zindagi mein wirasat ki taqseem aur bete ko makaan bechne ka hukm
سوال
زید کی ذاتی ملکیت میں ایک مکان، دو دکان جس میں سے ایک کرائے پر اور ایک میں بڑالڑکا کاروبار چلارہا ہے ۔ بیٹوں میں سے صرف چھوٹے لڑکے کا ماں پاب اور بہن بھائیوں کے ساتھ تقریبا 20 سال سے تعاون ہے ۔ جو کہ 6 ماہ سے رکا ہوا ہے ۔ زید کے اس بیٹے کی ملکیت میں ایک مکان اور ذاتی کاروبار ہے ۔ زید اپنی زندگی میں اپنے وارثوں کا شرعی حصہ دینا چاہتا ہے ؟ اور یہ بھی چاہتا ہے کہ اپنا مکان چھوٹے بیٹے کو فروخت کردوں کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
سائل:محمد علی:کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
زید اگر زندگی میں مکان وغیرہ اپنی اولاد کے مابین تقسیم کرنا چاہے تو شرعا اجازت ہے۔لیکن یہ تقسیم از قبیل ھبہ و گفٹ ہوگی ،ازقبیل وراثت نہیں ہوگی۔کیونکہ وراثت کسی شخص کے مال کی وہ تقسیم کہلاتی ہے جواسکی وفات کے بعد تقسیم کیا جائے۔زندگی میں جو کچھ دیا جائے وہ ھبہ و گفٹ کہلاتا ہے۔
زندگی میں اپنا مال اولاد کے مابین تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے لیے جتنا مناسب سمجھیں اتنا مال و متاع اپنے پاس رکھ لے،اور اسکے بعد جو بچے وہ تمام بیٹوں اور بیٹیوں کے مابین برابر برابر تقسیم کر دے ۔اور اگر کسی خاص وجہ سے کسی ایک کو دوسری کے مقابلے میں ذیادہ دیں تو اس میں حرج نہیں جبکہ دوسری کو ضرر پہنچانے کی نیت سے نہ ہو ،مثلاً کوئی زیادہ خدمت گذار ہے ،یا دوسری کے مقابلے میں زیادہ دین دار یا حاجت مند ہے تو اسے زیادہ دینا بھی جائز ہے۔البتہ بلا وجہ شرعی ایک کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دینا مفتی بہ قول کے مطابق مکروہ ہے۔بزازیہ میں ہے: لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ ترجمہ:اگر اولاد میں سے بعض کو زیادہ دے ان بعض کی نیکی کی بناء پر تو کوئی حرج نہیں ہے، اور سب مساوی ہوں تو پھر ایسا نہ کرے۔(فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الفصل الاول جلد6 صفحہ 237)
امام طحاوی علیہ الرحمہ حاشیہ در مختار میں لکھتے ہیں: یکرہ ذٰلک عند تساویھم فی الدرجۃ کما فی المنح والہندیۃ ترجمہ:اور درجہ میں اولاد کے برابر ہونے کی صورت میں (کسی کو زیادہ دینا) مکروہ ہے، جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے ۔(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ جلد3 صفحہ 399 دار المعرفہ بیروت)
البحر الرائق میں ہے:'' يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ كَذَا فِي الْمُحِيطِ''ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکروہ ہے۔مگر کسی دینی فضیلت کی وجہ سے زیادہ دے تو جائز ہے۔ اور اگر سارا مال کسی ایک کو دیدے تو جائز ہے لیکن گنہ گار ہوگا۔( البحر الرائق کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ ج 7 ، ص:288 الشاملہ)
چوٹھے بیٹے کو مکان فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:01 رمضان المبارک 1442 ھ/14 اپریل 2021 ء