سوال
ایک گھر میں دو بیٹیاں ہیں ایک بیٹی کو اس کے شوہر نے تین طلاقیں ایک مجلس میں دے دیں اور اب اہل حدیث سے فتوی لا کر وہ بیوی کو واپس لے جانا چاہتا ہے۔جس پر بیٹی کے گھر والے بھی آمادہ ہونے لگے تو دوسری بیٹی کے شوہر نے کسی دار الافتاء سے فتوی لیااور وہاں انھیں فتوی ملا کہ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو ان سے تعلقات ختم کردینے چاہیئے تو اب یہ فتوی کی بنیاد پر دوسری بیٹی کے شوہر نے یہ کہہ دیا کہ : میں اپنے سسرال والوں سے تعلق توڑ دوں گا اور اپنی بیوی کو بھی طلاق دے دوں گا ۔کیا اس شخص کا یہ کام کرنا درست ہےیعنی اپنی بیوی کو طلاق دینا؟
سائل:عبد اللہ:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مستفسرہ میں تعلق توڑنے کا جو حکم بیان کیا گیا وہ درست ہے کہ حرام کام پر راضی ہونا یہ ناجائز اور حرام ہے اور کبھی کبھی یہ کفر بھی ہوتا ہے لہذا ایسے لوگوں سے تعلق نہیں رکھنا چاہئیے چناچہ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں : یُونہی وُہ جو اس سے نکاح پر راضی ہوئے، نکاح نہیں زنا پر راضی ہوئے۔والرضا بالحرام حرام وقد یکون کفرا والعیاذاباﷲ تعالٰی۔حرام فعل پر رضاحرام ہے،اور کبھی یہ رضا کفر ہوتی ہے۔والعیاذ باﷲ تعالٰی۔ان سب سے مسلمانوں کو میل جول منع ہے،قال تعالٰی : وامّا ینسینک الشیطٰن فلاتقعد بعدالذکرٰی مع القوم الظٰلمین ترجمہ:خبردار شیطان تجھے بُھلا دیتا ہے یاد ہونے پرظالموں کے پاس مت بیٹھو۔ اُن سے میل جول کرنے والے اگر اُس نکاح پر راضی یا اُسے ہلکا جانتے ہیں تو اُن کےلئے بھی یہی حکم ہے۔(فتاویٰ رضویہ کتاب النکاح جلد 12 ص 398رضا فاؤنڈیشن لاہور )
لیکن شوہر کا بغیر کسی مہلت کےاپنی بیوی کو طلاق دینا درست نہیں یعنی اگر سسرال والے اپنی پہلی بیٹی کو واپس سابقہ شوہر کے پاس بھیجتے ہیں تو شوہر اپنی زوجہ کو تنبیہ کر دے کہ تم اپنے گھر والوں سے کوئی تعلق نہیں رکھوگی اور اگر بیوی نہیں مانتی اور اپنے گھر والوں سے پھر بھی تعلق رکھتی ہے تو شوہر اسے سمجھائے اور بتائے کہ یہ شرعی مسئلہ ہے اس میں ہم شریعت کےپابند ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے سسرال والوں کو بھی سمجھاتا رہے کہ اب فتوٰی بھی آچکا ہے لہذا اپنی بیٹی کو نہ بھیجیں یا اگر بھیج دیا ہے تو واپس بلا لیں ۔پھر بھی سسرال والے نہیں مانتے اور بیوی بھی ان کا ہی ساتھ دیتی ہے اور ان سے تعلق ختم نہیں کرتی تو شوہربیوی اور سسرال والوں سے بات چیت، ان کے گھر آنا جانا اور میل جول بھی بند کردے اور اس اقدام کے بعد بھی بیوی نہیں مانتی تو اب شوہر طلاق کی طرف جا سکتا ہے لیکن اس میں بھی پہلے صرف ایک طلاق دے گا تاکہ بیوی سنبھل جائے اور تعلق ختم کردے ۔پھر بھی اگر نہیں مانتی تو پھر شوہر عورت کو عدت گزارنے دے تو عورت خود بخود اس کے نکاح سے نکل جائے گی ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:23رمضان المبارک4144 ھ/14اپریل2023 ء