aurat ko muallaq karke rakhna
سوال
میرا نام زاہدہ محبوب ہے میری ایک بیٹی کی فروری 2022 میں شادی ہوئی ہے ، شادی کے بعد سے ہی آئے روز سسرال میں لڑائی جھگڑے ہوتے رہے جسکی وجہ سے میری بیٹی ذہنی مریضہ بن گئی تھی پھر شادی کے دومہینے بعد ہی میری بیٹی کو ٹائیفائڈ ہوگیا تو اسکے شوہر اور ساس میرے گھر چھوڑ گئے میرے پاس اسکا علاج کروانے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا کیونکہ میں خود مریضہ ہوں اور شوہر کی پنشن سے گزارا کررہی ہوں شادی کے دو مہینے کے بعد سے اب تک میرے گھر میں ہی رہ رہی ہے اسکا شوہر کہتے ہے پہلے تم اپنا حصہ لے کر آؤ ہم پھر تمہیں رکھیں گے ورنہ سامان لے جاؤ ہم تمہیں طلاق نہیں دیں گے بلکہ لٹکا کر رکھیں گےاب ہم نے کورٹ کے ذریعے خلع کروائی ہے برائے مہربانی اصلاح فرمائیں کہ ہماری بیٹی کی طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟ اور یہ کہ اتنا عرصہ میاں بیوی کے درمیان تعلقات قائم نہ رہنے سے نکاح ختم ہوجاتا ہے یا نہیں؟نیز اس تمام معاملے میں ایک بات یہ بھی ہے کہ ہم نے میرے جہیز کا سامان شادی کے دو ماہ بعد ہی اٹھا لیا تھا۔اسوقت نہ شوہر نے کچھ کہا نہ ساس نے۔
سائل:زاہدہ محبوب : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا بیان ہوا کہ شوہر کی حاضری و رضامندی میں بیوی کا سارا سامان وصول کرلیا گیا تو عورت کو ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے اور جب سے یہ سامان وصول کیا اس وقت سے ان کی عدت شمار کی جائے گی۔ عدت کے بعد عورت جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے۔
عدت کی تفصیل یہ ہے کہ اگر ماہواری آتی ہے تو تین ماہواری آکر ختم ہو جائیں اور اگر حمل کی وجہ سے ماہواری نہیں آتی تو پھر اس کی عدت وضع حمل یعنی بچہ پیدا ہونے تک ہے اور اگر بڑھاپے کی وجہ سے ماہواری نہیں آتی تو اس کی عدت تین ما ہ ہو گی۔یاد رہے کہ طلاق یا وفات کی عدت میں عورت پر اپنے شوہر کے گھر پر عدت گزارنا واجب ہے۔بلا اجازتِ شرعی شوہرکا گھر چھوڑ کر اپنے والدین کے گھر یا کسی اور جگہ عدّت نہیں گزارسکتی ہاں شوہر زبردستی نکال دے تو اور بات ہے مجبوراً والدین وغیرہ کے گھر عدت پوری کرنی ہوگی۔
عدالتی خلع کی تفصیل:
ملحوظ رہے کہ شرعی خلع سے ایک طلاق بائن واقع ہوتی ہے۔پھر اگر شوہر صراحتاً یا دلالۃعدالتی سندِخلع پر رضا مندی ظاہر کرلے تو یہ خلع شرعاً نافذ ہوگی۔صراحتًا جیسے: عدالت میں حاضرہوکر خلع پررضامندی ظاہر کرے یا اس فیصلے کو تسلیم کرنے کے لیے اپنا کوئی وکیل کرے یا عدالت سے جاری ہونے والی خلع کی ڈگری پر دستخط کرے ۔اور دلالۃً جیسے: جہیز کا سامان واپس کرنے پر رضامند ہوجائے،کیونکہ جہیز کی واپسی رشتہ ازدواج ختم کرنے پر دلالت ہوتی ہے جبکہ قانونی فیصلے میں جہیز کی واپسی کا ذکر نہ ہو۔پوچھے گئے سوال میں یہی صورت متحقق ہے لہذا عدالتی خلع شرعاً نافذ قرار دی جائے گی۔لیکن اگر شوہر عورت کے مطالبے کو قبول نہ کرے یا پھر صراحتاً یا دلالۃ ًخلع پر رضا مندی ظاہر نہ کرے ،تو عدالت کے محض یک طرفہ فیصلہ سے خلع واقع نہیں ہوگی۔کیونکہ یہاں عدالت ازروئے شرع فضولی کی حیثیت رکھتی ہے اور فضولی (عدالت) کا طلاق دینا شوہر کی قولی یا فعلی اجازت پر موقوف ہے۔
دلائل و جزئیات:
خلع کی تعریف امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) نے یوں بیان فرمائی ہے کہ :خلع شرع میں اسے کہتے ہیں کہ شوہر برضا ئے خود مہر وغیرہ مال کے عوض عورت کو نکاح سے جدا کردے تنہا زوجہ کے کیئے نہیں ہو سکتا۔(فتاوی رضویہ 13/264،رضافاؤنڈیشن لاہور)
خلع سے طلاق بائن واقع ہوتی ہے،حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے:"الخلع تطليقة بائنة". ترجمہ:خلع ایک طلاق بائن ہے۔ (مصنف ابن ابي شيبة،ما قالوا في الرجل إذا خلع امرأته كم يكون من الطلاق؟،رقم:18431،مكتبة الرشد)
نیز علامہ ابو الفضل عبد اللہ بن محمود الموصلی (المتوفی:683ھ) فرماتے ہیں:"فإذا فعلا لزمها المال ووقعت تطليقة بائنة".ترجمہ:تو جب دونوں نے خلع کرلی تو عورت پر مال لازم ہوا اور ایک طلاق بائن واقع ہوئی۔(الاختيار لتعليل المختار،باب الخلع،3/156،الحلبي القاهرة)
طلاق وخلع دینے کا اختیار شریعت مطہرہ نے شوہر کو دیا ہے ، ارشاد باری تعالی ہے:بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ. ترجمہ: جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے ۔( البقرۃ:237)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی (المتوفی:1391ھ)رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے تحت ارشاد فرماتے ہیں:’’معلوم ہوا کہ نکاح کی گرہ مرد کے ہاتھ میں رکھی گئی ہے طلاق کا اس کو حق ہے عورت کو نہیں نہ خلع میں نہ بغیر خلع۔یعنی خلع میں طلاق مرد کی مرضی پر موقوف ہوگی آج کل عوام نے جو خلع کے معنی سمجھے ہیں کہ عورت اگر مال دے دے تو بہر حال طلاق ہوجائے گی خواہ مرد طلاق دے یا نہ دے یہ غلط ہے‘ ‘۔ (کنزالایمان مع تفسیر نور العرفان ،ص: 60،تحت آیت مذکورہ مطبوعہ پیر بھائی کمپنی لاہور)
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے بواسطہ اپنے دادا کے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:" وَلِيُّ عَقْدِ النِّكَاحِ الزَّوْجُ". ترجمہ:عقدِ نکاح کا ولی شوہر ہے۔(السنن الکبری للبیہقی،باب من قال الذي بيده عقدة النكاح الزوج،7/410،رقم:14454،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
نیز حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا:"الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ هُوَ الزَّوْجُ ".ترجمہ:جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہےوہ شوہر ہے۔(السنن الکبری للبیہقی،باب من قال الذي بيده عقدة النكاح الزوج،7/409،رقم:1446دار الکتب العلمیۃ بیروت)
دوسری حدیث پاک میں ہے:"لَا طَلَاقَ لِمَنْ لَمْ يَمْلِكْ".ترجمہ: جو طلاق دینے کامالک نہ ہو، وہ طلاق دے نہیں سکتا۔(المستدرک علی الصحیحین،رقم:2819،دار الکتب العلمیۃ/السنن الصغیر للبیہقی،رقم:2646، جامعۃالدراسات الإسلاميۃ، کراچی/سنن ابن ماجہ،رقم:2047،دار احیاء الکتب العلمیۃ/سنن ابی داود،رقم:2190،المکتبۃ العصریۃ/سنن الترمذی،رقم:1181،مصطفی البابی الحلبی)
فضولی (عدالت) کا طلاق دینا شوہر کی قولی یا فعلی اجازت پر موقوف ہے، علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "فَكَمَا أَنَّ نِكَاحَ الْفُضُولِيِّ صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ عَلَى الْإِجَازَةِ بِالْقَوْلِ أَوْ بِالْفِعْلِ فَكَذَا طَلَاقُهُ... وَالْإِجَازَةُ بِالْفِعْلِ يُمْكِنُ أَنْ تَكُونَ بِأَنْ يَدْفَعَ إلَيْهَا مُؤَخَّرَ صَدَاقِهَا بَعْدَمَا طَلَّقَ الْفُضُولِيُّ".ترجمہ: جس طرح فضولی کا نکاح صحیح ہے اور وہ قول یا فعل کے ساتھ اجازت پر موقوف ہے طلاق بھی اسی طرح ہے (یعنی طلاق بھی قول و فعل کی اجازت پر موقوف رہے گی) فعل کے ساتھ اجازت کی صورت یہ ہے کہ وہ فضولی کی جانب سے طلاق کے بعد مہر مؤجل بیوی کو دے دے۔(رد المحتار،کتاب الطلاق،مطلب فی تعریف السکران،3/242،دار الفکر بیروت)
صورت مذکورہ میں جس طرح مہرِ مؤجل دینا طلاقِ فضولی کی اجازت قرار دیا گیا ہے یونہی فی زمانہ عدالتی خلع کے بعد شوہر کا بلاچون و چرا جہیز اٹھانے کی اجازت دے دینا بھی اس عدالتی خلع کا فعلاً نفاذ ہے۔ لہذا اس صورت میں عدالتی خلع نافذ ہوکر مؤثر ہوگی۔البتہ اگر شوہر جہیز اٹھانے کی اجازت کے ساتھ ساتھ صراحتاً اس عدالتی خلع کی تنفیذ کی نفی کردے تو اس صورت میں خلع نافذ نہ ہوگی کہ قاعدہ دفقہیہ ہے '' الصریح یفوق الدلالۃ'' کہ صریح دلالت پر فوقیت رکھتاہے۔ (ھذا من افادات استاذی فقیہ العصر الشیخ المفتی وسیم اختر المدنی حفظہ اللہ تعالٰی)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 16 رجب المرجب 1446ھ/ 15 جنوری 2024 ء