سوال
میرے ماموں زاد بھائی سے 1975میں ایک قتل ہوگیا تھا ۔عدالت سے باعزت بری ہوگیا تھا۔1998میں اس کا انتقال ہوگیا۔2017 میں میں نے مقتول کی والدہ سے رابطہ کیا اور خون معاف کرنے کی درخواست کی ۔میں نے خون بہاد ینے کی پیشکش کی جو قبول کرلی گئی ۔2017 میں خون بہا کی رقم حکومت پاکستان کے مطابق 30630 گرام چاندی تھی ۔2017میں چاندی کا ریٹ 65.30روپےپرگرام تھا جو بیس لاکھ روپے بنتی تھی۔ میں نے اس رقم پر ایگریمنٹ کرلیا تھا ۔میں یہ رقم قاتل کا مکان بیچ کر ادا کرتا لیکن مکان کا کیس عدالت میں چل رہا تھا۔ اس وقت مکان کی قیمت چالیس لاکھ تھی۔اور گھر کے کیس میں وقت تھا تو میں نے بیس لاکھ میں سے تقریباً ساڑھے چھ لاکھ کی ادائیگی کرکے مقتول کے ورثاء کو عمرہ پر بھیجا ،اس طور پر کہ جب گھر فروخت ہوگا تو میں اپنی رقم بھی لے لوں گا۔ 2022 میں چاندی کا ریٹ 136روپے پر گرام ہے اور آج مکان کی قیمت 85 لاکھ ہے ۔مجھے یہ بتا یا جائے کہ میں خون بہا کی رقم 2017 کے ایگریمنٹ کے مطابق بیس لاکھ روپے دوں یا آج کے ریٹ کےمطابق اکتالس لاکھ پینسٹ ہزار 4165000 دوں ۔مکان کی قیمت چالیس لاکھ سے پچیاسی لاکھ پر پہنچ گئی ہے۔نیز جو میں نے اپنی طرف سے اس وقت ساڑھے چھ لاکھ دیے تھے، مکان بیچ کر وہ رقم میں چاندی کے حساب سے واپس لوں گا یا اتنی ہی رقم لوں گا؟سائل:اشرف حسین :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مستفسرہ میں جب رضامندی سے آپ کے اورمقتول کے ورثاء کے مابین ایک مخصوص رقم (بیس لاکھ روپے)طے ہوگئی اور اس میں سے آپ نے کچھ حصہ (ساڑھے چھ لاکھ)کی ادائیگی بھی کردی تو ورثاء شرعا مابقی رقم کے ہی حقدار ٹھہریں گے۔اور جو رقم آپ نےاپنی طرف سے مقتول کے ورثاء کو ادا کی ہے وہ اتنی ہی واپس لیں گے ،کیونکہ آپ نے انہیں یہ ادائیگی رقم کی صورت میں کی تھی لہذا واپسی بھی رقم کے اعتبا ر سےہی ہوگی نہ کہ چاندی کے اعتبار سے۔
مبسوط سرخسی میں ہے:فَإِنَّمَا يَسْتَحِقُّ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِقَدْرِمَا شَرَطَ لَهُ؛ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «الْمُسْلِمُونَ عِنْدَ شُرُوطِهِمْ» ترجمہ: ان دونوں میں سے ہر ایک اسی مقدار کا مستحق ہوگا جس کی انہوں نے شرط کرلی کیونکہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے مسلمان اپنی شرائط پر پورے اترتے ہیں۔( مبسوط سرخسی، باب استحقاق الربح فی الشرکۃ، جلد 11ص 157)
یونہی بدائع میں ہے:روي عن النبي عليه الصلاة والسلام أنه قال: «المسلمون عند شروطهم» فظاهره يقتضي لزوم الوفاء بكل شرط إلا ما خص بدليل؛ لأنه يقتضي أن يكون كل مسلم عند شرطه. ترجمہ: نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے ارشاد فرمایا مسلمان اپنی شرائط پر پورا اترتے ہیں تو اسکا ظاہر اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہر شرط کو پورا کرنا لازم ہےمگر یہ کہ کسی دلیل کے سبب خاص ہو، کیونکہ وہ تقاضا کرتا کہ ہر مسلمان اپنی شرط کا لحاظ کرے۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد احمد امين نوري قادرري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 12ربیع الآخر 1444ھ/08نومبر2022 ء