zindagi mein wirasat taqseem karne ka masla
سوال
میری ایک جائیداد ہے ، میں اپنے بیٹے بیٹیوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہوں ،میری تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ اسکے بارے میں مجھے فتوی چاہیے کہ میں اپنے لیے کتنا رکھوں اور بچوں کو کتنا دوں ؟
سائل: امتیاز علی ،کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر جائیداد آپ کی ذاتی ملکیت ہے تو آپ اسکے مکمل مالک ہیں اور جب تک آپ بقید حیات ہیں ، کسی اولاد کا اس میں کوئی حق نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس جائیداد کی تقسیم کا مطالبہ کر سکتا ہے۔البتہ اگر آپ اپنی زندگی میں ہی اپنی اولادکے درمیان تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں،اور یہ تقسیم ، وراثت کی تقسیم نہیں بلکہ آپ کی طرف سے اولاد کے لیے ھبہ و گفٹ ہوگا۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے آپ اپنے لیے اور اپنی زوجہ کے لیے(اگر زوجہ موجود ہیں تو) جتنا مناسب سمجھیں رکھ سکتے ہیں ،اس کے بعد جو بچے وہ سارا مال سب اولاد خواہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں سب کوبرابر برابر دے دیا جائے۔ لیکن اگر کسی خاص وجہ سے مثلاًاولاد میں سے کوئی عالم دین یا خدمت گذار ہے اسے دوسروں سے زیادہ دیدے تو یہ بھی جائز ہے، بلا وجہ شرعی کسی ایک کو دوسری اولاد سے زیادہ دینا گناہ ہے۔
البحر الرائق میں ہے:"يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ":ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکرہ ہے،لیکن اگر کسی دینی فضیلت کیوجہ سے دے تو جائز ہے اور اگر سارا مال اولاد میں سے کسی ایک کو دیا تو قضاء جائز ہے لیکن دینے والا گنہگار ہو گا ۔( البحر الرائق کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ،ج:7،ص:288)
خلاصہ یہ ہے کہ آپ اپنی جائیداداپنی سب اولاد میں برابر برابر تقسیم کردیں ، اور کسی خاص وجہ سے زیادہ دینا چاہیں تو وہ بھی دے سکتے ہیں ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:28 شوال المکرم 1440 ھ/02 جولائی 2019 ء