وقف سے متعلق چند سوالات

    waqf se mutaliq chand sawalat

    تاریخ: 7 جولائی، 2026
    مشاہدات: 13
    حوالہ: 1587

    سوال

    : مسجد میں گم شدہ چیز تلاش کرنا کیسا؟

    2: مسجد پر وقف کی ہوئی چیز واپس لی جاسکتی ہے یا نہیں؟

    3: مسجد کی چیز ذاتی مفاد کے لئے استعمال کی جاسکتی ہے یا نہیں؟

    4: مسجد کا پانی بجلی یاکوئی اور چیز اپنے ذاتی استعمال میں لے سکتے ہیں یا نہیں؟

    5: ایک مسجد کی چیز دوسری مسجد میں استعمال ہوسکتی ہے یا نہیں؟

    6: مسجد کے احاطہ میں دکانیں کیسے استعمال کرنی چاہیے؟

    سائل:عبداللہ : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1: اگر کوئی چیز مسجد سے باہر گم ہو تو اسے مسجد میں تلاش کرنا یا اسکی گمشدگی کا مسجد میں اعلان کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ تقدسِ مسجد اور آدابِ مسجد کے منافی ہے۔ حدیث پاک میں اسکی واضح ممانعت مذکور ہے:عن سليمان بن بريدة، عن أبيه، أن رجلا نشد في المسجد فقال: من دعا إلى الجمل الأحمر، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «لا وجدت، إنما بنيت المساجد لما بنيت له۔ترجمہ: بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہےکہ ایک آدمی نے مسجد میں اعلان کیا اور کہا: کون سرخ اونٹ (کی نشاندہی) کے لیے آواز دے گا؟۔ تو نبی ﷺ فرمانے لگے: تجھے (تیرا اونٹ ) نہ ملے، مسجدیں صرف انھی کاموں کے لیے بنائی گئی ہیں جن کے لیے انھیں بنایا گیا (یعنی عبادت اور اللہ کے ذکر کے لیے)۔(مسلم : حدیث نمبر 569)

    حاشیہ طحطاوی علی الدر میں ہے: قوله(حيث وجدها وفي المجامع) اي مجامع الناس كالمساجد والاسواق والشوارع الا انه ينادي على ابواب المساجد لا فيها۔ ترجمہ: گمشدہ چیز کا اعلان ایسی جگہ کرے جہاں لوگوں کا مجمع ہو جیسے مساجد ، بازار، عام راستے، مگر یہ کہ مسجد کے دروازوں پر اعلان کردے نہ کہ مسجد کے اندر ۔( حاشیہ طحطاوی علی الدر، جلد 6 ص 491)

    سوائے اس کے کہ گم ہونے والا انسانی بچہ ہو تو انسانی جان کی اہمیت کے پیشِ نظر اسکی گمشدگی کا اعلان جائز ہے۔

    البتہ اگر کوئی چیز مسجد کے اندر ہی گم ہوجائے تواس چیز کی تلاش و اعلان جائز ہے، بشرطیکہ کسی کی نماز یا عبادت میں خلل واقع نہ ہو۔

    2: وقف خواہ مسجد پر ہو یا اسکے علاوہ خالصتاً ملک باری تعالٰی ہوتا ہے ، ایک بار تمامیت کے بعد اسے واپس لینا یا کسی اور کو دینا ہرگز جائز نہیں بلکہ وہ چیز ہمیشہ کے لئے وقف رہے گی۔

    الدر المختار میں ہے: فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن ۔ ترجمہ: جب وقف مکمل اور لازم ہو جائے تو وہ نہ کوئی اسکا مالک نہیں ہوسکتا ، نہ کسی کو مالک بناسکتا ہے، نہ کرایہ پر دے سکتا ہے، اور نہ ہی رہن رکھ سکتا ہے۔

    قال ابن عابدين تحت قوله: (لا يملك) أي: لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي: لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه۔ترجمہ: علامہ ابن عابدین نے اس کے تحت فرمایا: یعنی وہ اپنے مالک کے لیے بھی مملوک نہیں ہوتا، اور بیع وغیرہ کے ذریعےکسی دوسرے کی ملکیت بھی قبول نہیں کر سکتا۔(تنویر الابصار مع الدر المختار جلد 4 ص 351)

    3&4: مسجد کے لیے وقف شدہ چیزیں کسی بھی شخص کو اپنی ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں ہے یونہی مسجد کی سہولیات ،پانی، بجلی ،موٹر ، سیڑھی اور اسی طرح مسجد کی دیگر اشیاءکو اپنی ذاتی ضروریات کے لئے استعمال کرنا شرعاً ناجائز ہے، فقہاءِکرام نے مسجد کے چراغ کو بھی ذاتی طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی تو دیگر اشیاءکی کیسے ہو سکتی ہے۔

    ہندیہ میں ہے: متولی المسجد لیس لہ ای یحمل سراج المسجد الی بیتہ۔ترجمہ:متولی مسجدکے لئے جائز نہیں کہ مسجد کا چراغ اپنے گھر لے جائے۔(الفتاوی الهندية،الباب الحادي في المسجد وما يتعلق به،الفصل الثاني في الوقف۔۔۔ج:2،ص:462)

    اسی طرح شامی میں ہے: و نقل في البحر قبله: و لا يوضع الجذع على جدار المسجد وإن كان من أوقافه ، قلت: و به علم حكم ما يصنعه بعض جيران المسجد من وضع جذوع على جداره فإنه لا يحل و لو دفع الأجرة۔ ترجمہ: مسجد کی دیوار پر شہتیر نہ رکھا جائے اگر چہ وہ مکان مسجد پر وقف ہی کیوں نہ ہو، اور اسی سے اس کا حکم بھی معلوم ہوگیا کہ جو مسجد کے بعض پڑوسی کرتے ہیں یعنی مسجد کی دیوار پر شہتیر رکھتے ہیں یہ جائز نہیں اگر چہ اجرت دے۔(تنویر الابصار مع الدر ، کتاب الوقف جلد 4 ص 358)

    5: ایک مسجد پر موقوف سامان، جیسے چٹائیاں اور قالین وغیرہ دوسری مسجد میں لے جانا جائز نہیں، البتہ اگرکسی مسجد کا سامان کثرتِ استعمال کے سبب پرانا ہوجائے اور اس مسجد میں نیا سامان آجائے تواس مسجد کا سامان واقف کی ملک میں لوٹ جائے گا ۔ اور واقفین کی اجازت سے ایک مسجد کا سامان دوسری مسجد میں دیا جاسکتاہے۔

    شامی میں ہے: ولایجوز نقلُه ونقل ماله إلی مسجد آخر، وهو الفتوی، حاوي القدسي. وأکثر المشائخ علیه، مجتبی، وهو الأوجه۔ ترجمہ: اس مسجد کو اور اس مسجد کے مال کو کسی دوسرے مسجد میں منتقل کرنا جائز نہیں ہے، اور یہی فتویٰ ہے، حاوی القدسی میں ذکر کیا گیا ہے۔ اور زیادہ تر مشائخ اس پر متفق ہیں، مجتبیٰ ، اور یہی زیادہ صحیح بات ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار:4 ص 358)

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں:وقف جس غرض کےلئے ہے اسکی آمدنی اگرچہ اس کے صرف سے فاضل ہو دوسری غرض میں صرف کرنی حرام ہے وقف مسجد کی آمدنی مدرسہ میں صرف ہونی درکنار دوسری مسجد میں بھی صرف نہیں ہوسکتی، نہ ایک مدرسہ کی آمدنی مسجد یا دوسرے مدرسہ میں۔(فتاوٰی رضویہ جلد 16 ص 205)

    اسی میں آپ ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں : آلات:یعنی مسجد کا اسباب جیسے بوریا، مصلی، فرش،قندیل، وہ گھاس کہ گرمی کے لئے جاڑوں میں بچھائی جاتی ہے وغیر ذٰلک، اگر سالم وقابل انتفاع ہیں او رمسجد کو ان کی طرف حاجت ہے تو ان کے بیچنے کی اجازت نہیں، اور اگر خراب وبیکار ہوگئی یا معاذاﷲ بوجہ ویرانی مسجد ان کی حاجت نہ رہی، تو اگر مال مسجد سے ہیں تو متولی، اور متولی نہ ہو تو اہل محلہ متدین امین باذن قاضی بیچ سکتے ہیں، اور اگر کسی شخص نے اپنے مال سے مسجد کو دئے تھے تو مذہب مفتی بہ پر اس کی ملک کی طرف عود کرے گی جو وہ چاہے کرے، وہ نہ رہا ہو اور اس کے وارث وہ بھی نہ رہے ہوں یا پتا نہ ہو تو ان کا حکم مثل لقطہ ہے، کسی فقیر کو دے دیں، خواہ باذن قاضی کسی مسجد میں صرف کردیں۔(ایضاً ص 265)

    6: اگر مقصود فنائے مسجد میں دکانیں بنانا ہے تو بے شک یہ ناجائز و حرام ہے کہ یہ مسجد کو غیر مسجد کرناہے ، اور مسجدکو غیر مسجد کرنا قطعاً یقیناً باطل و عاطل ہے کہ یہ مسجد کو ذکر و نماز سے معطل کرنا اور اس کو نقصان پہنچانا ہے جس کے متعلق اللہ رب العزت کا قرآن پاک میں فرمان ہے :’’وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ترجمہ کنزالایمان :اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لیے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ، ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب۔ (البقرہ، آیت:114)

    اس آیت کے تحت صدرالافاضل حضرت علامہ نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ ترجمہ کنزالایمان پر اپنے حاشیہ خزائن العرفان میں فرماتے ہیں :مسئلہ: جو شخص مسجد کو ذکر و نماز سے معطل کردے وہ مسجد کا ویران کرنے وا لاا ور بہت ظالم ہے۔ (خزائن العرفان ،زیر آیت البقرہ :114)

    سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:”جو زمین مسجد ہوچکی اس کے کسی حصہ، کسی جز کاغیرِ مسجد کردینا اگرچہ متعلقاتِ مسجد ہی سے کوئی چیز ہو،حرامِ قطعی ہے۔ (فتاوٰی رضویہ،ج16،ص482،مطبوعہ:رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    البتہ اگر تعمیرِ مسجد سے قبل اس جگہ میں مسجد کے مصالح اور ذرائع آمدنی کے لئے دکانیں بنانا چاہتے ہیں تو اسکی گنجائش ہے، تعمیر مسجد کے بعد یا تعمیر جدید کے بعد دکانیں بنانے کی ااجازت نہیں ہے۔کما مر آنفاًاگر تعمیر مسجد کے قبل دکانیں بنالیں اور بعد ازاں کرائے پر دینا چاہتے ہیں تو اسکے بارے میں شرعی رہنمائی درج ذیل ہے:

    1: مسجد کی دکان ایسے کسی شخص کو کرایہ پر نہ دی جائے جو اس کا غلط استعمال کرے، یعنی وہ اس میں ناجائز کاروبار کرے یا کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہو۔

    2: یونہی ایسے شخص کو نہ دی جائے جو وقت پر کرایہ ادا کرنے میں غیر ذمہ دار ہوں، کیونکہ اس سے مسجد کی مالی حالت متاثر ہو سکتی ہے۔

    3: مسجد کی دکان کا کرایہ عرف کے مطابق ہو ، عرف سے کم کرائے پر نہ دی جائے بصورت دیگر متولی شرعاً ضامن ہوگا۔

    4: اگر مسجد کے متولی یا کمیٹی کے کسی ممبر نے اپنے کسی رشتہ دار یا دوست کو دکان کرایہ پر دینی ہو، تو اس صورت میں کرایہ قدرے زیادہ طے کیا جائےتا کہ کسی قسم کے تعصب یا پسند ناپسند کا شائبہ نہ ہو۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: شعبان المعظم 1446ھ/ 19 فروری 2024 ء