ولدیت تبدیل کرنا اور اولاد کی وراثت کی مشروعیت
    تاریخ: 22 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 38
    حوالہ: 431

    سوال

    میرا نام رشیدہ شفیق ہے۔میری ایک بیٹی اور بیٹا تھا اور جب اللہ تعالی نے ایک اور بیٹا دیا تو ہم دونوں میاں بیوی نے آپس میں مشورہ کیا اور اپنے والدین کی مرضی سے اپنا بیٹا (بلال) شوہر کے بھائی کو دے دیا، ان کے اپنے بچے نہیں تھے۔دادی دادا تو ایک ہی تھے ،وہ دوبئی سے بچے کو لینے آئے تھے۔ بچے کے پاسپورٹ پیپر پر انہوں نے اپنی ہی ولدیت لکھوائی ،اس وقت ہمیں پتہ نہیں تھا اب ہر کوئی کہتاہے کہ والد کا نام نہیں بدلنا چاہیے۔اب ہمارا وہ بچہ (بلال) بڑا ہو گیا شادی بھی ہوگئی ،ماشاء اللہ سے اس کے دو بچے بھی ہیں۔اور دوبئی میں جاب کرتا ہے بچے بھی وہاں پر ہی سیٹ ہیں۔اس کے نکاح نامہ پر تایا ابو جنہوں نے اسے پالا والد کی جگہ اپنا ہی نام لکھوایا۔ ہمارا بچہ (بلال)ان کو ہی والدین سمجھتا ہے اس کو ہمارے بارے میں پتہ ہی نہیں ، وہ ہمیں چاچا ‘چاچی سمجھتا ہے ۔میرے جیٹ نہیں چاہتے کہ بلال کو پتا چلے کے وہ ان کی سگی اولاد نہیں ہے۔میرے جیٹ کہتے ہیں کہ جائیداد میں بلال کو چاہے کچھ نہیں دینا تاکہ اسے پتہ نہ چلے،کیونکہ ان کے پاس اللہ کا دیا سب کچھ ہے ۔آپ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ بلال ہماری جائیداد کا وارث ہوگا یا نہیں؟کیونکہ وہ میرے باقی سب بچوں سے اچھا کماتا ہے۔

    سائلہ: رشیدہ شفیق

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بچے کے سگے باپ کی جگہ کسی اور کا نام لکھوانا ممنوع ہے کیونکہ قرآن مجید میں بچوں کو ان کے حقیقی باپ کے نام سے پکارنے کا حکم ہے۔پھر سوال کا جواب یہ کہ بلال سمیت آپ کی تمام اولاد آپ کے جائیداد کی وارث ہوگی۔

    اولاد کیلئے وراثت کا حکم قرآن وحدیث سے ثابت ہے، اس میں کسی کا خوش حال اور امیر ہونا وراثت کو نہیں روکتا۔حتی کہ خود وارث کے قبضہ سے پہلے زبانی انکار سے بھی اس کا ترکے (جائیداد) سے حصہ ختم نہیں ہوتا کہ وراثت جبری ہے یعنی چاہے نہ چاہے وارث اپنے مورث (جس کی وراثت تقسیم ہونی ہے) کی جائیداد کا مالک ہوتا ہے۔بلکہ اگر کوئی کسی وارث کا حصہ ظلماً روکتا ہے اسکے متعلق حدیث مبارکہ میں سخت وعید آئی کہ اللہ عزوجل آخرت میں جنت سے اس کی میراث ختم فرما دے گا العیاذ باللہ تعالی۔

    دلائل جزئیات:

    اللہ ربّ العزّت فرماتا ہے: "ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللہ". ترجمہ: انہیں ان کے باپ کا ہی کا کہہ کر پکارو۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے۔( الاحزاب:5)

    رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمايا:" مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ".ترجمہ:جس نے خود کو اپنے باپ کے غیر کی طرف منسوب کیا حالانکہ اسے علم تھا کہ وہ اس کا باپ نہیں ہے تو جنت اس پر حرام ہے۔(صحیح البخاری،8/156،رقم الحدیث:6766، دار طوق النجاة)

    قرآن مجید میں اولاد کے میراث کے متعلق ارشاد ہوا:"یُوۡصِیۡکُمُ اللہُ فِیۡۤ اَوْلاَدِکُم لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ترجمہ: اللہ(عزوجل)تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے۔(النساء:11)

    حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ، صُلِّيَ عَلَيْهِ وَوُرِثَ".ترجمہ:جب بچہ زندہ پیدا ہو تو اس پرنماز بھی پڑھی جائے گی اوراس کو وارث بھی بنایا جائے گا‘‘۔(سنن ابن ماجۃ،کتاب الجنائز، باب ماجاء في الصلاۃ علی الطفل،1/483،رقم الحدیث:1508،دار إحياء الكتب العربية)

    مورث کے فوت ہوتے ہی مال وراثت میں وارث کی ملکیت ثابت ہو جانے کے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”ارث جبری ہے کہ موت مورث پر ہر وارث خواہ مخواہ اپنے حصہ شرعی کا مالک ہوتا ہے، مانگے خواہ نہ مانگے ، لے یا نہ لے، دینے کا عرف ہو یا نہ ہو ، اگر چہ کتنی ہی مدت ترک کو گزر جائے ، کتنے ہی اشتراک در اشتراک کی نوبت آئے ، اصلاً کوئی بات میراث ثابت کو ساقط نہ کرے گی ، نہ کوئی عرف فرائض اللہ کو تغیر کر سکتا ہے، یہاں تک کہ نہ مانگنا در کنار ، اگر وارث صراحت کہہ دے کہ میں نے اپنا حصہ چھوڑ دیا ، جب بھی اس کی ملک زائل نہ ہوگی ‘‘۔(فتاوی رضویہ،26/113،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    کسی وارث کو میراث نہ دینے کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:" مَنْ فَرَّ مِنْ مِيرَاثِ وَارِثِهِ، قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".ترجمہ: جو وارث کو میراث دینے سے بھاگے ،اللہ قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث قطع فرما دے گا۔(سنن ابن ماجہ، کتاب الوصایا،باب الحیف فی الوصیۃ،2/902،رقم:2703، دار إحياء الكتب العربية)‎ (شعب الایمان،10/340، رقم:7594، مکتبۃ الرشد)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:25 ذو القعدہ 1445 ھ/3 جون 2024ء