کا آغاز تسمیہ ،تحمید و الصلوٰۃسے ہی کرتے ہیں۔ نیز ہرمسلمان خاص و عام اس طرح کی تحریر وتقریر کو مسلمان کی تحریر و تقریرہی سمجھتاہے ۔کسی غیر مسلم سے اس کا نہ صرف فی الواقع وقوع بلکہ خیال میں بھی اسے بعید سمجھتا ہے۔

    چناچہ حضرت سلیمان علی نبینا وعلیہ الصّلوۃ والسّلام نے ملکۂ بلقیس کو جو خط لکھا تو اس کی ا بتداءبھی تسمیہ سے فرمائی جیساکہ سورۃ النمل میں ہے: اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم۔ ترجمہ: بےشک وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور بےشک وہ اللہ کے نام سے ہے جو نہایت مہربان رحم والا۔(النمل:30)

    اسی طرح نبی کریمﷺ نے بذریعہ کتابت تبلیغ کا سلسلہ شروع فرمایا تو جو خطوط بادشاہوں کو لکھے گئے ان کا آغاز تسمیہ سے ہی تھا۔چناچہ بخاری شریف میں ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے ھرقل بادشاہ کو خط لکھا تو اس کا آغاز اس طرح فرمایا: ثم دعا بكتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقرأه: " فإذا فيه بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الله إلى هرقل عظيم الروم، سلام على من اتبع الهدى ترجمہ: پھر اس(ہرقل) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا اور اسے پڑھا ، اس میں یہ لکھا ہوا تھا ، اللہ کے نام سے شروع نہایت مہربان رحم والا۔(یہ خط)اللہ کے رسول محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے عظیم روم ہرقل کی طرف ، سلامتی ہو اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے ۔(صحیح البخاری،رقم الحدیث:4553)

    اسی طرح جب سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے کا وصال ہوا تو نبی کریم ﷺ نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کوجوخط لکھااس کا آغاز اس طرح فرمایا: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلُ سَلَامٌ عَلَيْكَ، فَإِنِّي أَحْمَدُ اللَّهَ إِلَيْكَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ترجمہ:اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا یہ خط محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے معاذ بن جبل کی طرف ، سلام ہوتم پر پس بے شک میںتیرے پاس اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔(المستدرک للحاکم ،رقم الحدیث:5193)

    اسی طرح خلیفہ بلا فصل حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عمرو بن عاص کو خط لکھا تو ان الفاظ سے آغاز فرمایا :بسم الله الرحمن الرحيم من أبي بكر خليفة رسول الله (صلى الله عليه وسلم) إلى عمرو بن العاص سلام عليك ترجمہ: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا،یہ خط اللہ کے رسولﷺ کے خلیفہ ابو بکر کی طرف سے عمرو بن عاص کی طرف سلام ہو تم پر ۔(تاریخ دمشق ،جلد:46،صفحہ:152، دار الفكر للطباعة والنشر والتوزيع)

    اسی طرح اکابر مسلمین خواہ پانچویں صدی ہجری کے ہوں یا اس کے بعد کے ہر ایک کا یہ طریقہ کا ررہا ہے کہ وہ اپنی کتا ب کا آغاز تسمیہ،تحمیداور صلوۃ سے فرماتے ہیں:

    چناچہ صاحب ِ بدائع الصنائع علاء الدين، أبو بكر بن مسعود بن أحمد الكاساني الحنفي (المتوفى: 587ھ) کتاب کاآغاز اس طرح فرماتے ہیں: (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ) الْحَمْدُ لِلَّهِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وَالصَّلَاةُ، وَالسَّلَامُ عَلَى الْمَبْعُوثِ بَشِيرًا، وَنَذِيرًا

    خاتم المحققین ابن عابدين، محمد أمين بن عمر بن عبد العزيز عابدين الدمشقي الحنفي (المتوفى: 1252ھ)اپنی تصنیف منحۃ الخالق کا آغاز ااس طرح فرماتے ہیں: بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله الذي أعز العلم في الأعصار وأعلى حزبه في الأمصار، والصلاة على رسوله المختص بهذا الفضل العظيم وعلى آله الذين فازوا منه بحظ جسيم

    اعلٰحضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی (المتوفی 1340ھ) نے اپنی تحریر کا آغاز اس طرح فرمایا: بِسْمِ اللّٰہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ،نَحمدہ ونصَلی علٰی رسوُلہ الکریم(فتاوی رضویہ،جلد:1،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    اسی طرح علم مناظرہ کی مشہور کتاب "الرشیدیہ " میں ہے: بدأ بعد التيمن بالتسمية بحمد الله سبحانه اقتداء بأحسن النظام وعملا على حديث خير الأنام عليه وعلى آله التحية والسلام وهو: كل أمر ذي بال لم يبدأ بحمد الله فھو اقطع ۔ترجمہ:مصنف نے بسم اللہ سے برکت حاصل کرنے کے بعد اللہ کی حمد وثناء سے کلام کی ابتداء کی احسن نظام یعنی قرآن مجیدکی اقتداء کرتے ہوئے اور نبی کریمﷺ کی حدیث پر عمل کرتے ہوئے اور حدیث یہ ہے: ہر وہ کام جو الحمدللہ سے شروع نہ کیا جائے وہ بے برکت ہوتا ہے۔(الرشیدیہ،صفحہ:22،23،مکتبہ المدینہ کراتشی)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب