مسجد کے مکان میں امام مسجدکا اپنے بھائی کو رہائش دینا

    masjid ke makan mein imam masjid ka apne bhai ko rehaish dena

    تاریخ: 7 جولائی، 2026
    مشاہدات: 20
    حوالہ: 1588

    سوال

    ایک امام مسجد کو مسجد کی جانب سے رہائش کے لئے مکان دیا گیا تو اس نے یہ کیا کہ خود کہیں اور کرائے پر مکان لیکر رہنے لگا جبکہ مسجد والے گھر میں اپنے بھائی کو ٹھہرادیا دو تین ماہ تک امام کا بھائی وہاں رہتا رہا ۔ اب سوال یہ ہے کہ امام کا یہ فعل جائز ہے یا ناجائز؟ نیز بھائی کے رہنے کی وجہ سے تاوان ہوگا یا نہیں ؟ اگر ہوگا تو کس پر امام مسجد پر یا اسکے بھائی پر جس نے رہائش اختیار کی۔

    سائل:عبداللہ :کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    امام مسجد کا مذکورہ عمل اور انکے بھائی کا مسجد کے مکان میں رہائش اختیار کرنا ہر دو ناجائز ہے،کیونکہ مسجد یا اس سے ملحقہ مکانات مصالحِ مسجد کے لئے وقف ہوتے ہیں اور صرف ان مصالح میں ہی صرف ہوسکتے ہیں مصالحِ مسجد کے علاوہ کسی اور جہت پر صرف کرنے کی کسی کو اجازت نہیں ، اور مصالح مسجد سے مراد امام مؤذن یا مسجد کے دیگر عملے کی رہائش ہے ۔لہذا امام مسجدکا رہائش کے لئے اپنے بھائی کو مکان دینا اور انکے بھائی کا وہاں رہائش اختیار کرنا ناجائز ہے لہذا اب جتنے عرصہ وہاں رہے ان پر اتنے عرصے کا اجارہ بطورِ ضمان امام مسجد کے بھائی پر لازم ہوگا۔نیزکرایہ کی تعیین عرف کے مطابق ہوگی کہ اس جیسے مکانات کاعرف عام میں جو کرایہ چل رہا ہو وہی لازم ہوگا۔

    جب یہ مکانات مصالح مسجد کے لئے وقف ہیں تو اسی جہت پر باقی رکھنا لازم ہے اسکے علاوہ کسی اور جہت میں تبدیلی منع ہے، عالمگیری میں ہے:وَلَا يَجُوزُ تَغْيِيرُ الْوَقْفِ عَنْ هَيْئَتِهِ ترجمہ:۔ اور وقف کو اسکی حالت سے تبدیل کرنا جائز نہیں ہے ۔(عالمگیری کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات جلد 2ص 365)

    یونہی شامی میں ہے : الْوَاجِبَ إبْقَاءُ الْوَقْفِ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِ ترجمہ: وقف کو اسی حالت پر رکھنا واجب ہے جس حالت پر وہ فی الحال موجود ہے۔( شامی کتاب الوقف مطلب فی استبدال الوقف وشروطہ 4ص388)

    مالِ وقف میں بغیر عقدِ اجارہ رہائش اختیار کرنے پرضرور ضمان لازم ہوگا جیساکہ تنویر مع الدر میں ہے: لو سكنت بغير إجارة في وقف أو مال يتيم أو معد للاستغلال، فالأجرة عليه فليحفظ ۔ترجمہ: اگر مکان وقف یا مال یتیم یا وہ مکان جو کرائے کے لئے تیار کیا گیا ہے میں بغیر اجارے کے سکونت اختیار کی تو رہائشی پر اجرت لازم ہے، چاہیے کہ اسے یاد کرلیا جائے۔

    اسکے تحت شامی میں ہے: لأن هذه الثلاثة تضمن بالغصب۔ ترجمہ:کیونکہ یہ تینوں غصب کی وجہ سے مضمون ہوتے ہیں۔ (شامی مع الدر جلد3 ص 583)

    درمختار میں ہے : منافع الغصب لاتضمن عندنا، الا فی ثلث، فیجب اجر المثل ان یکون المغصوب وقفا اومال یتیم، اومعداللاستغلال ملتقطا۔ترجمہ: غصب کے منافع ہمارے نزدیک قابل ضمان نہیں ہیں سوائے تین مواقع کے ایک یہ کہ مغصوب وقف ہو یا مغصوبہ چیز یتیم کا مال ہو، یا وہ چیز کرایہ حاصل کرنے کے لئے مختص ہو تو ان صورتوں میں اجرتِ مثل لازم ہوگی،۔ (درمختار بحوالہ فتاوٰی رضویہ، جلد 20 ص 191)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:09 رمضان المبارک 1446ھ/ 10 مارچ 2024 ء