زندگی میں وراثت کی تقسیم کا مسئلہ

    zindagi mein wirasat ki taqseem ka masla

    تاریخ: 18 اپریل، 2026
    مشاہدات: 10
    حوالہ: 1161

    سوال

    میں پچھلے چار سال سے فالج کے مریض میں مبتلاء ہوں ،اور اپنی شریک حیات کے ساتھ رہائش پذیر ہوں ، میری شریک حیات کی خواہش ہے کہ میں اپنی جائیداد اپنی زندگی میں ہی تقسیم کردوں ،میرے دو بیٹے دوبیٹیاں ہیں جوکہ شادی شدہ ہیں ۔ ان میں تقسیم کس طرح ممکن ہے رہنمائی فرمادیں اور میں اور میری بیوی کتنا رکھیں ؟ آگاہ فرمادیں ۔

    سائل: محمد حنیف خان: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    سب سے پہلے یہ بات یاد رکھیں کہ شرعی اصطلاح میں وراثت اس جائیداد کو کہا جاتا ہے جو انسان چھوڑکر مرتا ہے، اور وہ اس وقت اسکے موجود ہ ورثاء میں تقسیم ہوتی ہے۔اس کو ترکہ بھی کہا جاتا ہے۔التعریفات ص 42 میں ترکہ کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے:ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغيربعينه : ترجمہ: ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا ۔

    لہذا اگر جائیداد آپ کی ذاتی ملکیت ہے تو آپ اسکے مکمل مالک ہیں اور جب تک آپ بقید حیات ہیں ، کسی اولاد کا اس میں کوئی حق نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس جائیداد کی تقسیم کا مطالبہ کر سکتا ہے۔البتہ اگر آپ اپنی زندگی میں ہی اپنی اولادکے درمیان تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں،اور یہ تقسیم ، وراثت کی تقسیم نہیں بلکہ آپ کی طرف سے اولاد کے لیے ھبہ و گفٹ ہوگا۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے آپ اپنے لیے اور اپنی زوجہ کے لیے جتنا مناسب سمجھیں رکھ سکتے ہیں ،اس کے بعد جو بچے وہ سارا مال سب اولاد خواہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں سب کوبرابر برابر دے دیا جائے۔ لیکن اگر کسی خاص وجہ سے مثلاًاولاد میں سے کوئی عالم دین یا خدمت گذار ہے اسے دوسروں سے زیادہ دیدے تو یہ بھی جائز ہے، بلا وجہ شرعی کسی ایک کو دوسری اولاد سے زیادہ دینا گناہ ہے۔

    البحر الرائق میں ہے:"يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ":ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکرہ ہے،لیکن اگر کسی دینی فضیلت کیوجہ سے دے تو جائز ہے اور اگر سارا مال اولاد میں سے کسی ایک کو دیا تو قضاء جائز ہے لیکن دینے والا گنہگار ہو گا ۔( البحر الرائق کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ،ج:7،ص:288)

    خلاصہ یہ ہے کہ آپ اپنی جائیداداپنی سب اولاد میں برابر برابر تقسیم کردیں ، اور کسی خاص وجہ سے زیادہ دینا چاہیں تو وہ بھی دے سکتے ہیں ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:13 جمادی الثانی 1440 ھ/18 فروری 2019 ء