زندگی میں وراثت کی تقسیم کا طریقہ

    zindagi mein wirasat ki taqseem ka tareeqa

    تاریخ: 18 اپریل، 2026
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 1160

    سوال

    زندگی میں وراثت کی تقسیم کا کیا طریقہ ہے؟سب بیٹے بیٹیوں میں برابر ،برابر تقسیم کرنی ہوگی یا وراثت کے اعتبار سے؟ وراثت میں مکان وغیرہ کا کیا حکم ہے؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

    سائل: بنتِ حوا:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مکان وغیرہ جو کچھ ہے جتنی چیزیں ہیں وہ خاص آپکی ملکیت ہیں ،زندگی میں آپ پر ان چیزوں کو اولاد کے مابین تقسیم کرنا شرعاً ضروری نہیں،جب تک بقیدِ حیات ہیں ،اولاد ان چیزوں کو لینے کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔اور اگر مطالبہ کرے تو اسے پورا کرنا آپ پر ضروری نہیں ۔البتہ اگر اپنی خوشی سے اولادکے درمیان تقسیم کرنا چاہتی ہوں تو کر سکتیں ہیں۔لیکن یہ تقسیم از قبیل ِوراثت نہیں ہو گی ، بلکہ از قبیلِ ھبہ ہوگی ،کیونکہ وراثت یا ترکہ اس مال کو کہتے ہیں جو کسی شخص کے مرنے بعد اسکے ورثا کو ملتا ہے ۔اور زندگی میں اولاد کو جو چیز بلا عوض دی جائے وہ ہبہ (gift) ہے۔

    ہبہ کی تعریف کے حوالے سے علامہ محمد بن فرامرز المعروف ملا خسرو علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:(تَمْلِيكُ عَيْنٍ بِلَا عِوَضٍ) أَيْ بِلَا شَرْطِ عِوَضٍ لَا أَنَّ عَدَمَ الْعِوَضِ شَرْطٌ فِيهِ۔ترجمۃ: کسی چیز کا( دوسرے کو )بلا عوض ( بغیر عوض کی شرط کے )مالک کردینا ہبہ کہلاتا ہے ،یعنی اسمیں عوض کا ہونا شرط و ضروری نہیں ۔ (درر الحكام شرح غرر الأحكام جلد 2 صفحہ 217 دار إحياء الكتب العربية)

    زندگی میں اولاد کے مابین جائیداد وغیرہ تقسیم کرنا چاہیں تو اسکا طریقہ یہ ہے کہ جتنا مناسب سمجھیں اتنا مال و متاع اپنے پاس رکھ لیں، اسکے بعد جو بچے وہ تمام بیٹے اور بیٹیوں کے مابین برابر برابر تقسیم کر دیں ۔اور اگر کسی خاص وجہ سے کسی ایک کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دیناچاہیں تو اس میں حرج نہیں جبکہ دوسرے کو ضرر پہنچانے کی نیت سے نہ ہو ،مثلاً کوئی زیادہ خدمت گذار ہے ،یا دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دین دار یا حاجت مند ہے تو اسے زیادہ دینا بھی جائز ہے۔البتہ بلا وجہ شرعی ایک کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دینا مفتی بہ قول کے مطابق مکروہ ہے۔ صحیحین میں حدیث پاک ہے:عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا، فَقَالَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ» ، قَالَ: لاَ، قَالَ ''فَارْجِعْهُ''۔ ترجمہ:نعمان بن بشیررضی اللہ عنہمانےکہاان کےوالدانہیں رسول اللہﷺکی خدمت میں لائےاورعرض کیاکہ میں نےاپنےاس بیٹےکوایک غلام بطورہبہ دیاہے۔آپﷺنےدریافت فرمایا،کیاایساہی غلام اپنےدوسرےلڑکوں کو بھی دیاہے؟انہوں نےکہانہیں،توآپ نےفرمایاکہ پھر(ان سےبھی)واپس لےلے۔(بخاری،باب الھبۃ للولد حدیث نمبر 2586،مسلم ،باب کراہیۃ تفضیل بعض الاولاد حدیث نمبر 1623)

    بزازیہ میں ہے: لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشدا لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ ترجمہ:اگر اولاد میں سے بعض کو زیادہ دے ان بعض کی نیکی کی بناء پر تو کوئی حرج نہیں ہے، اور سب مساوی ہوں تو پھر ایسا نہ کرے۔(فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الفصل الاول جلد6 صفحہ 237)

    امام طحاوی علیہ الرحمہ حاشیہ در مختار میں لکھتے ہیں: یکرہ ذٰلک عند تساویھم فی الدرجۃ کما فی المنح والہندیۃ ترجمہ: اور درجہ میں اولاد کے برابر ہونے کی صورت میں (کسی کو زیادہ دینا) مکروہ ہے، جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے ۔(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ جلد3 صفحہ 399 دار المعرفہ بیروت)

    خلاصہ یہ ہے کہ شرعی طور پر آپ پر لازم نہیں کہ اولاد کے مابین جائیداد وغیرہ تقسیم کر دیں ۔ہاں اپنی خوشی سے بطورِ احسان تقسیم کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ، لیکن سب میں برابر برابر تقسیم کرنا ہو گی ، البتہ کسی خاص دینی وجہ سے ایک کو زیادہ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29 محرم الحرام 1443 ھ/09 ستمبر 2021 ء