zindagi mein raqam ki taqseem ka hukum
سوال
مفتی صاحب مجھے آپ سے ایک مشورہ لینا ہے کہ میرے پاس کچھ رقم جمع ہے، میرے چار بچے ہیں ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ۔ میں چاہتی ہوں کہ میرے بعد یہ رقم بیٹے اور بیٹیوں کو برابر برابر ملے تو کیا یہ شرعی حساب سے صحیح ہے یا غلط؟
سائلہ: فیروزہ سلطانہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
آپ کے پاس جو رقم ہے اگر آپ اس رقم کو اپنی زندگی میں ہی اپنے بیٹوں اور بیٹیوں درمیان برابر برابر تقسیم کرنا چاہتی ہیں تو کر سکتی ہیں ۔آپ کے وصال کے بعد وہ رقم ان ورثاء کے درمیان ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی جو آپ کے وصال کے وقت موجود ہوں گے۔
اگر ورثاء یہی ہیں تو کل رقم کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے دو حصے بیٹے کو ملیں گے اور ایک ایک حصہ بیٹیوں کو ملے گا ، یعنی بیٹے کو بیٹیوں سے دوگنا ملے گا۔
البحر الرائق میں ہے:"يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ '':ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکروہ ہے۔( البحر الرائق کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ،ج:7،ص:288)
ہدایہ میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت:ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) ہوں۔( الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424)
لڑکا اور لڑکی کا حصہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمادیا ہے۔قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ : ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : 11)
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین : ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:04 صفر المظفر 1440 ھ/15اکتوبر 2018 ء