zindagi mein maal ki taqseem karna kaisa
سوال
میرا نام شکیلہ ہے ،میرا ایک گھر ہے جس کی قیمت 75 لاکھ روپے ہے۔ میرے 7 بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں ۔ برائے مہربانی مجھے تفصیلا شرعی طور پر ہر ایک کا وراثت میں حصہ بتادیں،یعنی ایک بیٹے کا کتنا حصہ ہوگا ؟ ایک بیٹی کا کتنا حصہ ہوگا؟ اور میرا خود کتنا حصہ ہوگا؟۔
سائلہ شکیلہ بیگم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شرعی اصطلاح میں وراثت یا میراث اس جائیداد اور مال کہتے ہیں جو کوئی شخص چھوڑکر مرتا ہے، اور اس وقت موجود ہ ورثاء میں تقسیم ہوتی ہے۔
التعریفات ص 42 میں ترکہ کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے:ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغيربعينه : ترجمہ: ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا
اگر گھر آپ کی ذاتی ملکیت ہے تو آپ اپنے گھر کی مکمل مالک ہیں اور جب تک آپ بقید حیات ہیں آپ کے کسی وارث کا اس میں کوئی حق نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس جائیداد کی تقسیم کا مطالبہ کر سکتا ہے۔البتہ اگر آپ اپنی زندگی میں ہی اپنے بیٹوں اور بیٹیوں درمیان تقسیم کرنا چاہتی ہیں تو کر سکتی ہیں لیکن یہ شرعا ََتقسیم میراث نہیں بلکہ گفٹ یا ہبہ کہلائے گا تواس میںبہتر یہ ہے کہ سب اولاد لڑکے ،لڑکی کوبرابر برابر دیا جائے لیکن اگر وراثت کے تناسب سے یعنی لڑکے کو دو حصہ اور لڑکی کو ایک حصہ دیا جائے تو یہ بھی جائز ہے، اور کسی خاص وجہ سے مثلاً کوئی اولاد زیادہ غریب، یا دین دار یا خدمت گذار ہے اس لیے اسے زیادہ دیدے یہ بھی جائز ہے۔
البحر الرائق شرح کنز الدقائق کتاب الفرائض باب یبدأ من ترکۃ المیت جلد 8ص557میں ہے:وَأَمَّا بَيَانُ الْوَقْتِ الَّذِي يَجْرِي فِيهِ الْإِرْثُ فَنَقُولُ هَذَا فَصْلٌ اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ قَالَ مَشَايِخُ الْعِرَاقِ الْإِرْثُ يَثْبُتُ فِي آخِرِ جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ حَيَاةِ الْمُوَرِّثِ وَقَالَ مَشَايِخُ بَلْخٍ الْإِرْثُ يَثْبُتُ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ:ترجمہ:وہ وقت کہ جس میں وراثت جاری ہوتی ہے ، اس میں ہمارے علماء کا اختلاف ہے ،عراق کے علماء فرماتے ہیں کہ
وراثت اس وقت ثابت ہوگی جب میت کی زندگی کا آخری لمحہ ہو ،اور بلخ کے علماء فرماتے ہیں کہ مورث (جسکی وراثت ہے) کی موت کے بعد وراثت ثابت ہوگی۔
یوںہی شامی کتاب الفرائض ج6 ص758 میں ہے:وَشُرُوطُهُ: ثَلَاثَةٌ: مَوْتٌ مُوَرِّثٍ حَقِيقَةً، أَوْ حُكْمًا كَمَفْقُودٍ، :ترجمہ: اور وراثت کی تین شرطیں ہیں ۔ پہلی شرط یہ مورث کی موت ہے ، حقیقتاََ مر جائے یا حکماََ جیسے مفقود شخص ۔
خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی زندگی میں آپکی جائیداد میں وراثت جاری نہیں ہوگی ، مگر آپ چاہیں تو تقسیم کر سکتی ہیں ، لیکن یہ شرعا ََتقسیم میراث نہیں بلکہ گفٹ یا ہبہ کہلائے گا، اور اس میں یہ بھی ضروری نہیں کہ بیٹے کو بیٹی سے دگنا دیا جائے ، برابر بھی دے سکتی ہیں ۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی