طلاق کا مسئلہ حوالہ نمبربارہ سو تیرانوے

    talaq ka masla hawala number barah so tiranve

    تاریخ: 6 جولائی، 2026
    مشاہدات: 47
    حوالہ: 1582

    سوال

    میرے شوہر کی دوشادیاں ہیں ، میں انکی دوسری بیوی ہوں ، ہم دونوں ہنسی خوشی رہ رہے ہیں ہم دونوں بیویوں سے کل آٹھ بچے بھی ہیں، چند ماہ پہلے میری ایک دوست جو کہ ڈاکٹر ہے اس نے میرے شوہر سے تیسرا نکاح کیا ہے اور نکاح کے لئے یہ الفاظ بولے ہیں، زوجتک نفسی علی الصداق المعلوم اور جواباً میرے شوہر نے کہا قبلت التزویج ۔ یاد رہے کہ اس وقت صرف تین لوگ موجود تھے ایک میرے شوہر ، ایک جس سے شادی کی اور اسکے علاوہ ایک اور لڑکی تھی جس نے انٹرنیٹ سے یہ الفاظ نکال کر ان سے کہلوائے تھے۔

    پھر ساتھ رہے میاں بیوی والا تعلق بھی رہا،پھر اب گھریلو جھگڑوں کی بنیاد پر دونوں کی نہیں بنی جس کے بعد بیوی کے اصرار پر ان الفاظ کے ساتھ طلاق دے دی'' میں بخت علی خان نے جو تم سے اس آیت کو پڑھ کر نکاح کیا ہے اس نکاح سے تم آزاد ہو، میری طرف سے تم آزاد ہو عدت پوری ہونے کے بعد تم کسی سے بھی اپنی مرضی سے نکاح کرکے زندگی گزار سکتی ہو'' یہ الفاظ تین بار کہے۔ اب وہ عورت واپس آکر کہتی ہے نکاح ہوگیا تھا لیکن طلاق نہیں ہوئی لہذا تم میرے ساتھ رہو ورنہ میں تمہیں برباد کردوں گی جبکہ میرا شوہر بھی اسکےساتھ نہیں رہنا چاہتا ۔ برائے مہربانی شرعی فتوٰی دیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں؟

    سائلہ:زوجہ بخت علی :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر یہ معاملہ حقیقت پر مبنی ہے تو اس صورت میں حکم شرع درج ذیل ہے، بصورت دیگر جیسی حقیقت حال ہوگی حکم شرع بھی ویسا ہی صادرہوگا۔

    نکاح کے لئے دومردیا ایک مرد اور دوعورتوں کا بطورِ گوا ہ ہونا شرط ہے، لہذا ایک گواہ کی موجودگی میں نکاح فاسد ہوا کہ اس میں گواہی کا نصاب نا مکمل ہے۔لہذاجب نکاح فاسد ہوا تو اس کا فسخ واجب ہے اور فسخ کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر متارکہ کرے یعنی یہ الفاظ کہے کہ میں نے تجھے چھوڑدیا، تیراراستہ صاف کردیا وغیرہ اور دونوں فوراً جدا ہوجائیں ۔پھر چونکہ اس دوران مرد و عورت نے ازدواجی تعلق بھی قائم کیا لہذا مرد پر مہرِ مثل (جبکہ مسمٰی سے زائد نہ ہو)اور عورت پر عدت (یعنی تین حیض گزارنا)لازم ہے ۔اس نکاح کے بعد اگرطلاق کے الفاظ یا ایسے الفاظ کہے جو طلاق پر دلالت کرتے ہیں تو یہی متارکہ کہلائے گا۔ صورت مسئولہ کے مطابق شوہر نے جو الفاظ کہے ہیں وہ ضرور دال بر طلاق ہیں جو متارکہ ہی ٹھہرے جس کے بعد دونوں کا ازدواجی تعلق نہ رہا اب دونوں اجنبیوں کی مثل ہیں۔

    البنایۃ شرح ہدایہ میں ہے:ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين، أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول ۔ترجمہ:مسلمانوں کا نکاح صحیح منعقدنہیں ہوتا مگر دو گواہوں کی موجودگی میں جو آزاد ہوں ،عاقل ہوں ،بالغ ہوں ،دونوں مرد ہوں یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں عادل ہوں یا غیر عادل ہوں ۔(البنایۃ شرح ہدایہ ،جلد:5،ص:12،دارالکتب العلمیۃ بیروت)

    اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃاسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: بے حضور د وگواہ نکاح فاسد ہے، حدیث میں فرمایاـ: الزوانی اللاتی ان ینکحن انفسھن بغیر بینۃ ترجمہ: زنا کار ہیں جو اپنی جانوں کو نکاح میں دیتی ہیں بغیر گواہوں کے۔(فتاوی رضویہ ،جلد :11،ص:219)

    بہار شریعت میں ہے:نکاحِ فاسد کا حکم یہ ہے کہ اُن میں ہر ایک پر فسخ کر دینا واجب ہے۔ اس کی بھی ضرورت نہیں کہ دوسرے کے سامنے فسخ کرے اور اگر خود فسخ نہ کریں تو قاضی پرواجب ہے کہ تفریق کر دے(بہارشریعت،جلد:2،ص:72،مکتبۃ المدینۃ)

    مبسوط سرخسی میں ہے: ولو تزوج امرأة بغير شهود أو بشاهد واحد ثم أشهد بعد ذلك لم يجز النكاح؛ لأن الشرط هو الإشهاد على العقد، ولم يوجد، وإنما وجد الإشهاد على الإقرار بالعقد الفاسد، والإقرار بالعقد ليس بعقد، وبالإشهاد عليه لا ينقلب الفاسد صحيحا. ترجمہ:اور اگر کوئی کسی عورت سے بغیر گواہوں کے یا ایک گواہ کی موجودگی میں نکاح کیا اسکے بعد گواہ بنایا یہ نکاح جائز نہیں ہے۔کیونکہ نکاح میں شرط عقد پر گواہ بنانا ہے اور وہ تو پایا ہی نہیں گیا ، بلکہ یہاں تو عقد فاسد کے اقرار پر گواہ بنائے گئے ہیں اور اقرار بالعقد ، عقد نہیں ہے۔ اور اس پر گواہ بنانے سے عقدِ فاسد صحیح نہ ہوگا۔(المبسوط للسرخسی، جلد 5 ص 35)

    نکاح فاسد کی عدت کے بارے میں تنویر الابصار مع الدر میں ہے:(وعدة المنكوحة نكاحا فاسدا الحيض للموت) أي موت الواطئ (وغيره) كفرقة، أو متاركة لأن عدة هؤلاء لتعرف براءة الرحم وهو بالحيض، ترجمہ:اور منکوحہ بنکاحِ فاسد کی عدت (تین)حیض ہیں، خواہ (واطی )موت کی وجہ سے ہو یا اسکے علاوہ فرقت یا متارکہ کے سبب ہو کیونکہ انکی عدت اس لئے ہے تاکہ رحم کا خالی ہونا معلوم ہوجائے اور وہ حیض سے ہی ہوگا۔

    اسکے تحت شامی میں ہے:(قولہ نكاح فاسد) أن كلامه هنا يوهم وجوب العدة في النكاح الفاسد ولو قبل الوطء وليس كذلك، فإنها لا تجب فيه بالخلوة بل بالوطء في القبل كما مر في باب المهر ۔(قوله: نكاحا فاسدا) هي المنكوحة بغير شهود،في البحر عن المجتبى: كل نكاح اختلف العلماء في جوازه كالنكاح بلا شهود فالدخول فيه موجب للعدة ۔(قوله:الحيض)جمع حيضةأي عدة المذكورات ثلاث حيض إن كن من ذوات الحيض وإلا فالأشهر،أووضع الحمل۔ ترجمہ:ماتن کا یہ کلام اس بات کا وہم ڈال رہا ہے کہ نکاح فاسد میں عدت واجب ہے اگر چہ وطی سے پہلے ہو حالانکہ ایسا معاملہ نہیں ہےس، کیونکہ نکاح فاسد میں خلوت سے عدت لازم نہیں ہوتی بلکہ اگلے مقام میں وطی سے ہوتی ہے جیساکہ مہر کے باب میں گزرا۔(ماتن کا قول :نکاح فاسد)یعنہ وہ عورت جس نے بغیر گواہوں کے نکاح کیا ہو ۔ بحر میں مجتبٰی سے ہے ہر نکاح جس کے جواز میں علماء کا اختلاف ہے جیساکہ بغیر گواہوں کے نکاح ایسے نکاح میں (اگلے مقام میں )دخول سے عدت لازم ہوجائے گی۔(ماتن کا قول :الحیض) یہ حیضۃ کی جمع ہے یعنی ان مذکورہ عورتوں کی عدت تین حیض ہےاگر وہ حیض والی ہوں ورنہ تین ماہ یا اگر حمل سے

    ہوں تو وضعِ حمل ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار شرح تنویر الابصار، باب العدۃ جلد3 ص 515 تا 518 ملخصا و ملتقطا)

    سیدی اعلٰی حضرت نکاح فاسد کا حکم بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں :ایک بہن جب نکاح میں ہو تو دوسری سے نکاح نکاح ِ فاسد ہے، متارکہ یعنی چھوڑ دینا جُدا کردینا واجب ہے، اور وہ طلاق نہیں بلکہ فسخ ہے، یہاں تک کہ اگر الفاظِ طلاق کہے گا جب بھی متارکہ ہی ٹھہرے گا طلاق میں شمار نہ ہوگا، پھر اگر اس دوسری سے حقیقۃًوطی یعنی خاص فرج داخل میں بقدر حشفہ ایلاج ذکر، کر چکا تھا تو مہر مثل ومہر مسمّی سے جو کم ہولازم آئے گا ورنہ کچھ نہیں۔اگر چہ خلوت بلکہ بوس وکنار بہ شہوت بلکہ غیر فرج میں ادخال کرچکاہو، فی الدرالمختار یجب مھر المثل فی نکاح فاسد وھوالذی فقد شرطا من شرائط الصحۃ کشہود بالوطئ فی القبل لابغیرہ کالخلوۃ لحرمۃ وطئھا ولم یزد علی المسمی ولو کان دون المسمی لزم مھرالمثل باختصار وفی ردالمحتار قولہ کشھود ومثلہ تزوج الاختین معاونکاح الاخت فی عدۃ الاخت قولہ فی القبل فلوفی الدّبر لایلزمہ مھر خلاصۃ وقنیۃ فلایجب بالمس والتقبیل بشہوۃ شیئی بالاولی کما صرحوا بہ ایضا بحر ملتقطا، وفی الدر من العدۃ، الخلوۃ فی النکاح الفاسد لاتوجب العدۃ والطلاق فیہ لاینقص عدد الطلاق لانہ فسخ جوھرۃ۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ترجمہ:درمختار میں ہے کہ نکاح فاسد میں صرف شرمگاہ میں وطی سے مہر مثل واجب ہوتا ہے۔ نکاح فاسد وُہ ہے کہ جس میں صحتِ نکاح کی شرائط میں سے کوئی شرط مفقود ہو، مثلاً بے شہود نکاح اورمہر مثل بھی مقرر مہر سے زیادہ نہ ہوگا، اور اگر مہرمثل کم ہو مہر مسمٰی سے تو بھی مہر مثل لازم ہوگا، یہاں خلوت وغیرہ سے مہر واجب نہیں ہوتا کیونکہ یہ وطی کے قائم مقام نہیں ہے کیونکہ نکاحِ فاسد میں وطی خود حرام ہے اھ اختصاراً۔ اور ردالمحتار میں ہے ماتن کا قول، جیسے گواہ' اور اسی طرح اگر دو۲ بہنوں سے بیک وقت نکاح کیا ہو یا ایک بہن کی عدت میں دوسری بہن سے نکاح کیا ہو، ماتن کا قول کہ صرف شرمگاہ میں وطی سے مہر لازم ہوتا ہے تو دُبر میں وطی کرنے سے مہر لازم نہ ہوگا، خلاصہ اور قنیہ یونہی مَس اور بوس کنار شہوت سے کئے ہوں تو بھی مہر بطریق اولٰی لازم نہ ہوگا، جیسا کہ فقہا ء نے اس کی بھی تصریح کی ہے، بحر ۔ ملتقطا۔درمختار کی عدّت بحث میں ہے کہ نکاحِ فاسد میں خلوت، عدّت کو واجب نہیں کرتی اور نکاح فاسد میں طلاق سے عدد طلاق کم نہ ہوگا کیونکہ یہ فسخ ہے، جوہرہ ۔ واﷲتعالٰی اعلم۔(فتاوٰی رضویہ ، کتاب النکاح جلد 12 ص 161)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 19 رمضان المبارک 1446ھ/ 20 مارچ 2024 ء