مضاربِ ثانی کی تعدی کا حکم

    muzarib sani ki taaddi ka hukm

    تاریخ: 7 جولائی، 2026
    مشاہدات: 21
    حوالہ: 1589

    سوال

    ایک کمپنی جس کا نام آئی سمارٹ ہے ۔وہ لوگوں سے سرمایہ لے کر مختلف کاروبار میں لگاتی ہے اور حاصل ہونے والے منافع کمپنی اورانویسٹر کے درمیان تقسیم ہوتا ہےجس میں کمپنی 40 فیصد اور انوسٹر 60 فیصد نفع کا مالک بنتا ہے ۔زید نے عمرو کو اس کمپنی کے بارے میں بتایا۔عمرو نے جواب میں کہا کہ اس طرح کی کمپنی قابل اعتبارنہیں معاشرےمیں دھوکہ بہت زیادہ پھیل چکاہے اورحلال کے ساتھ حرام کی آمیزش ہو چکی ہے۔زید نے کہا کہ یہ کمپنی پرانی ہے اوراس کی نگرانی چندمفتیان کرام کر رہے ہیں،اس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے ۔ عمرو نے کہا مجھے اس کمپنی پر اعتبار نہیں۔ میں آپ کو پیسے دیتا ہوں آپ ہی اس کمپنی میں انویسٹ کریں ۔جومنافع مجھے کمپنی دے گی ،اُس میں نصف آپ رکھ لیجیے گا ۔اگر کمپنی نے چکر اور دھوکہ کیا تو میرے پیسے آپ مجھے واپس کریں گے۔ زید نے اس پر حامی بھر لی زید نےعمرو کے اڑھائی لاکھ روپے کے ساتھ اپنے اڑھائی لاکھ روپے ملا کر کمپنی کے ساتھ اسٹام کیا ۔ زید اور کمپنی کے درمیان یہ انویسمنٹ چار ماہ کی تھی ۔یہ انویسمنٹ نومبر 2023ء میں ہوئی ۔جس کے مطابق کمپنی نے مارچ 2024ء کے آخر میں زید کو اصل سرمایہ اور منافع واپس کرنا تھا ۔بدقسمتی سے کمپنی نے وقت مقررہ پر زید کو اصل سرمایہ اورمنافع واپس نہیں کیا ۔کمپنی کے مالک کے خلاف مختلف لوگوں نے ایف آئی آرز کروائیں ۔وہ اس وقت جیل میں ہے ۔اس کا کیس نیب میں چل رہا ہے ۔

    اب درج ذیل سوالات کا جواب مطلوب ہے ۔

    1: عمرو نے زید سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارے درمیان یہ طے ہوا تھا کہ میرے پیسے آپ کمپنی میں انویسٹ کردیں ۔اگر کمپنی نے دھوکا اورفراڈ نہ کیا اور اصل سرمایہ اور منافع دیا تو میں منافع کا نصف آپ کو دے دوں گا ۔اگر کمپنی نے چکر اور دھوکہ کیا تو آپ میرے پیسے واپس کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔کمپنی نے مار چ 2024ء میں ہمیں اصل سرمایہ اور منافع دینا تھا ۔ اب جنوری 2025ء آچکا ہے ۔کمپنی کا مالک بھی جیل میں ہے۔وقت مقرر سے دس مہینے زائد عرصہ گزر چکا ہے ،لہذا آپ میرے پیسے واپس کرنے کے پابند ہیں اورمیرے پیسے واپس کریں۔زید نے جواب میں کہا کہ جب ہمارے درمیان منافع نصف تھا تو نقصان بھی نصف ہو نا چاہیے ۔لہذا میں نصف پیسے واپس کروں گا ۔ عمرو اس بات پر بضد ہے کہ بوقت معاہدہ ہمارے درمیان یہ بات طے ہوئی تھی کہ آپ تمام پیسے واپس کرنے کے ذمہ دار ہوں گے اوریہ ذمہ داری اُٹھانے پر ہی آپ کو میرے منافع کا نصف دیا جانا تھا ۔لہذا اب آپ اپنے معاہدہ اورزبان سے منحرف ہو رہے ہیں ۔اب آپ جناب سے سوال یہ ہے کہ کیا زید نصف پیسے واپس کرنے کا ذمہ دار بنتا ہے یا پورے پیسے واپس کرنے کا ذمہ دار بنتا ہے ۔از روئے شرع جواب درکار ہے ۔

    2: عمرو نے زید سے مطالبہ کیا ہے کہ مارچ 2024ء میں کمپنی نے اصل سرمایہ اورمنافع دینا تھا ۔اب اس پر مزید دس مہینے گزر چکے ہیں ۔لہذا مجھے جس قدر جلدی ممکن ہو، پیسے واپس کریں ،میں اس سے زیادہ انتظارکرنے کا متحمل نہیں ۔جب کہ زید یہ کہتا ہے کہ میں نے نیب میں کیس کر رکھا ہے ۔جب پیسے ملیں گے تو میں واپس کردوں گا ۔عمرو نے کہا کہ نیب کا کیا معلوم کہ وہ کب پیسے واپس کروائے ،وقت مقرر مارچ 2024ء تھا۔اب اس پر مزید دس ماہ گزر چکے ہیں ۔لہذا مجھے آپ جتنی جلدی ہو سکے پیسے واپس کریں ۔کیا عمرو کا یہ مطالبہ درست ہے ؟

    سائل : عبد اللہ ،اسلام آباد


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    تنقیحِ مسئلہ:

    سوال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کمپنی مضاربہ کے اصولوں پر کام کرنے کا عقد کرتی تھی کہ لوگوں سے پیسے لے کر مختلف کاروبار میں لگاکر حاصل شدہ نفع کمپنی اور انوسٹرز کے مابین تقسیم کرتی ہے۔ عمرو کا زید کو یہ کہہ کر رقم دینا کہ '' میں آپ کو پیسے دیتا ہوں آپ ہی اس کمپنی میں انویسٹ کریں جومنافع مجھے کمپنی دے گی ،اُس میں نصف آپ رکھ لیجیے گا'' بھی عقدِ مضاربت کی ایک صورت ہے جس میں رب المال یعنی عمرو نے زید کو مضارب بنایااور اجازت دی کہ وہ اسکی رقم مذکورہ کمپنی میں انوسٹ کردے بایں طور عمرو( رب المال) زید (مضارب اول) اور کمپنی (مضاربِ ثانی )قرار پائی ۔ اور طے شدہ مقدار کے مطابق کل نفع کا40 فیصد کمپنی کا اور بقیہ 60 فیصد میں زید و عمرو کا نصف نصف ہوگا۔

    حکم:

    چونکہ عمرو رب المال ہے، زید مضاربِ اول ہے جبکہ کمپنی مضارب ثانی۔ لہذا نفع کی صورت میں مال اس طریقے پر تقسیم ہوتا جو عقد میں طے ہوا جسکا ذکر ابھی گزرا۔ اور نقصان کا حکم یہ ہے کہ اگر تو نقصان مضاربِ ثانی کی غفلت و کوتاہی کےبغیر ہوا تو مضاربِ اول و ثانی میں سے کوئی بھی اس نقصان کا ضامن نہیں ،بلکہ مکمل نقصان رب المال کو برداشت کرنا ہوگا۔البتہ اگر نقصان مضاربِ ثانی کی تعدی، غفلت، کوتاہی یا غیر ذمے داری سے ہوا تو اس صورت میں فقط مضاربِ ثانی ہی کل نقصان کا ضامن ہوگا۔ جبکہ مضارب ِ اول اس نقصان کے ضمان سے بری ہوگا تاہم اخلاقاً اس پر لازم ہے کہ رب المال کے مال کے حصول میں اپنا کردار ادا کرے۔

    البتہ عمرو کا یہ شرط لگانا کہ ''اگر کمپنی نے چکر اور دھوکہ کیا تو میرے پیسے آپ مجھے واپس کریں گے'' کچھ حیثیت نہیں رکھتا بلکہ یہ شرط ازخود باطل ہوجائے گی اور مضاربت صحیح ہوجائے گی۔ کیونکہ یہ عقد مضاربت میں ایسی شرط لگاناہے جس سے مضاربت فاسد نہیں ہوتی کیونکہ مضاربت میں ایسی شرط عقد کو باطل کردے گی جس کے سبب نفع میں جہالت پیدا ہوجائے یا پھر شرکت منقطع ہوجائے بصورتِ دیگر وکالت کا اعتبار کرتے ہوئے عقد درست قرار دیا جاتا ہے اور شرط باطل قرار دی جاتی ہے اور بعینہ یہاں یہی صورت ہے کیونکہ عمرو کی اس شرط سے نہ تو نفع میں جہالت پیدا ہوئی اور نہ ہی شرکت منقطع ہوئی۔ کما ھو لایخفی

    تنویر الابصار میں ہے: ولو قال له ما ربحت بيننا نصفان، ودفع بالنصف فللثاني النصف، واستويا فيما بقي) ؛ لأنه لم يربح سواه۔ ترجمہ: اور اگر اس سے کہا جو تجھے نفع ہو ہمارے درمیان نصف ہوگا اور اس نے دوسرے کو نصف پر دیا تو دوسرے کے لئے نصف ہے اور بقیہ دونوں (مضاربِ اول اور رب المال) کے مابین برابر تقسیم ہوگا۔(تنویر الابصار مع الدر المختار، جلد 5ص 653)

    مضارب ثانی مال ہلاک کردے تو ضمان کا کیا حکم ہوگا اس بارے میں اسی میں ہے: ولو استهلكه الثاني أو وهبه فالضمان عليه خاصة۔ترجمہ:اور اگر دوسرا مضارب مال ہلاک کردے اور ہبہ کردے تو ضمان خاص اس پر ہی ہوگا۔(تنویر الابصار مع الدر المختار، جلد 5ص 653)

    ہندیہ میں اس بارے میں ہے: "ولو استهلك المضارب الآخر المال أو وهبه كان الضمان على الآخر خاصة دون الأول لأنه في مباشرة هذا الفعل مخالف لما أمره الأول فيقتصر حكمه عليه"۔ ترجمہ:اگر مضارب ثانی مال ہلاک کردے یا مال ہبہ کردے تو ضمان خاص اسی مضاربِ ثانی کے لئے نہ کہ اول پر، کیونکہ دوسرے مضارب نے اس عمل کو سرانجام دیتے وقت پہلے مضارب کے حکم کی خلاف ورزی کی، لہٰذا حکم اسی پر عائد ہوگا۔(کتاب المضاربۃ،الباب السابع فی المضارب یضارب،ج4،ص299،ط؛دار الفکر)

    مضاربت میں کونسی شرط اسے فاسد کرے گی اس بارے میں تنویر الابصار میں ہے:وفي الجلالية كل شرط يوجب جهالة في الربح أو يقطع الشركة فيه يفسدها، وإلا بطل الشرط وصح العقد اعتبارا بالوكالة۔ ترجمہ: اور جلالیہ میں ہے ہروہ شرط جو نفع میں جہالت لازم کردے یا نفع میں شرکت ختم کردے مضاربت کو فاسد کردے گیوگرنہ شرط باطل ہوگی اور وکالت کا اعتبار کرتے ہوئے عقس درست ہوگا۔

    اس کے تحت علامہ شامی فرماتے ہیں: قولہ: ”بطل الشرط“ کشرط الخسران علی المضارب۔ ترجمہ: ماتن کا قول شرط باطل ہوجائے گی جیساکہ مضارب پر نقصان پورے کرنے کی شرط لگانا۔(رد المحتار مع الدرالمختار شرح تنویر الابصار، جلد 5 ص 648)

    مجلہ الاحکام میں ہے:إذا هلكت الوديعة، أو طرأ نقصان على قيمتها في حال تعدي المستودع، أو تقصيره، يلزم الضمان۔ ترجمہ: اگر امانت ضائع ہو جائے یا اس کی قیمت میں کمی واقع ہو جائے، اور یہ نقصان امانت دار کی زیادتی یا کوتاہی کی وجہ سے ہو، تو اس پر ضمان لازم ہوگا۔(مجلۃ الأحکام العدلیۃ،ص:150، المادہ : 787)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: رجب المرجب 1446ھ/ 15 جنوری 2025 ء