ترکے سے خریداری کی صورت میں ورثاء کا حکم
    تاریخ: 24 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 24
    حوالہ: 434

    سوال

    ہم اپنی والدین کی وراثت کیسے تقسیم کریں؟سب سے پہلے 2009 میں ہماری والدہ کا انتقال ہوا۔ان کے بعد 2011 میں والد صاحب بھی انتقال کرگئے۔ورثاء میں 5 بیٹےاور 3 بیٹیاں ہیں۔بنک بیلنس والدین کے وقت سے ہے۔تمام بھائیوں کی محنت سے یہ جائیداد بنی ہے۔کچھ جائیداد ہمارے بھائی نے کاروبار ہی کے پیسوں سے بنائیں لیکن ہم سے چھپا کر رکھیں، اب ان کا کہنا ہے کہ یہ خاص جائیداد میری اپنی ہیں۔

    سائل: شاہد احمد،اورنگی ٹاؤن کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر سائل اپنے بیان میں سچا ہے اور وہی ورثاء ہیں جو سوال میں مذکور ہیں تومرحوم کے کفن دفن کے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لئے وصیت کی ہو تو اس کو مرحوم کے تہائی مال سے پورا کرنے کے بعد تمام ترکہ کے کل 13 حصے کئے جائیں گےجن میں سے ہر ایک بیٹے کو 2 حصے اور ہر ایک بیٹی کو 1 حصہ تقسیم ہوگا۔ترکے کی حسابی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ ترکے کی کل رقم کو مبلغ یعنی 13 سے تقسیم Divide کریں جو جواب آئے اسے محفوظ کرلیں اور اسے ہر ایک وارث کے حصے (مثلاً یہاں بیٹے کا حصہ 2 ہے) پر ضرب Multiplyدے دیں، حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    نیز بھائی کا والد کے بینک بیلنس سے بنائی گئی اضافی جائیداد میں دیگر ورثاء اپنی حصہِ میراث کے بقدر رقم کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ البتہ اس اضافی جائیداد کے مالکانہ حصے کا مطالبہ انہیں جائز نہیں،کیونکہ جب کوئی شریک مشترک مال سے خریداری کرتا ہے تو بقیہ شرکاء کی رقم اس خریدار شریک پر قرض ہوجاتی ہے لہذا مطالبہ قرض کا کیا جاتا ہے نہ کہ اس قرض سے خریدی گئ شے کا۔بہرحال بھائی کا بلا اجازت شرکاء ان کی رقم استعمال کرنا جائز نہ تھا لہذا اس فعل پر توبہ لازم ہے۔

    نیز اصول ہے کہ وراثت مورث (جسکی وراثت تقسیم ہونی ہے) کے انتقال کے وقت زندہ وارثوں میں تقسیم ہوتی ہے، اگرچہ وہ بعد میں خود انتقال کر جائیں۔مزید یہ کہ ترکے کی تقسیم کے وقت ہر چیز کی تقسیم کا حکم الگ الگ بیان نہیں کیا جاتا، بلکہ منقولہ و غیر منقولہ ترکے (مثلاً: دکان،مکان،پلاٹ،زمین،زیورات،بینک اکاؤنٹ وغیرہ)میں سے ہر چیز کو فروخت کرکے یا اس کی موجودہ قیمت لگاکر مجموعی مالیت نکالی جاتی ہےاور پھر اس سب مال کی شریعت کے مطابق تقسیم ہوتی ہے۔

    المسئلۃ بھذہ الصورۃ:

    13

    میـــــــــــــــــــــــــــــــت

    5 بیٹے 3بیٹیاں

    عصــــــــــــــــــــــــبہ

    10/2 3/1

    دلائل و جزئیات:

    قرآنِ مجید میں زوجہ کے حصے کے متعلق اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.ترجمہ:تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔(النساء:12)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : 11)

    اولاد کی موجودگی میں والدہ کا کل ترکے میں سے چھٹا حصہ ہے، فرمان باری تعالی ہے: وَ لِاَبَوَیۡہِ لِکُلِّ وٰحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنۡ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ. ترجمہ:اور میت کے ماں باپ (میں سے) ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا(حصہ ملے گا) اگر میت کے اولاد ہو۔(النساء: 11)

    وراثت میں شوہر کے حصے کے متعلق ارشادباری تعالی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ.ترجمہ: اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : 11)

    مشترکہ مال سے خریداری کی صورت میں شرکاءکے حق کے متعلق علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:‎"وَمَا اشْتَرَاهُ أَحَدُهُمْ لِنَفْسِهِ يَكُونُ لَهُ وَيَضْمَنُ حِصَّةَ شُرَكَائِهِ مِنْ ثَمَنِهِ إذَا دَفَعَهُ مِنْ الْمَالِ الْمُشْتَرَكِ".ترجمہ:ان میں سے جو بھی اپنی ذات کے لئے خریدے گا وہ اسی کی ہوگی، اور اس کے شرکاء اتنے ثمن (قیمت) کا اس کو ضامن بنائیں بشرطیکہ اس نے مشترکہ مال سے ادائیگی کی ہو۔(ردالمحتار علی درالمختار، کتاب الشرکۃ،4/307،دار الفکر)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’غایت یہ کہ اگر ثابت ہوجائے کہ زرثمن مال مشترک سے دیا گیا تو باقی ورثہ (یعنی شرکاء)کا اس قدر روپیہ بقدر اپنے اپنے حصص کے بکر پر قرض رہے گا جس کے مطالبہ کے وہ مستحق ہیں نہ کہ جائیداد کا کوئی پارہ ان کی ملک ٹھہرے‘‘۔(فتاوی رضویہ،19/196، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    مال وراثت زندہ وارثین میں ہی تقسیم ہوتا ہے، چنانچہ ہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:" ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه".ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو اس کی موت سے پہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے۔( الہدایۃ ،کتاب المفقود ،2/424،دار احیاء التراث العربی)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:17 ذو الحجہ1445 ھ/24 جون 2024ء