زندگی میں تخارج اور ہبہ کا مسئلہ

    zindagi mein takharuj aur hiba ka masla

    تاریخ: 17 اپریل، 2026
    مشاہدات: 2
    حوالہ: 1146

    سوال

    میں اپنی زندگی میں اپنے بچوں کو تقسیم ِ وراثت کاشرعی حکم سنانا چاہتا ہوں ۔میرے والد مرحوم کے ترکے سے میرے حصے میں آدھا پلاٹ آیا تھا ۔اس پر میں نے کرائے پر دینے کےلیے گھر بنایا تھا ۔مگر میرے بڑے بیٹے کاشف انصاری نے اصرار کیا کہ یہ گھر میرے نام کردیا جائے ۔تو میں رہائشی گھر میں اپنا حصہ لینے سے بری ہوتاہوں ۔تو میں نے اس کی بات مان کر تقریباً پانچ سال پہلے وہ گھر اس کے نام ٹرانسفر کروادیا ۔ وہ مکان 50 گز کا تھا اور جس گھر میں رہائش ہے وہ 150 گز کا ڈبل اسٹوری ہے جس میں چار دکانیں بھی شامل ہیں۔میرے کل چھ بچے ہیں تین بڑی بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں ۔سب شادی شدہ ہیں اور یہ گھر میرے نام ہے ۔برائے کرم رہنمائی فرمائیں کہ بڑا بیٹا اپنا حصہ لے چکا ہے تو کیا وہ اس گھر میں حصہ دار ہے یا نہیں اور باقی مزید پانچ بچے جس میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں ان کا اس گھر میں شرعی اعتبار سے کیا حصہ ہوگا؟

    سائل:شوکت علی ا نصاری: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورت مسئولہ میں جو بڑا بیٹا مکان لے کر ترکہ سے دست برادار ہوگیا اسے شریعت کی اصطلاح میں تخارج کہا جاتا ہے اور زندگی میں تخارج باطل ہےسوائے یہ کہ مورث کے مرنے کے بعد بھی وارث اس تخارج پر راضی رہے ۔ورنہ جو وارث نے مورث کی زندگی میں مال لیا ہے اس سمیت مورث کا ما بقیہ ترکہ تمام ورثاء میں بعد وفات ِ مورث شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔

    اس کا شرعی حل یہ ہے کہ اس بیٹے کی طرح دوسری اولاد کو بھی زندگی میں مال دے دیا جائے لیکن زندگی میں اولاد کے درمیان ترکہ تقسیم کرنا والد پر لازم نہیں اور نہ ہی اولاد کا والد کی زندگی میں اپنے حصے کے مطالبہ کرنا جائز ہے ہاں اگر والد اپنی خوشی سے زندگی میں اپنی اولاد کے مابین مال تقسیم کرنا چاہے تو پھر چاہے بیٹا ہو یا بیٹی تمام ورثاء کے درمیان برابر تقسیم ہوگا۔اور یہ تقسیم بطور وراثت نہیں بلکہ بطور ہبہ ہوگی کیوں کہ وراثت یا ترکہ اس مال کو کہتے ہیں جو کسی شخص کے مرنےکے بعد اسکے ورثا کو ملتا ہے۔اور زندگی میں اولاد کو جو چیز بلا عوض دی جائے وہ ہبہ (gift) ہے۔ اوراس کا طریقہ یہ ہے کہ والد اپنے گزر بسر کے لیے کچھ مال اپنے پاس رکھے اور باقی تمام اولاد کے درمیان برابر تقسیم کردے ہاں اگر کوئی اولاد تنگ دست ہویا زیادہ خدمت گزار ہو یا پھر دین دار ہو (دینی خدمات میں مصروف ہو)تو ایسی اولاد کو زیادہ دیا جاسکتا ہے ۔لیکن اس میں بھی دوسری اولادوں کو محروم کرنے کی نیت نہ ہو۔

    اور اگر والد زندگی میں تقسیم کرنا نہیں چاہتے تو پھر والد کسی اولاد کو کچھ نہ دیں بلکہ جب والد کا وصال ہوگا اور اس وقت جو ورثاء موجود ہونگے ان کے شرعی حصص کے مطابق ترکہ سے حصہ مل جائے گا۔

    صحیحین میں حدیث پاک ہے:عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا، فَقَالَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ» ، قَالَ: لاَ، قَالَ ''فَارْجِعْهُ''۔ ترجمہ:نعمان بن بشیررضی اللہ عنہمانےکہاان کےوالدانہیں رسول اللہﷺکی خدمت میں لائےاورعرض کیاکہ میں نےاپنےاس بیٹےکوایک غلام بطورہبہ دیاہے۔ آپ ﷺنےدریافت فرمایا،کیاایساہی غلام اپنےدوسرےلڑکوں کو بھی دیاہے؟انہوں نےکہانہیں،توآپ نےفرمایاکہ پھر(ان سےبھی)واپس لے لے۔(بخاری، باب الھبۃ للولد حدیث نمبر 2586،مسلم ،باب کراہیۃ تفضیل بعض الاولاد حدیث نمبر 1623)

    ھبہ میں اولاد کو ایک دوسرے پر فضیلت کے حوالے سے بزازیہ میں ہے: لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ ترجمہ:اگر اولاد میں سے بعض کو زیادہ دے ان بعض کی نیکی کی بناء پر تو کوئی حرج نہیں ہے، اور سب مساوی ہوں تو پھر ایسا نہ کرے۔(فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الفصل الاول جلد6 صفحہ 237)

    امام طحاوی علیہ الرحمہ حاشیہ در مختار میں لکھتے ہیں: یکرہ ذٰلک عند تساویھم فی الدرجۃ کما فی المنح والہندیۃ ترجمہ: اور درجہ میں اولاد کے برابر ہونے کی صورت میں (کسی کو زیادہ دینا) مکروہ ہے، جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے ۔(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ جلد3 صفحہ 399 دار المعرفہ بیروت)

    البحر الرائق میں ہے: يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ كَذَا فِي الْمُحِيطِ۔ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکروہ ہے۔مگر کسی دینی فضیلت کی وجہ سے زیادہ دے تو جائز ہے۔ اور اگر سارا مال کسی ایک کو دیدے تو جائز ہے لیکن گنہ گار ہوگا۔( البحر الرائق کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ ج 7 ، ص:288 الشاملہ)۔

    زندگی میں تخارج باطل ہے اس کی بابت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی فرماتے ہیں : وارث سے اس کے حصہ میراث کے بابت جوصلح حیات مورث میں کی جائے تحقیق یہ ہے کہ باطل وبے اثرہے اس سے وارث کاحق ارث اصلاً زائل نہیں ہوتا۔ ہاں اگربعد موت مورث اس صلح پررضامندی رہے تو اب صحیح ہوجائے گی۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:26،صفحہ:232،رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:08 ذوالعقدہ 1445ھ/ 17 مئی 2024 ء