masla talaq ka sharai hukm
سوال
میرا نام شاہزیب ہے، میں نے کورٹ میرج کی وہاں گواہوں کی موجودگی میں، (لڑکی و لڑکا باہم کفو ہیں۔) جس کے بعد ہم کئی بار اکیلے بھی ملے اور ازدواجی تعلقات قائم کیے، لیکن ابھی لڑکی اپنے والدین کے گھر ہی رہ رہی ہے بس ہم مل لیتے تھے، موبائل پرمیسجز پر میری بیوی سے میرا جھگڑا چل رہا تھاجس میں اس نے طلاق کا تقاضا کیا میں نے انکار کردیا پھر انہوں نے زبردستی کی جسکی وجہ سے میں نے انہیں ان الفاظ سے طلاق دی اور یہ الفاظ کہے'' عائشہ بنت طارق میں اللہ کو حاضر ناضر جان کر آپکو اپنی زوجیت سے چھوڑتا ہوں'' یہ ایک بار کہنے کے بعد انہوں نے دوبار اور کہنے کا کہا لیکن میں انکار کردیا پھر انہوں نے زبردستی کی اور میں نے پھر وہی الفاظ دو بار دہرادیئے۔ یہ سب گفتگو موبائل فون پر ہوئی۔ لڑکی کا کہنا ہے موبائل پر طلاق نہیں ہوتی۔
سائل:شاہ زیب : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت مستفسرہ میں جب شوہر خود اقرار کررہا ہے کہ عورت نے طلاق کا تقاضا کیا تو میں نے جواب میں طلاق دینے کے لئے یہ الفاظ کہے تو بے شک عورت کو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، جسکے بعد عورت مرد پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے اب دونوں کے مابین رجوع کی کوئی صورت نہیں الا یہ تحلیلِ شرعی ہوجائے۔ (جسکا بیان آگے آئے گا۔)
کیونکہ مرد کے الفاظ'' عائشہ بنت طارق میں اللہ کو حاضر ناضر جان کر آپکو اپنی زوجیت سے چھوڑتا ہوں'' بابِ طلاق میں صریح ہیں جن سے تعداد کے اعتبار سے طلاق واقع ہوگی جب مرد نے تین بار کہہ دیا تو تین طلاقیں ہوگئیں، بالخصوص اس صورت میں تو کوئی احتمال ہی باقی نہیں رہتا کہ جب اس نے چھوڑنے کے ساتھ ''زوجیت سے ''کی قید لگادی ۔ لہذا بلا شک و شبہ ان الفاظ سے ضرور تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔
سیدی اعلیٰ حضرت سے اسی قسم کا ایک سوال کیا گیا کہ مرد نے یہ کلمات کہے کہ ''میرے کام کی نہ رہی، میں نےچھوڑدی، اگر آئے گی تو ناک کاٹ لُوں گاجہاں چاہے چلی جائے، جو چاہے سوکرے، اور اس کو عرصہ سال بھرسے زیادہ گزرگیا، آیا طلاق پڑی یا نہیں؟
آپ جواباًارشاد فرماتے ہیں:''عورت کو چھوڑدینا عرفاً طلاق میں صریح ہے، خلاصہ وہندیہ میں ہے: لوقال الرجل لامرأتہ تراچنگ باز داشتم او بہشتم اویلہ کردم ترااوپاے کشادہ کردم ترافھذاکلہ تفسیر قولہ طلقتک عرفا حتی یکون رجعیا ویقع بدون النیۃ ترجمہ:اگر کوئی شخص بیوی کو کہے''میں نے تیرا چنگل باز رکھا، تجھے چھوڑا، تجھے جُدا کردیا ہے یا تیرے پاؤں کھول دئے ہیں، تویہ تمام الفاظ عرفاً''تجھے طلاق دی''کے ہم معنٰی ہیں، اس لئے ان سے رجعی طلاق ہوگی اور بغیر نیت طلاق ہوگی۔(فتاوی رضویہ کتاب الطلاق جلد 13 ص 582)
حضرت صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی میں فرماتے ہیں :'' اردو میں یہ لفظ کہ '' میں نے تجھے چھوڑا''، صریح ہے اس سے ایک رجعی ہوگی، کچھ نیت ہو یا نہ ہو۔''(بہار شریعت حصہ 8جلد 2ص 116)
لڑکی کا یہ کہنا کہ فون پر طلاق نہیں ہوتی درست نہیں ہے کیونکہ ہمارے عرف میں موبائل فون وغیرہ ہی ایک دوسرے تک پیغامات پہنچانے کا ذریعہ ہیں، دیگر تمام امور میں ان آلات کے ذریعے ہی باہمی معاملات طے کئے جاتے ہیں سو اس اعتبار سے موبائل فون ، واٹساپ وائس پر کوئی بھی پیغام دینا بالمشافہ پیغام دینے کی طرح ہی ہے، جبکہ شوہر اس بات کا اقرار کرلے یا یہ تصدیق ہو جائے کہ وائس میسج شوہر ہی کا تھا اور یہاں لڑکے نے اقرار کیا ہے کہ یہ میسجز اس کے ہی ہیں ۔ لہذا یہاں مرد کے ان الفاظ سے تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں۔
واٹساپ، میسج یا سادہ کاغذ پر لکھ کر طلاق دینا '' طلاقِ مستبینہ غیر مرسومہ '' ہے، جو ضرور محتاجِ نیت ہے یعنی اگر نیت ہو تو طلاق ہوگی وگرنہ ،نہ ہوگی۔جبکہ یہاں طلاق کا اقرار موجود ہے۔
حاشیہ شامی وفتاوٰی عالمگیریہ میں ہے واللفظ لہ:الْکِتَابَۃُ عَلَی نَوْعَیْنِ: مَرْسُومَۃٍ وَغَیْرِ مَرْسُومَۃٍ، وَنَعْنِی بِالْمَرْسُومَۃِ أَنْ یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا مِثْلُ مَا یُکْتَبُ إلَی الْغَائِبِ. وَغَیْرُ الْمَرْسُومَۃِ أَنْ لَا یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا، وَہُوَ عَلَی وَجْہَیْنِ: مُسْتَبِینَۃٍ وَغَیْرِ مُسْتَبِینَۃٍ، فَالْمُسْتَبِینَۃُ مَا یُکْتَبُ عَلَی الصَّحِیفَۃِ وَالْحَائِطِ وَالْأَرْضِ عَلَی وَجْہٍ یُمْکِنُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. وَغَیْرُ الْمُسْتَبِینَۃِ مَا یُکْتَبُ عَلَی الْہَوَاء ِ وَالْمَاء ِ وَشَیْء ٌ لَا یُمْکِنُہُ فَہْمُہُ وَقِرَاء َتُہُ. فَفِی غَیْرِ الْمُسْتَبِینَۃِ لَا یَقَعُ الطَّلَاقُ وَإِنْ نَوَی، وَإِنْ کَانَتْ مُسْتَبِینَۃً لَکِنَّہَا غَیْرَ مَرْسُومَۃٍ إنْ نَوَی الطَّلَاقَ وَإِلَّا لَا، وَإِنْ کَانَتْ مَرْسُومَۃً یَقَعُ الطَّلَاقُ نَوَی أَوْ لَمْ یَنْوِ ثُمَّ الْمَرْسُومَۃُ۔ ترجمہ: کتابتِ (طلاق ) کی دو قسمیں ہیں ،(1) مرسومہ (2) غیر مرسومہ اور مرسومہ سے ہماری مراد یہ ہے کہ اس پر طلاق کاعنوان ہو جیسے کسی شخص کوخط لکھتے ہیں تو اس پر عنوان دیتے ہیں،اور غیر مرسومہ سے مراد جس پر طلاق کا عنوان نہ ہو،پھر اس (غیرمرسومہ) کی دو قسمیں ہیں۔مستبینہ اور غیر مستبینہ (یعنی واضح اور غیر واضح) مستبینہ وہ ہے جو دیوار،زمین یا کسی کاغذپر لکھ کر دی جائے کہ جسکو پڑھنا اور سمجھنا ممکن ہو، اورغیر مستبینہ وہ ہے جو پانی ،ہوا یا ایسی چیز پر لکھ کر دی جائے جس کو سمجھنا اور پڑھنا ممکن نہ ہو،پس غیر مستبینہ (یعنی اس آخری والی صورت میں) طلاق واقع نہیں ہوگی ،اگر چہ طلاق دینے کی نیت کی ہو، اور اگر مستبینہ ہو لیکن غیر مرسومہ ہو تو اگر نیت کی تو طلاق واقع ہوجائے گی اور نیت نہیں کی تو نہیں ہوگی،اور اگر طلاق مرسومہ ہو(یعنی اس پر طلاق کا عنوان ہو جیسے آج کل کا طلاق نامہ) تو نیت کرے یا نہ کرے طلاق واقع ہوجائے گی۔(حاشیہ شامی کتاب الطلاق مطلب فی الطلاق بالکتابۃ ج3ص246،عالمگیریہ کتاب الطلاق الفصل السادس فی الطلاق بالکتابۃ ج1 ص414)
طلاقیں واقع ہوتے ہی ان پر عدت لازم ہوچکی۔عدت کی تفصیل یہ ہے:طلاق یافتہ کی عدت تین حیض ،اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینے عدت ہے اور اگر عورت حاملہ ہوتو مذکورہ تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی،ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء۔ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔(البقرۃ:228)
دوسرے مقام پر ارشاد باری تعالٰی ہے: والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق: 04)
تحلیل شرعی کا طریقہ اور حکم:
تین طلاقیں واقع ہونے کے بعدمیاں بیوی کا ساتھ رہنا حرام ہے ،اب اگر دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم تحلیل شرعی پر عمل کرنا ہوگا ،اور مذکورہ طریقہ کو ہی شرعی اصطلاح میں ''حلالہ ''کہتے ہیں ، حلالہ کا معنیٰ ہے'' حلال کرنے والا '' جب کسی عورت کو اس کا شوہر تین طلاقیں دے تو وہ عورت اس مردپر ہمیشہ کےلئے حرام ہو جا تی ہے اب اگر یہ عورت پہلے شوہر کے ساتھ ازدواجی رشتہ قائم کرنا چاہتی ہے تو اس کی ایک ہی صورت شریعت اسلامیہ نے رکھی ہے وہ یہ کہ یہ عورت پہلے، اس طلا ق کی عدت گزارے، بعد از عدت کسی اور مرد سے نکاح کرے،پھروہ مرد اس عورت سے حقوق زوجیت ادا کرے اسکے بعد وہ دوسرا شوہر اپنی مرضی سے اس عورت کو طلاق دیکراپنی زوجیت سے خارج کرے پھر یہ عورت اس شوہرِ ثانی کی عدت گزارے، جس کے بعد زوج اول سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے ۔
حدیث پاک میں حلالہ کابیان واضح طور پر موجود ہے، بخاری میں ہے:عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك ترجمہ: حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت رفاعہ کی بیوی نبی کریم ﷺ کےپاس آئیں اورعرض کی کہ میں پہلےرفاعہ کی بیوی تھی توانہوں نے مجھے طلاق دےدی پھرمیں نےعبدالرحما ن بن زبیرسےنکاح کیالیکن وہ نرم کپڑےکی طرح ہیں( یعنی مردانہ اعتبار سے)تونبی کریمﷺنےارشاد فرمایاکہ کیاآپ رفاعہ کےپاس واپس جاناچاہتی ہیں انہوں نےعرض کی ہاں!آپ نےکیاجب تک تم اورعبدالرحمان ایک دوسرےکےشہدسےنہ چکھ لو(یعنی ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلواس وقت تک)نہیں جاسکتی۔( صحیح البخاری کتاب الشہادات باب شہادۃ المختبی حدیث نمبر 2639)
امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان حلالہ کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :''حلالہ کے یہ معنٰی ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی۔اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعد طلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 12ص 84 رضا فاؤنڈیشن کراچی)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: محرم الحرام 1446ھ/ 06 اگست 2024 ء