سوال
میرا نام محمد سمیع ہے اور میری بیٹی کا نام مریم سمیع ہے ۔ہم نے اپنی بیٹی کی شادی ستمبر 2021 کو کی ۔ اور وہ لندن چلی گئی بہت ساری وجوہات کے بعد مریم کو 2 جنوری 2022کو طلاق ہوگئی اور وہ9 جنوری کو پاکستان آگئی ۔ہمارے دور کے رشتے دار کے یہاں سے رشتے کا پیغام آیا اور ہم نے مریم کا نکاح چار مارچ 2022 کو کردیا اور عدت پوری نہیں کی اور اس کو صرف 2 حیض آئے ۔نکاح کے ایک ہفتے کے بعد تیسرا حیض آیا ۔ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بتائیے کہ یہ نکاح ہوا ہے یا نہیں؟ اور یہ صرف نکاح ہوا ہے رخصتی نہیں ہوئی ۔نیز لڑکا یہ بات جانتا تھا کہ لڑکی کی عدت ابھی پوری نہیں ہوئی ہے۔
سائل:سمیع:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مستفسرہ میں لڑکی کی عدت مکمل نہ ہونے کی صورت میں یہ نکاح سرے سے ہی باطل ہے ۔اورپہلے والے نکاح کی عدت پوری ہونے کی وجہ سے لڑکی جہاں چاہے وہاں نکاح کرسکتی ہے ۔اور اس دوسرے نکاح کی کوئی عدت بھی نہیں ہے۔
مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ شریعت مطہرہ میں جس طرح کسی دوسرے کی منکوحہ (شادی شدہ)سے نکاح حرام ہے ،اسی طرح کسی اور کی معتدہ (عدت والی )سے بھی نکاح سخت ناجائز و حرام ہے۔نیز اگر نکاح کرنے والے کو اس عورت کا معتدہ ہونا معلوم ہو پھر تو یہ نکاح سرے سے ہی باطل ہے۔مرد اور عورت پر لازم ہے کہ وہ اگر ساتھ رہ رہے ہوں تو فوراً جد ہوجائیں اورعورت پر اس نکاح کی کوئی عدت بھی نہیں ہوگی ۔ پھر اگر پہلے والے شوہر کی عدت باقی ہے تو اسے پورا کرکے اسی شخص سے یا پھر جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔اور اگر عدت مکمل ہوچکی ہے تو اسی وقت بشمول اس شخص کے جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے۔
اور اگر نکاح کرنے والے کو عورت کا معتدہ ہونا معلوم نہ ہو تو پھریہ نکاح فاسد ہوا ۔اور اگر ہمبستری نہیں ہوئی تو عدت کی ضرورت نہیں لیکن متارکہ ضروری ہے یعنی یا تو مرد عورت کے متعلق کہہ دے کہ میں نے تجھے یا اسےچھوڑدیا یا پھر عورت اس طرح کہہ دے کہ میں اس سے یا تجھ سے جد ا ہوئی ۔ لیکن اگر ہمبستری ہوئی ہے تو متارکہ کے بعد عورت عدت بھی گزارے گی۔پھر اگر اسی شخص سے نکاح کرنا ہے توعدت کے دوران بھی کرسکتی ہےبشرط یہ کہ پہلے شوہر کی عدت مکمل ہوچکی ہو ۔ لیکن کسی دوسرے سےنکاح کے لیے عدت گزارنا ضروری ہے۔
علامہ سید ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:اما نکاح منکوحۃ الغیر ومعتدتہ فالدخول فیہ لایوجب العدۃ ان علم انھا للغیر لانہ لم یقل احد بجوازہ فلم ینعقد اصلا ۔ترجمہ:غیر کی منکوحہ یا غیر کی معتدہ سے نکاح کرنا ،پھر دخول کرنا،اس سے عدت لازم نہیں ہوگی جب کہ اسے معلوم ہو کہ عورت غیر کی ہے کیونکہ اس نکاح کے جواز کا کوئی بھی قائل نہیں ہے لہذا یہ نکاح ہی اصلاً منعقد نہ ہوا۔ (ردالمحتار , مطلب فی النکاح الفاسد،جلد 03 صفحہ132دار الفکر بیروت)
اعلی حضرت امام احمد رضاخان علیہ الرحمہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:اگربکر نے یہ جان بوجھ کر کہ ابھی عورت عدت میں ہے اس سے نکاح کرلیا تھا جب تو وہ نکاح نکاح ہی نہ ہوا زنا ہوا، تو اس کے لئے اصلاً عدت نہیں اگرچہ بکر نے صدہا بار عورت سے جماع کیا ہوکہ زنا کاپانی شرع میں کچھ عزت ووقعت نہیں رکھتا عورت کو اختیار ہے جب چاہے نکاح کرلے۔
مزید لکھتے ہیں :اور اگر بکر نے انجانی میں نکاح کیا تو یہ دیکھیں گے کہ اس چار برس میں ا س نے عورت سے کبھی جماع کیا ہے یانہیں، اگر کبھی نہ کیا تو بھی عدت نہیں، بکر کے چھوڑتے ہی فوراً جس سے چاہے نکاح کرلے، ففی البحر فی امثلۃ النکاح فسد ولم یبطل نکاح المعتدۃ الخ وقیدہ الشامی بما اذالم یعلم بانھا معتدۃ لما مرعن البحر،بحر میں ایسے نکاح جو فاسد ہو ں مگر باطل نہ ہو ں کی مثالوں میں غیر کی معتدہ کا نکاح ذکر کیا ہے ۔اھ اور علامہ شامی نے اس کو غیر کی معتدہ کا علم نہ ہونے کے ساتھ مقید کیا ہے جیساکہ بحر کے حوالے سے گزرا ،
اسی میں رقم طراز ہیں :اور جو ایک بار بھی جماع کرچکا ہے تو جس دن بکر نے چھوڑ ا اس دن سے عورت پر عدت واجب ہوئی جب تک اس کی عدت سے نہ نکلے دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی۔(فتاوی رضویہ جلد13،صفحہ302،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 02جمادی الآخر4144 ھ/26دسمبر2022 ء