سوال
زید نے بکر سے دس لاکھ روپے بطور قرض لیے ۔جب دینے کا وقت آیا اور زید نے بکر کو واپس دینے کا ٹائم دیا کہ دو دن میں پیسے دے رہا ہوں تو بکر نےتین مرتبہ یہ کہہ دیا کہ میں نے یہ پیسے آپ کو ہبہ کیے۔ دو تین مہینوں کے بعد بکر نے زید سے کہا کہ میرے پیسے واپس مجھے دے دو۔ تو اس طرح ہبہ کرنے کے بعد دوبارہ پیسے کا مطالبہ کرنا کیسا نیز کیا زید پر لازم ہے کہ وہ اب پیسے واپس کرے؟ سائل:عبد الستار باپو:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مستفسرہ میں جب بکر نے زید کو اپنا قرض ان الفاظ سے معاف کردیا کہ میں نے یہ پیسے آپ کو ہبہ کیے اورزید نے اس کا رد بھی نہ کیا تو ایسی صورت میں زید کے ذمہ بکر کا قرض نہ رہا اور نہ بکر کے لیے اس رقم کا مطالبہ جائز بلکہ اب لے گا تو ناحق غیر کے مال پر قبضہ کرنے کے سبب غاصب قرارپائے گا۔اور غاصب کے لیے وعید ِ شدیدہ کتا ب اللہ اور احادیث ِکثیرہ میں مذکور ہیں۔
تنویر الابصار میں ہے: هِبَةُ الدَّيْنِ مِمَّنْ عَلَيْهِ الدَّيْنُ وَإِبْرَاؤُهٌ عَنْهُ يَتِمُّ مِنْ غَيْرِ قَبُولٍ ترجمہ: جس پر دین ہو اس کو دین ہبہ کرنا اور بری کردینا قبول کے بغیر تام ہوجاتاہے۔(رد المحتار علی الد رالمختار ،جلد:5،صفحہ:708،دار الفکر بیروت)
اسی طرح امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ رحمۃ الرحمٰن ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: پس ہندہ کہ مہر خود رابزید بخشید در صحت ونفاذ ایں سخنے نیست تنہا ایجاب ہندہ اینجا بسندمی بود اگر زید رد نہ کردے ترجمہ: پس ہندہ نے اپنی صحت میں مہر زید کوبخشا تو اس ہبہ کا نفاذ بلا شبہ ہوگیا، اس میں ہندہ کی طرف سے صرف ایجاب کافی تھا بشرطیکہ زید نے اس کو رد نہ کیا ہو۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:19،صفحہ:232،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
نیز قرض ہبہ کرنا ایک اعتبار سے اسقاط اور ایک اعتبار سے تملیک ہے۔ اور جو چیز ساقط ہوجائے وہ معدوم ہوجاتی ہے اور معدوم میں رجوع ممکن ہی نہیں۔
چناچہ العنایۃ شرح الھدایۃ میں ہے: هِبَةُ الدَّيْنِ مِمَّنْ عَلَيْهِ إبْرَاءٌ لِأَنَّهُ يَرْتَدُّ بِالرَّدِّ وَلَا يَتَوَقَّفُ عَلَى الْقَبُولِ فَكَانَ تَمْلِيكًا مِنْ وَجْهٍ إسْقَاطًا مِنْ وَجْهٍ: ترجمہ:جس پر دین ہو اس کو دین ہبہ کرنا براءت ہے اس لیے کہ یہ رد کرنے سے رد ہوجاتی ہے اور قبول کرنے پر موقوف نہیں ہوتی پس یہ ایک اعتبار سے تملیک اور ایک اعتبار سے اسقاط ہے۔(العنایۃ شرح الھدایۃ ،جلد:9،صفحہ:54،دارالفکر لبنان)
المبسوط للسرخسی میں ہے: مَنْ مَلَكَ دَيْنًا عَلَيْهِ: سَقَطَ ذَلِكَ عَنْهُ، وَالسَّاقِطُ يَكُونُ مُتَلَاشِيًا، فَلَا يَتَحَقَّقُ الرُّجُوعُ فِيهِ۔ ترجمہ:جو دین اس کے ذمہ تھا وہ اس کا مالک ہوگا تو وہ دین اس سے ساقط ہوگیا اور سا قط معدوم ہوتا ہے پس اس میں رجوع متحقق نہیں ہوسکتا۔(المبسوط للسرخسی،جلد:12،صفحہ:83،دار المعرفۃ بیروت)
کسی کا مال ناحق کھانے اورکسی کا حق دبانے کے حوالے سےقرآن وحدیث میں شدید مذمت آئی ہے ،چناچہ فرمان باری تعالٰی ہے: : یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَکُمْ بَیۡنَکُمْ بِالْبٰطِلِ :ترجمہ: اے ایمان والو! باطل طریقے سے آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ۔(النساء:29)
مسلم شریف کی حدیث ہے: مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ، فَقَدْ أَوْجَبَ اللهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ: ترجمہ: جس شخص نے قسم کی وجہ سے کسی مسلمان شخص کا حق دبا لیا تو بِلاشُبَہاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ا س کے لئے جہنم کو واجب کردیااور اس پر جنّت حرام کردی۔عرض کی گئی:یارسولَ اللہ ﷺ!اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ ارشاد فرمایا : اگر چہ وہ پیلو کی مسواک ہی ہو۔ (صحیح مسلم،رقم:137)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:24ذو القعدۃ4144 ھ/13جون2023 ء