zindagi mein makaan aur paise de diye
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ میرے والد اور والدہ کا انتقال ہوچکا ہے آج سے کئی برس پہلے ان کے دو فلیٹ تھے جس میں سے ایک فلیٹ انہوں نے اپنی زندگی میں اپنے ایک بیٹے کے نام کردیا ۔ اور اسکا قبضہ بھی اسی کو دے دیا تھا۔والد کی وفات کے بعد اب ا س میں کسی وارث کا حق ہے یا نہیں؟ اب ایک فلیٹ ہےجسکو بیچا گیا ہے اس کی قیمت 25 لاکھ روپے ہے،وہ وراثت میں کیسے تقسیم ہوگا ۔ ورثاء میں ابھی دو بیٹے جاوید، عبدالعزیز،اور دو بیٹیاں زاہدہ اور رخسانہ ہیں ۔ ایک بیٹی کا انتقال والد صاحب کی وفات کے بعد ہوچکا ہے جسکا نام مریم ہے ، اسکے شوہر کا ان سے پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا۔ ان کے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ وراثت کیسے تقسیم ہوگی۔
سائل:عبد العزیز: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا تو جو فلیٹ ایک بھائی کو دے کر قبضہ دیا وہ خاص انکی ملکیت ہے اس میں کسی اور کا کوئی حق نہیں ہے البتہ دوسرے فلیٹ کی قیمت میں انکے سمیت تمام ورثاء شرعی حقدار ٹھہریں گے ۔جس کی تفصیل یہ ہے کہ کل رقم کے 28 حصے کیے جائیں گے جس میں سے جاویداور عبدالعزیز کو آٹھ،آٹھ حصے ملیں گے۔ زاہدہ اور رخسانہ کو چار ،چار حصے ملیں گے۔اور مریم کا چونکہ انتقال ہوچکا ہے اس لئے انکا حصہ انکے بیٹے اور بیٹیوں میں تقسیم ہوگا جس میں ہر بیٹے کو دو حصے اور بیٹیوں کو ایک ،ایک حصہ ملے گا۔
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے : تتم الھبۃ بالقبض الکامل ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)
عالمگیریہ میں ہے : لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاولنورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)
مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے :
لڑکے اور لڑکیوں کے حصے کے بارے میں فرمایا، قال اللہ تعالیٰیُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔السراجی فی المیراث ص19میں ہےومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
نوٹ : رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل رقم کو اوپر ذکر کردہ کل حصوں یعنی 28 پر تقسیم کردیا جائے جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصہ میں ضرب دے دیں اس طرح کل وراثت سے ہر ایک کا حصہ معلوم ہوجائے گا ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاريخ اجراء:23 شوال المکرم 1440 ھ/27 جون 2019 ء