zindagi mein zarai zameen ki taqseem ka hukum
سوال
میری دوشادیاں ہیں ، اور دونوں بیویوں کا انتقال ہوچکا ہے، میرے کل پانچ بیٹے اور چھ بیٹیاں ہیں ۔ میری زرعی زمین تین حصوں میں ہے ایک چھ ایکڑ، دوسرا سات ایکڑ اور بتیس گھُنٹے اور تیسری بھی چھ ایکڑ۔ میرا ایک بیٹا نور محمد میرا خدمت گزار ہے اور ہر طرح کا تعاون و مدد کرتا ہے میرے سارے گھریلو اور باہر کے معاملات بھی دیکھتا ہے ۔ میں اسکو چھ ایکڑ والا مکمل ٹکڑا دینے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔ اور بقیہ تمام اولاد کے مابین تقسیم کرنا چاہتا ہوں تاکہ بعد میں کسی قسم کا کوئی فساد وغیرہ نہ ہو۔شرعی اعتبار سے کیسےتقسیم ہوگی، رہنمائی فرمادیں۔
سائل:حاجی حمزہ : گھارو
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مکان ، زرعی زمین وغیرہ آپ کی ملکیت میں جتنی چیزیں ہیں وہ سب خالصتا ً آپ کی ہیں ،زندگی میں ان چیزوں کو اولاد کے مابین تقسیم کرنا شرعاً ضروری نہیں بلکہ جب تک بقیدِ حیات ہیں ،اولاد ان چیزوں کو لینے کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتی۔اور اگر مطالبہ کرے تو بھی اسے پورا کرنا لازم نہیں ہے۔
البتہ اگراپنی خوشی سے اولادکے درمیان یہ زرعی زمین تقسیم کرنا چاہیں تو اسکا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے لیے جتنا مناسب سمجھیں اتنا مال و متاع رکھ لیں،اور اسکے بعد جو کچھ بچے وہ تمام بیٹوں اور بیٹیوں کے مابین برابر برابر تقسیم کر دیں۔
لیکن اگر کسی خاص وجہ سے کسی ایک کو دوسری کے مقابلے میں زیادہ دینا چاہیں تو اس میں حرج نہیں جبکہ دوسری اولادکو ضرر پہنچانے کی نیت سے نہ ہو ،مثلاً کوئی زیادہ خدمت گزار ہے ،یا دوسری اولاد کے مقابلے میں زیادہ دین دار یا حاجت مند ہے تو اسے زیادہ دینا بھی جائز ہے۔البتہ بلا وجہ شرعی ایک کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دینا مفتی بہ قول کے مطابق مکروہ ہے۔
لیکن یاد رہے یہ تقسیم کاری از قبیل ِوراثت نہیں ہو گی بلکہ ھبہ کے طور پر ہوگی، کیوں کہ وراثت یا ترکہ اس مال کو کہتے ہیں جو کسی شخص کے مرنے بعد اسکے ورثا کو ملتا ہے۔اور زندگی میں اولاد کو جو چیز بلا عوض دی جائے وہ ہبہ (gift) ہے۔اور ھبہ میں قبضہ کاملہ شرط لازم ہے لہذا تقسیم کے لئے ضروری ہے کہ وقتِ تقسیم ہر ایک کو جتنا دینا ہے وہ الگ و جدا کرکے اسے قبضہ دے دیں ۔تاکہ قبضہ کاملہ کا تحقق ہوجائے۔
ھبہ میں اولاد کو ایک دوسرے پر فضیلت کے حوالے سے بزازیہ میں ہے: لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ ترجمہ:اگر اولاد میں سے بعض کو زیادہ دے ان بعض کی نیکی کی بناء پر تو کوئی حرج نہیں ہے، اور سب مساوی ہوں تو پھر ایسا نہ کرے۔(فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الفصل الاول جلد6 صفحہ 237)
امام طحاوی علیہ الرحمہ حاشیہ در مختار میں لکھتے ہیں: یکرہ ذٰلک عند تساویھم فی الدرجۃ کما فی المنح والہندیۃ ترجمہ: اور درجہ میں اولاد کے برابر ہونے کی صورت میں (کسی کو زیادہ دینا) مکروہ ہے، جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے ۔(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ جلد3 صفحہ 399 دار المعرفہ بیروت)
البحر الرائق میں ہے: يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ كَذَا فِي الْمُحِيطِ۔ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکروہ ہے۔مگر کسی دینی فضیلت کی وجہ سے زیادہ دے تو جائز ہے۔ اور اگر سارا مال کسی ایک کو دیدے تو جائز ہے لیکن گنہ گار ہوگا۔( البحر الرائق کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ ج 7 ، ص:288 الشاملہ)
ہبہ کی تعریف کے حوالے سے علامہ محمد بن فرامرز المعروف ملا خسرو علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:(تَمْلِيكُ عَيْنٍ بِلَا عِوَضٍ) أَيْ بِلَا شَرْطِ عِوَضٍ لَا أَنَّ عَدَمَ الْعِوَضِ شَرْطٌ فِيهِ۔ترجمۃ: کسی چیز کا( دوسرے کو )بلا عوض ( بغیر عوض کی شرط کے )مالک کردینا ہبہ کہلاتا ہے ،نہ یہ کہ عوض کا نہ ہونا شرط ہو ۔ (درر الحكام شرح غرر الأحكام جلد 2 صفحہ 217 دار إحياء الكتب العربية)
ھبہ کے حوالے سے تنویرالابصار میں ہے:وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)۔ ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ) کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں) اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو۔( تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688 )
مشاع چیز کے ھبہ کی بابت بدائع الصنائع میں ہے :لِأَنَّ هِبَةَ الْمُشَاعِ فِيمَا يَحْتَمِلُ الْقِسْمَةَ لَا تَصِحُّ فَلَمْ يَثْبُتْ الْمِلْكُ رَأْسًا۔ ترجمہ:کیونکہ مشاع کا ہبہ ان چیزوں میں جو تقسیم ہوسکتی ہیں صحیح نہیں ہے ، لہذا ملکیت اصلا ثابت نہ ہوگی۔( بدائع الصنائع کتاب الطہارۃ فصل فی بیان ما ینتقض التیمم جلد 1ص57)
سیدی اعلٰی حضرت قبضہ کاملہ کی وضاحت یوں فرماتے ہیں :قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو (یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام) اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الھبہ جلد 19 ص 221 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
خلاصہ یہ ہے کہ جس بیٹے کو بسبب خدمت گزاری کے 6 ایکڑ دینا چاہتے ہیں اسے قبضہ کاملہ کے طور پر دے دیں اور مابقی تمام اولاد میں برابر برابر تقسیم کرکے انہیں بھی قبضہ کاملہ دے دیں۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:04 جمادی الاولٰی 1443 ھ/09 دسمبر 2021 ء