shohar ka biwi ko muallaq rakhna
سوال
میری شادی 4 جولائی 2023 کو ہوئی ، شادی کے ایک مہینے بعد ہی شوہر دبئی چلے گئے اور کوئی خاص رابطہ نہیں رکھاحالانکہ شادی کو ابھی صرف ایک ماہ ہوا تھا، کال کادورانیہ بھی بمشکل 5 منٹ ہوتا تھا جس میں اکثر اپنی والدہ کا پوچھتے رہتے کہ امی کیا کررہی ہے وغیرہ اور بچہ کیسا ہے حالانکہ بچہ ابھی ہوا بھی نہیں تھا، شادی کے چند دن بعد ہی ساس کا رویہ بدل گیا اصل میں 27 سال پہلے انکی طلاق ہوگئی تھی وہ 27 سال سے اکیلی رہ رہی تھی ہر وقت غصہ میں رہنا بات بات پہ جھڑک دینا، میرے شوہر اور میری نندوں نے یہ شادی صرف اس لئے کروائی تھی تاکہ میں انکی ماں کے ساتھ رہ سکوں اور وہ اکیلی نہ رہے، ایک ماہ تک مجھے فون ہی نہیں ملا جبکہ میرا اپنا فون میرے والدین کے گھر تھااسی طرح معاملات چلتے رہے میں بہت کم گو ہوں سسرال کی کوئی بات والدین کو نہیں بتاتی تھی،ان معاملات کیوجہ سے میں بار بار بیہوش ہوکرگر جاتی شوہر کے عدم توجہ اور رابطے کی کمی کے سبب میری پریشانیاں بڑھتی گئیں حمل کی وجہ سے اکثر بیہوش ہوجاتی جسکی وجہ سے سسرال والوں نے مجھے پاگل اور بیمار کہنا شروع کردیا، ایک بار شوہر نے غصے مین دبئی سے کال پر کہا کہ تم اپنے ماں باپ کے گھر چلی جاؤ میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ، میرا صرف بچے سے تعلق ہے حالانکہ بچہ ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا، بہر حال آئے روز جھگڑوں اور میری طبیعت کی خرابی کے سبب میرے والدین اپنے گھر لے آئے اور وہیں ڈیلیوری ہوگئی نہ شوہر نے فون کیا نہ ساس نند بچہ دیکھنے آئی، بچے کی پیدائش کے چھ ماہ بعد شوہر پاکستان آیا اور معافت مانگی اور وعدہ کیا آئندہ ایسا نہیں ہوگا لیکن جانے کے حالت وہیں کی وہیں رہی دوبارہ دبئی جاکر رابطہ ختم کردیا ، فروری 2025 میں سسر کا انتقال ہوا جسکی ہمیں کوئی خبر نہیں دی گئی میرے شوہر سسر کی تدفین میں پاکستان آئے شریک ہوئے لیکن نہ مجھ سے اور نہ ہی بچے سے ملے بغیر ملے واپس دبئی چلے گئے جسکا علم مجھے کئی دن بعد ہوا،حال ہی میں میرے خاندان والوں نے والدین سے رابطہ کیا ہےکہ مسئلے کا حل نکالیں شوہر کو کال کی تو اس نے کہا دو دن بعد کرتا ہوں اسکے بعد سے کال ہی نہیں اٹھاتے اور ہمارے پاس انکا دبئی کا کوئی ایڈریس وغیرہ بھی نہیں نہ پاسپورٹ ہے کیونکہ پاسپورٹ انکی بڑی بہن رکھتی ہے جب بھی وہ پاکستان آتے تھے اس وقت۔ اب مجھے علیحدگی یا خلع لینی ہے اس کے لئے ہمیں کہاں جانا ہوگا؟کس سے رابطہ کرنا ہوگا؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔
سائلہ:خدیجہ:کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ بعض اوقات شوہر موجود ہوتا ہے اور مالی اعتبار سے خوش حال بھی ہوتا ہے مگر معمولی معمولی باتوں یا گھریلو جھگڑوں کی بنیاد پر یہ سزا دیتا ہے کہ بیوی کو نان و نفقہ اور دیگر حقوقِ زوجیت سے محروم کردیتا ہے، نہ طلاق دیتا ہے اور نہ ہی ساتھ رکھتا (جیساکہ صورت مسئولہ میں ہے ) ہمارے معاشرے میں ایسی عورتیں اولاً تو عدالتوں میں خلع کے لئے رجوع کرتی ہیں مگر جب انہیں معلوم ہوتا کہ کہ وہاں خلع کے شرعی تقاضے پورے نہیں کئے جارہے تو مجبوراً دارالافتاء کا سہارا لیتی ہیں کہ اسے اس مصیبت سے رہائی کی کوئی تدبیر بتائی جائے۔
ایسے شوہر یقیناً بے رحم ، سفاک اور ظالم ہوتے ہیں جو ایک عورت کی زندگی سے گھناؤنا کھلواڑ کرتے ہیں ، ایسی عورتوں کے بارے میں حکم شرع یہ ہے کہ تو عدالت اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے اس نکاح کو فسخ کردے اگر عدالت نکاح ختم نہ کرے تو حرجِ عظیم اور ضررِ شدید کے ازالہ کے لئے شہر کا سب سے بڑا مفتی (اعلم علماء بلد) اس نکاح کو فسخ کردے۔ اور عدت کے بعد عورت کہیں اور جہاں چاہے نکاح کرلے۔
چناچہ مجلس شرعی کے فیصلوں میں ہے: شوہر غربت و افلاس کا شکار نہیں مگر پھر بھی عورت کو نفقہ سے محروم رکھتا ہے ، اسکی چار صورتیں ہیں:
3: شوہر غائب کو مگر غیبتِ منقطعہ نہ ہو یعنی معلوم ہے کہ شوہر فلاں جگہ رہتا ہے مگر آتا نہیں ، اور نہ ہی کسی طرح اس سے نفقہ حاصل ہوپارہا ہے۔
4: شوہر موجود ہے مگر اس نے بیوی کو معلقہ بنایا ہوا ہے نہ طلاق دے کر اسے آزاد کرتا ہے اور نہ ہی اس کے حقوق (نان و نفقہ وغیرہ) ادا کرتا ہے۔
ظاہر ہے ان صورتوں میں عورت جہاں نان و نفقہ سے محروم ہے وہیں حقوقِ زوجیت سے بھی محروم ہے جس کے باعث اس زمانہ میں اکثر یا کثیرعورتوں کے مبتلائے گناہ ہونے کا عظیم خطرہ درپیش ہے یہ خود ایک سخت ضرر اور حرج ہے۔ اسکے حل کی بتدریج تین صورتیں ہیں :
1: شوہر کا معاشرتی بائیکاٹ کیا جائے اور اس میں کچھ بھی ڈھیل نہ رکھی جائے ۔ اس تعزیر کے ذریعے سوائے سرکش و بے توفیق شوہر کے ہر وہ انسان اصلاح پذیر ہوسکتا ہے جس کا ضمیر کچھ بھی زندہ ہواور اس میں تھوڑی بہت بھی دینی و اسلامی حمیت وغیرت ہو۔
2: لیکن اگر وہ سخت دل اور مردہ ضمیر و بے توفیق ہی نکلا اور سرکشی سے باز نہ آیا تو عورت کو صبر و شکر اور راضی برضائے الٰہی رہنے نیز روزے رکھنے اور اس پر مضبوطی سے قائم رہنے کی ہدایت کی جائے۔
3: لیکن اگر عورت اس کے باوجود عدمِ صبر کی شکایت کرے اور اسکی عمر ، حالت اور عادت اس کی شاہد ہو تو اب ضرورتِ شرعی متحقق ہو چکی ، اس مرحلے پر قاضی کو فسخِ نکاح کی اجازت ہے۔ (مجلس شرعی کے فیصلے ص 234 تا 236)
اسی میں ایک مقام پر ہے:مذہب حنفی میں نفقہ سے محرومی کی وجہ سے اسکا نکاح ختم کرنے کی اجازت نہیں ہے ، لہذا بغیر شوہر کی موت یا طلاق کےمیاں بیوی کے درمیان تفریق نہیں ہو سکتی۔ فقیہ بے مثال اعلٰی حضرت علیہ الرحمہ والرضوان کا فتوٰی بھی یہی ہے چناچہ آپ ایک فتوٰی میں رقمطراز ہیں:
بے افتراق بموت یا طلاق دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی، ہمارے نزدیک، غیبت (شوہر کے غائب ہونے) خواہ عسرت (شوہر کے مفلس و تنگ دست ہونے )کے سبب ادائے نفقہ سے شوہر کا عجز یا تحصیل نفقہ سے عورت کی محرومی باعثِ تفریق نہیں۔
مگر اس کے بر خلاف ہمارے بعد کے اکابر علماء اہلِ سنت رحمھم اللہ تعالٰی نے یہ موقف اختیار فرمایا کہ نفقہ سے عجز کی دونوں صورتوں میں فسخِ نکاح و تفریق کی اجازت ہے کلمات یہ ہیں :
دوسری صورت : شوہر نان و نفقہ دینے پر قادر ہے مگر غائب ( غیبوبتِ منقطعہ ہو یا نہ ہو) ہونے کی وجہ سے نان و نفقہ نہیں دے رہا ہے اور عورت شوہر کے مال سے نان و نفقہ وغیرہ حاصل کرنے کی قدرت بھی نہیں رکھتی ہے ایسی صورت میں اگر عورت قاضی سے تفریق کا مطالبہ کرے تو بعد ثبوتِ صحتِ دعوٰی قاضی زن و شو کے درمیان تفریق کردے۔ اور عورت بعد عدت کے جہاں چاہے نکاح کرے۔ (مجلس شرعی کے فیصلے ص 234 تا 236، ملخصا و ملتقطا)
مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان تفہیم المسائل جلد 3ص269لکھتے ہیں:وہ وجوہ جن کی بناء پر مختلف ائمہ کرام کے مسالک میں قاضئِ مجاز یا جج کے لئے '' فسخِ نکاح'' کی گنجائش نکل سکتی ہے یا ایسی مصیبت زدہ بیوی کے لئے ایسی رخصت ورعایت موجود ہے کہ انتہائی اذیت ناک صورتِ حال سے اسکو نجات مل جائے بشرطیکہ ان شرائط و قرائن کی بنیاد پرقاضی کو ظن غالب یا یقین ہوجائے ، یہ ہیں۔1:شوہر بیوی کو نان و نفقہ نہ دیتا ہو ،ظالمانہ انداز مین بے انتہا مار پیٹ کرتا ہو ،حقوق زوجیت ادا نہ کرتا ہو اور اسے معلق حالت میں روکے رکھنا چاہتا ہو (ایسی صورت میں عدالت فسخ نکاح کرسکتی ہے)۔
اور جہاں قاضی شرع نہ ہو تو وہاں کا سب سے بڑا سنی صحیح العقیدہ عالم جو مرجع فتاویٰ ہو قاضی شرع ہے۔
چناچہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور انڈیا کی شائع کردہ کتاب ''مجلس شرعی کے فیصلے'' علماء کا یہ فیصلہ محفوظ ہے :آج کے ہندوستان مین ان معاملات کے فیصلے جن میں مسلمان حاکم(قاضی ہونے ) کی شرط ہے جمہور مسلمانوں کو شرعا یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی عالم باشرع کو اپنا قاضی بنالیں اور ایسے قاضی کا فیصلہ اپنے حدود خاص میں جائز و نافذ ہوگا۔ مفقود الخبر، معدومۃ النفقہ ، عنین،مجنون وغیرہا کے مسائل میں از روے شرع مسلمانوں کا مقرر کردہ قاضی عورت کی درخواست پر زن و شوہر کے درمیان تفریق بھی کراسکتا ہے ۔
سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں:جہاں قاضیِ شرع نہ ہو وہاں جو عالمِ دین سچا تمام اہلِ شہر میں فقہ کا اعلم ہوایسے امورمیں حاکمِ شرعی ہے:کما نص علیہ فی الحدیقۃ الندیۃ عن فتاوی الامام العتابی رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ۔ترجمہ: جیسا کہ اس پر فتاوٰی امام عتابی رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ سے حدیقۃ الندیہ میں نص کی گئی ہے۔ (فتاوٰی رضویہ ، کتاب الطلاق، جلد 12 ص 505، رضا فاؤنڈیشن لاہور۔)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
نوٹ: ہماری نظر میں ایسی صورتحال کا ایک حل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عورت اولاً عدالت سے خلع لے لے، بعد ازاں مفتیِ شہر سے نکاح فسخ کروالے۔ اس طرح قانونی اور شرعی دونوں اعتبار سے معاملہ مکمل طور پر درست اور معتبر ہوجائے گا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: جمادی الاول 1447ھ/ 19 نومبر 2025 ء