سوال
مجھے وراثت کامسئلہ حل کروانا ہے۔ میری پھوپھو (معراج بی بی) کو میرے دادا کے کلیم سے ایک مکان ملا جس کا ایک حصہ کمرشل سڑک پر نکلتا ہے جس میں تین دکانیں بنی ہوئی ہیں اور مزید ایک دکان کی گنجائش ہے جبکہ پچھلے حصے میں سے کچھ پر مکان بنا ہوا تھا باقی کچھ پلاٹ خالی تھا۔میرے والد پھوپھو سے 10 یا بارہ سال چھوٹےتھے لیکن بیماری کیوجہ سے اُن کا انتقال 40 سال پہلے ہی ہو گیا تھا۔ پھوپھو کی کوئی اولاد نہیں تھی اور اب پھوپھو کے انتقال کو بھی تقریباً 10 سال ہو گئے ہیں۔
دوکانوں میں سے ایک دوکان میں پھوپھا خود کام کرتے تھے اور ان کے ساتھ پھوپھو کے ماموں زاد بھائی (اکرم) مدد کرواتے تھے۔ پھوپھا کے انتقال کو 24 سال ہو گئے ہیں ان کے انتقال کے بعد اکرم چاچا نے دوکان سنبھال لی تھی۔تقریباً 9 سال پہلے اُن کابھی انتقال ہو گیا۔اسکے بعد کچھ عرصے اُن کے بیٹے حماد نے کام کیا۔اب وہ دوکان بند پڑی ہے اور باقی دو دوکانیں کرائے پر ہیں۔ہم چونکہ کراچی میں رہتے ہیں اور یہ گھر اندرون سندھ کے ایک گاؤں شاہ پور چاکر میں ہے۔ اور حماد کی رہائش گاؤں میں ہونے کیوجہ سے ان کا کرایہ حماد لیتا ہے اور مسجد وغیرہ میں دے دیتا ہے۔ پھوپھو نے اپنی زندگی میں گاؤں میں رہنے والے ہمارے رشتہ دار کے سامنے یہ بات بولی کہ ایک دوکان پر اکرم (ماموں زاد بھائی) کام کر رہا ہے،یہ دوکان اس کو دوں گی جبکہ دو میں سے ایک دوکان گاؤں کی مسجد میں دے دوں گی اور باقی سب میرے بڑے بھائی مجیب (بھتیجے) کو دوں گی۔
ہم 2 بھائی 4 بہنیں ہیں۔ پھوپھو نے ہم میں سے کسی کے سامنے کچھ نہیں بولا۔پچھلے سال بارشوں میں مکانی حصہ بیٹھ گیا تو اب ہم اس کو فروخت کرنا چاہتے ہیں کہ کہیں قبضہ نہ ہو جائے۔جو قیمت لگی ہے وہ پونے چار کروڑ ہے۔بروکر کو دینے اور کاغذات کی مد میں تقریباً 8 لاکھ کا خرچہ ہوا تھا۔اب اسکی شرعی حساب سے تقسیم کیسے ہوگی؟
پھوپھوکے ورثاء میں ہم 2بھتیجے اور 4 بھتیجیاں ہیں،باقی ان کے شوہر،والدین،بھائی(ہمارے والد) پہلے انتقال کرگئے۔ پھوپھو کی نہ کوئی اولاد تھی نہ ہی سگی بہن،البتہ ایک سوتیلی بہن حیات ہیں (جو کہ ان کے والد صاحب کی دوسری شادی سے ہے)۔
نوٹ: سائل کے بیان کے مطابق پھوپھو نے جس دوکان کو مسجد کیلئے دیے جانے کا کہا تھا اس کا معنی ہے اس کی آمدنی مسجد کیلئے لگائی جائے۔
سائل: عبد الماجد،کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر سائل اپنے بیان میں سچا ہے اور حقیقت میں وہی صورت ہے جو بیان کی گئی تو مرحومہ کا اپنے ماموں زاد بھائی اور بھتیجے کیلئے دوکانوں کا کہنا اور ایک دوکان کی آمدنی کا مسجد کیلئے کہنا وعدہ ِہبہ و و قف (یعنی تحفے اور وقف کا وعدہ) ہے اور وعدہ کوئی شے لازم نہیں کرتا۔ لہذا یہ تینوں دوکانیں بدستور مرحومہ کے ترکے میں تقسیم ہونگی۔
مرحومہ کی میراث کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ مرحومہ کے کفن دفن کے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لئے وصیت کی ہو تو اس کو مرحومہ کے تہائی مال سے پورا کرنے کے بعد تمام ترکہ کے کل 4 حصے کئے جائیں گےجس میں سے 2 حصے پھوپھو کی سوتیلی (علاتی) بہن کو ملیں گے بقیہ 2 صرف بھتیجوں میں تقسیم ہونگے، اس طور پر کہ ہر ایک بھتیجے کو 1 حصے دیا جائے گا۔
بھتیجیوں کو کچھ نہیں ملے گا کیونکہ وہ ذوی الارحام ہیں جبکہ بھتیجے عصبہ اورمیراث کا قاعدہ ہے کہ تقسیم ِوراثت میں ابتداء اصحابِ فرائض سے کی جاتی ہے،اگر وہ نہ ہوں تو عصبہ نسبی،اگر وہ نہ ہوں توعصبہ سببی ، اگر وہ نہ ہوں تو عصبہ سببی کے عصبہ نسبی اور پھر ردعلی ذوی الفروض ، پھر اس کے بعد ذوی الارحام کا حصہ ہوتا ہے۔بھتیجے عصبہ نسبی میں سے ہیں اور بھتیجا اپنی بہن یعنی بھتیجی کو عصبہ نہیں کرتا۔
اسی طرح جو ورثاء مورث (جن کی وراثت تقسیم ہونی ہے) سے پہلے انتقال کر گئے ہوں، ان کا حصہ ان کے ورثاء میں منتقل نہیں ہوتا کیونکہ وراثت مورث کے انتقال کے وقت زندہ وارثوں میں تقسیم ہوتی ہے، اگرچہ وہ بعد میں خود انتقال کر جائیں۔
نیز ترکے کی تقسیم کے وقت ہر چیز کی تقسیم کا حکم الگ الگ بیان نہیں کیا جاتا، بلکہ منقولہ و غیر منقولہ ترکے (مثلاً: دکان،مکان،پلاٹ،زمین،زیورات،بینک اکاؤنٹ وغیرہ)میں سے ہر چیز کو فروخت کرکے یا اس کی موجودہ قیمت لگاکر مجموعی مالیت نکالی جاتی ہےاور پھر اس سب مال کی شریعت کے مطابق تقسیم ہوتی ہے۔
المسئلۃ بہذہ الصورۃ:
2×2=4
مــیــــــــــّـــــــــــــــــــــــــــــــت
علاتی بہن 2بھتیجے 4بھتیجیاں
1×2 1×2 محروم
2 2/1
محض وعدہ کوئی شے لازم نہیں کرتا،علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم المصری (المتوفی:970ھ) فرماتے ہیں:"وَلَا يَلْزَمُ الْوَعْدُ إلَّا إذَا كَانَ مُعَلَّقًا".ترجمہ:وعدہ پورا کرنا قضاء لازم نہیں سوائے یہ کہ وعدہ کسی شے پر معلق ہو۔(الاشباہ والنظائر ومع غمز عیون البصائر،کتاب الحظر والباحۃ،3/237،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
تقسیم ِوراثت میں اصول کے متعلق السراجی فی المیراث میں ہے:فیبدا باصحاب الفرائض،ثم بالعصبات من جھۃ النسب، ثم بالعصبہ من جھۃ السبب، ثم عصبتہ علی الترتیب ، ثم الرد علی ذوی الفروض النسبیہ،ثم ذوی الارحام۔ترجمہ: وراثت میں ابتدا اصحابِ فرائض سے کی جاتی ہے،اگر وہ نہ ہوں تو ان کے بعد عصبہ نسبی،اگر وہ نہ ہوں تو ان کے بعد عصبہ سببی ، اگر وہ نہ ہوں تو ان کے بعد عصبہ سببی کے عصبہ نسبی اور پھر ردعلی ذوی الفروض ، پھر اس کے بعد ذوی الارحام۔(السراجی فی المیراث،ص16، مکتبۃ البشرٰی)
علاتی بہن کے حصے کے متعلق علامہ سراج الدین محمد بن عبد الرشید السجاوندی (المتوفی:600ھ) فرماتے ہیں:"والاخوات لأب كالأخوات لأب وأم، ولهن أحوال سبع: النصف للواحدة... ولا يَرِثْنَ مع الأختين لأب وأم، إلا أن يكون مَعَهُنَّ أخ لأب فيُعَصّبهنّ والباقي بينهم للذكر مثل حظ الانثيين".ترجمہ:میراث میں علاتی بہن حقیقی بہن کی طرح ہیں، علاتی بہن کے سات احوال ہیں۔(پہلا) اگر علاتی بہن اکیلی ہو تو اسے (کل ترکے سے) آدھا حصہ ملے گا۔ علاتی بہنیں حقیقی بہنوں کے ہوتے ہوئے وارث نہیں ہوتیں الاّ یہ کہ ان کے ساتھ علاتی بھائی بھی ہو تو وہ انہیں عصبہ بنا دے گا اس طور پر لڑکے کو دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ملے گا۔(السراجیۃ مع القمریۃ،ص 24،مکتبۃ المدینۃ کراچی)
بھتیجے عصبہ وارث ہیں اور عصبہ کے متعلق علامہ سراج محمد بن عبد الرشید السجاوندی فرماتے ہیں:"والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال۔ ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں) تو سارے مال کا مستحق ہوجائے۔(السراجیۃ مع القمریۃ،ص 13،مکتبۃ المدینۃ کراچی)
بھتیجیاں ذوی الارحام ہوتی ہیں، چنانچہ فتاوٰی ہندیہ میں ہے: ذَوُو الْأَرْحَامِ أَرْبَعَةُ أَصْنَافٍ... صِنْفٌ يَنْتَمِي إلَى أَبَوَيْ الْمَيِّتِ كَبَنَاتِ الْإِخْوَةِ لِأَبٍ وَأُمٍّ أَوْ لِأَبٍ". ترجمہ:ذوی الارحام کی چار قسمیں ہیں۔تیسری قسم جن کی نسبت میت کے ابوین کی طرف ہو جیسے سگی یا باپ شریک بھائیوں کی بیٹیاں (یعنی بھتیجیاں)۔(الفتاوی الہندیۃ، 6/459،دارالفکر بیروت)
ذوی الارحام کب وارث ہوتے ہیں؟ چنانچہ الفتاوی الہندیۃ میں ہے: " وَإِنَّمَا يَرِثُ ذَوُو الْأَرْحَامِ إذَا لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِ الْفَرَائِضِ مِمَّنْ يُرَدُّ عَلَيْهِ وَلَمْ يَكُنْ عَصَبَةٌ ".ترجمہ: ذوی الارحام اسی وقت وارث ہوں گے جب کہ اصحاب فرائض میں سے وہ لوگ موجود نہ ہوں جن پر مال دوبارہ رد کیا جا سکتا ہو اور عصبہ بھی نہ ہو۔ (الفتاوی الہندیۃ،الباب العاشر فی ذوی الارحام،6/459،دار الفکر)
بھتیجا اپنی بہن یعنی بھتیجی کو عصبہ نہیں کرتا،چنانچہ رد المحتار میں ہے:" أن ابن الأخ لا يعصب أخته". ترجمہ: بھائی کا بیٹا (یعنی بھتیجا) اپنی بہن کو عصبہ نہیں بناسکتا۔(رد المحتار،فصل فی العصبات،6/783،دار الفکر)
ایسا ہی الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"وَبَاقِي الْعَصَبَاتِ يَنْفَرِدُ بِالْمِيرَاثِ ذُكُورُهُمْ دُونَ أَخَوَاتِهِمْ وَهُمْ أَرْبَعَةٌ أَيْضًا: الْعَمُّ وَابْنُ الْعَمِّ وَابْنُ الْأَخِ وَابْنُ الْمُعْتَقِ كَذَا فِي خِزَانَةِ الْمُفْتِينَ".ترجمہ: باقی عصبات میں مر دلوگ تنہا میراث کو لے لیتے ہیں ان کے ساتھ ان کی بہنوں کو نہیں ملتی ہے اور وہ بھی چار ہیں: (۱)چاچا(۲)چا کا بیٹا (۳)بھائی کا بیٹا (یعنی بھتیجا) اور (۴)آزاد کنندہ کا بیٹا ،یہ خزانہ المفتین میں ہے۔(الفتاوى الهندية،كتاب الفرائض،الباب الثالث في العصبات،6/451،دار الفکر)
مال وراثت زندہ وارثین میں ہی تقسیم ہوتا ہے، چنانچہ ہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:" ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه".ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو اس کی موت سے پہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے۔( الہدایۃ ،کتاب المفقود ،2/424،دار احیاء التراث العربی)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:15 ذو الحجہ1445 ھ/22 جون 2024ء