زندگی میں مال کی تقسیم

    zindagi mein maal ki taqseem

    تاریخ: 18 اپریل، 2026
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 1156

    سوال

    میرے فلیٹ کی قیمت 80 سے 90 لاکھ ہے ، ہم چار لوگ ہیں دونوں میاں بیوی ایک بیٹااور ایک بیٹی ۔ ہر ایک کو کتنا ملے گا تقسیم فرمائیں۔

    سائل:اسماعیل : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب تک آپ حیات ہیں اس فلیٹ کے مکمل مالک ہیں، جیسے چاہیں تصرف کریں، فی الحال اس فلیٹ کو اولاد کے مابین تقسیم کرنا واجب نہیں ہے اور اگر اولاد میں سے کوئی مطالبہ کرے تو اسے پورا کرنا بھی ضروری نہیں پھر بھی اگر اپنی رضا و خوشی سے تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو اسکا طریقہ یہ ہے کہ کل رقم میں سے پہلے اپنے اور اپنی زوجہ کے لئے جتنا چاہیں رکھ لیں اور مابقی دونوں بچوں کے مابین برابری کی بنیاد پرتقسیم کردیں کیونکہ کہ یہ تقسیم از قبیل ِوراثت نہیں بلکہ ھبہ کے طور پر ہوگی، کیوں کہ وراثت یا ترکہ اس مال کو کہتے ہیں جو کسی شخص کے مرنے بعد اسکے ورثا کو ملتا ہے۔اور زندگی میں اولاد کو جو چیز بلا عوض دی جائے وہ ہبہ (gift) ہے۔ اور ھبہ میں تمام اولاد خواہ مذکر ہو یا مؤنث کے مابین برابری ضروی ہے۔

    ہاں ۔۔۔! اگر کسی خاص وجہ سے کسی ایک کو دوسرےکے مقابلے میں زیادہ دیں تو اس میں حرج نہیں جبکہ دوسرے کو ضرر پہنچانے کی نیت سے نہ ہو ،مثلاً کوئی زیادہ خدمت گزار ہے ،یا دوسری کے مقابلے میں زیادہ دین دار یا حاجت مند ہے تو اسے زیادہ دینا بھی جائز ہے۔البتہ بلا وجہ شرعی ایک کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دینا مفتی بہ قول کے مطابق مکروہ ہے۔ صحیحین میں حدیث پاک ہے:عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا، فَقَالَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ» ، قَالَ: لاَ، قَالَ ''فَارْجِعْهُ''۔ ترجمہ:نعمان بن بشیررضی اللہ عنہمانےکہاان کےوالدانہیں رسول اللہﷺکی خدمت میں لائےاورعرض کیاکہ میں نےاپنےاس بیٹےکوایک غلام بطورہبہ دیاہے۔ آپ ﷺنےدریافت فرمایا،کیاایساہی غلام اپنےدوسرےلڑکوں کو بھی دیاہے؟انہوں نےکہانہیں،توآپ نےفرمایاکہ پھر(ان سےبھی)واپس لے لے۔(بخاری، باب الھبۃ للولد حدیث نمبر 2586،مسلم ،باب کراہیۃ تفضیل بعض الاولاد حدیث نمبر 1623)

    ھبہ میں اولاد کو ایک دوسرے پر فضیلت کے حوالے سے بزازیہ میں ہے: لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ ترجمہ:اگر اولاد میں سے بعض کو زیادہ دے ان بعض کی نیکی کی بناء پر تو کوئی حرج نہیں ہے، اور سب مساوی ہوں تو پھر ایسا نہ کرے۔(فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الفصل الاول جلد6 صفحہ 237)

    امام طحاوی علیہ الرحمہ حاشیہ در مختار میں لکھتے ہیں: یکرہ ذٰلک عند تساویھم فی الدرجۃ کما فی المنح والہندیۃ ترجمہ: اور درجہ میں اولاد کے برابر ہونے کی صورت میں (کسی کو زیادہ دینا) مکروہ ہے، جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے ۔(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ جلد3 صفحہ 399 دار المعرفہ بیروت)

    البحر الرائق میں ہے: يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ كَذَا فِي الْمُحِيطِ۔ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکروہ ہے۔مگر کسی دینی فضیلت کی وجہ سے زیادہ دے تو جائز ہے۔ اور اگر سارا مال کسی ایک کو دیدے تو جائز ہے لیکن گنہ گار ہوگا۔( البحر الرائق کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ ج 7 ، ص:288 الشاملہ)۔

    یاد رہے یہ سارا طریقہ زندگی میں تقسیم کے حوالے سے بعد ازوصال اس وقت مووجد ورثاء کے اعتبار سے شریعت کے مقرر کردہ طریقت کے مطابق تقسیم ہوگی۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:28 شوال المکرم 1445ھ/ 07 مئی 2024 ء