سوال
میرا نام محمد عامر ولد عبد العزیز ۔آپ سے دو سوالوں کے جواب اسلامی نقطہ نظر سے درکار ہیں:
(۱)میرے والد صاحب محترم مر حوم کا انتقال 24 دسمبر 2021کراچی میں ہوا۔ان کے ورثاء میں زوجہ ، دو بیٹے ، تین بیٹیاں ہیں۔اسوقت میں نے اپنے چھوٹے بھائی جنید کو کہا کہ تمہیں والد صاحب نے اسٹاک اور دیگر پر اپرٹیوں کا امین بنایا تھا (جس کے قانونی دستاویز موجود ہیں) ان تمام پراپرٹی واسٹاک کو اسلامی قانون کے مطابق تقسیم کیا جائے ۔ جس پہ میرے بھائی نے کہا کہ ابو نے زبانی وہ تمام پراپرٹی و اسٹاک اکیلے اس کے نام کر دی ہیں لہذا وہ کوئی حساب نہیں دے گا ۔آپ جناب کی خدمت میں عرض ہے کہ کیا بھائی امین ہو کر مالک بن سکتا ہے؟ اور اگر نہیں تو اس کی آخرت میں کیا سزا ہے؟
(۲)میرے ابو نے اپنی حیاتی میں اپنے پانچوں اولادوں کو کچھ پراپرٹی اور کیش بطور گفٹ دیئے جو قانونی طور پر گفٹ ڈیڈ کے ذریعے ان سب کے نام کیے گئے اور ان پر قبضہ بھی انہی کا تھا۔کیا ان گفٹ پراپرٹی کی ملکیت صرف اسی اولاد کی ہے؟ یا وہ بھی ابو کی وراثت سمجھی جائے گئی؟ اور کیا ماں کو بھی حصہ دیا جائے گا ؟ اور وہ و ماں کا حصہ کیا کوئی بھائی رکھ سکتا ہے ؟
سائل: محمد عامر،گلشن اقبال کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر سائل اپنے بیان میں سچا ہے اور وہی ورثاء ہیں جو سوال میں مذکور ہیں تومرحوم کے کفن دفن کے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لئے وصیت کی ہو تو اس کو مرحوم کے تہائی مال سے پورا کرنے کے بعد تمام ترکہ کے کل 8 حصے کئے جائیں گےجن میں سے زوجہ کو 1 حصے، ہر ایک بیٹے کو 2 حصے اور ہر ایک بیٹی کو 1 حصہ تقسیم ہوگا۔ترکے کی حسابی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ ترکے کی کل رقم کو مبلغ یعنی8 سے تقسیم Divide کریں جو جواب آئے اسے محفوظ کرلیں اور اسے ہر ایک وارث کے حصے پر ضرب Multiplyدے دیں، حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
نیز ترکے کی تقسیم کے وقت ہر چیز کی تقسیم کا حکم الگ الگ بیان نہیں کیا جاتا، بلکہ منقولہ و غیر منقولہ ترکے (مثلاً: دکان،مکان،پلاٹ،زمین،زیورات،بینک اکاؤنٹ وغیرہ)میں سے ہر چیز کو فروخت کرکےیا اس کی موجودہ قیمت لگاکر مجموعی مالیت نکالی جاتی ہےاور پھر اس سب مال کی شریعت کے مطابق تقسیم ہوتی ہے۔
تقسیمِ ترکہ کے بعد بالترتیب جوابات ملاحظہ ہوں:
(۱)اگر واقعی یہی صورت ہے جو بیان ہوئی تو مذکورہ اسٹاک اور دیگر پراپرٹیز جن پر چھوٹے بھائی ملکیت کا دعوی کررہے ہیں باطل ہےکہ امین مالک نہیں ہوتا،لہذا یہ تمام ترکے میں شامل ہوکر ورثاء کی ملک ہونگے۔بالفرض اگر چھوٹے بھائی کے دعوے کو بھی مانا جائےتب بھی تحفہ سے ملکیت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب اس پر واہب (تحفہ دینے والے) کی موت سے پہلے پہلے شرعی قبضہ (حقیقی ہو یا حکمی)ہوجائے۔جبکہ یہاں والد کی وفات سے پہلے قبضہ متحقق نہ ہوا لہذا اس صورت میں بھی یہ چیزیں ترکے میں شمار ہونگی۔نیز ایسا وارث جو اپنے شرعی حصہ سے زیادہ استعمال کرے، غاصب شمار ہوتا ہے اور اپنے حصے سے زائد ترکہ استعمال کرنے پر ضامن بھی ہوتا ہے، اور اسے دوسرے ورثاء کو ادائیگی ضروری ہوتی ہے۔
البتہ یہ یاد رہے کہ اسٹاک وہی حلال ہیں جن کی اجازت اسٹیٹ بینک اور SECP کے شریعہ بورڈ کی جانب سے ہو۔لہذا اگر والد کے ترکے میں وہ اسٹاک ہوں جن کی اجازت نہیں (کہ وہ شیئرز کسی سودی بینک کے ہوں یا کسی انشورنس کمپنی کے ہوں یا جس کمپنی کے شیئرز ہیں ان میں بینک، یا انشورنس یا جوا یا شراب یا کسی اور حرام چیز کا کاروبار کرنے والے اداروں کا سرمایہ شامل ہو یا کسی بھی قسم کی خرابی ہو) اور ان اسٹاک کے منافع وصول بھی کرلیے ہوں تو اتنے منافع کی رقم بلانیتِ ثواب شرعی فقیروں میں صدقہ کردی جائے، ایسی رقم کو مرحوم کے ترکہ میں شامل کر کے تقسیم کرنا جائز نہیں ہے۔
(۲) اگر باقاعدہ قانونی دستاویزات بنواکر قبضہ دلایا گیا تو ان پراپرٹی کی وہی اولاد مالک ہے ،یہ والد کا ترکہ نہیں۔قضاءً ان میں ماں کا حصہ نہیں،البتہ اولاد والدہ کے احسانات کے شکر میں اپنی جائیداد سے کچھ دیتے ہیں تو اللہ سے امید ہے کہ ضرور اجر پائیں گے۔پھر والدہ کا تحفہ بطور امانت بھائی کو دینا بھی جائز ہے جبکہ بھائی امین ہواور اگر خیانت کا اندیشہ ہو تو اولاد مالک ہے چاہے تو بھائی کو بطور امانت دے چاہے نہ دے۔
المسئلۃ بھذہ الصورۃ:
8
میــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
زوجہ 2 بیٹے 3بیٹیاں
ثمن عصــــــــــــــــــــــــبہ
1 7
4/2 3/1
دلائل و جزئیات:
قرآنِ مجید میں زوجہ کے حصے کے متعلق اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.ترجمہ:تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔(النساء:12)
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : 11)
قرآن مجیدمیں امانت داری کی تاکید فرمائی ہے، ارشاد باری ہے: فَلْیُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ أَمَانَتَه وَلْیَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّه.ترجمہ:اور اگر تم میں ایک کو دوسرے پر اطمینان ہو تو وہ جسے اس نے امین سمجھا تھا اپنی امانت ادا کرے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے۔(البقرة: 283)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں خطبہ ارشاد فرماتے تو اکثر یہ فرماتے:"لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ".ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے بیان کرتے تو اکثر یہ فرماتے:جس میں امانت داری نہیں اس کا ایمان نہیں اور جس شخص میں معاہدہ کی پاسداری نہیں اس کا دین نہیں۔(شعب الایمان،کتاب الایمان، الفصل الثانی، 6/196،رقم:4045،مکتبۃ الرشدالریاض)
الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"وَأَمَّا حُكْمُهَا فَوُجُوبُ الْحِفْظِ عَلَى الْمُودَعِ وَصَيْرُورَةُ الْمَالِ أَمَانَةً فِي يَدِهِ وَوُجُوبُ أَدَائِهِ عِنْدَ طَلَبِ مَالِكِهِ، كَذَا فِي الشُّمُنِّيِّ. الْوَدِيعَةُ لَا تُودَعُ وَلَا تُعَارَ وَلَا تُؤَاجَرُ وَلَا تُرْهَنُ، وَإِنْ فَعَلَ شَيْئًا مِنْهَا ضَمِنَ، كَذَا فِي الْبَحْرِ الرَّائِقِ".ترجمہ:ودیعت کا حکم یہ ہے کہ مودع(جسکے پاس امانت رکھوائی جائے) پر ودیعت کا حفظ واجب ہے اور مال اس کے پاس امانت ہو جاتا ہے اور مالک کے طلب کرنے کے وقت واپس دینا اس پر واجب ہے ہے ایسا ہی الشمنی میں ہے۔ جو چیز ودیعت ہے وہ دوسرے کو ودیعت نہیں دی جاتی ہے اور نہ عاریت دی جاتی ہے اور نہ اجرت پر دی جاتی ہے اور نہ رہن کی جاتی ہے اور اگر مودع نے ان میں سے کوئی فعل کیا تو وہ ودیعت کا ضامن ہو جائے گا یہ بحر الرائق میں ہے۔(الفتاوی الہندیۃ،کتاب الودیعۃ، الباب الأول في تفسير الإيداع والوديعة، 4 /338،دار الفکر)
موتِ واہب ہبہ باطل کردیتا ہے،شمس الآئمہ محمد بن احمد السرخسی (المتوفی:483ھ) فرماتے ہیں:"فَإِنْ مَاتَ أَحَدُهُمَا إمَّا الْوَاهِبُ أَوْ الْمَوْهُوبُ لَهُ قَبْلَ التَّسْلِيمِ: بَطَلَتْ الْهِبَةُ؛ لِأَنَّ تَمَامَ الْهِبَةِ بِالْقَبْضِ". ترجمہ: پس اگر واہب یا موہوب لہ میں سے کوئی ایک قبضہ سے پہلے فوت ہوجائے توہبہ باطل ہوجائے گا۔ کیونکہ ہبہ قبضہ کے ساتھ تمام ہوتاہے۔(المبسوط،کتاب الہبۃ،الموانع من الرجوع فی الہبۃ،12/56، دار المعرفۃ)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’اگرہبہ نہ تھا نِرا اقرار ہی اقرار تھا کہ اسے دے دوں گا یا ہبہ زبانی خواہ تحریری کیامگرقبضہ نہ دیاتووہ قبضہ کاملہ نہ تھااگرچہ پسرنے بعدِموتِ پدرقبضہ کاملہ کرلیا۔ توان صورتوںمیں جائیداد بدستورملکِ پدر پر باقی رہی، تمام ورثہ حسب ِفرائض اس سے حصہ پائیں گے: فَإِنَّ مَوْتَ الْوَاْهِبِ قَبْلَ التَّسْلِيْمِ يُبْطِلُ الْهِبَةَ ۔ترجمہ:( ایسا اس لئے ہے کہ) قبضہ دینے سے قبل واہب کی موت، ہبہ کوباطل کردیتی ہے۔(فتاویٰ رضویہ،19/219، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
قبضہ کے بعد تحفہ دی جانے والی شے ملک ہوجاتی ہے،علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں: "شَرَائِطُ صِحَّتِهَا فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ... وَتَتِمُّ الْهِبَةُ بِالْقَبْضِ الْكَامِلِ". ترجمہ: ہبہ کی جانے والی چیز میں ہبہ کی شرائط میں سے ہے کہ اس پر قبضہ کروایا جائے، مشترک نہ ہو، دوسری چیزوں سے جدا(واضح ) ہواور ہبہ کرنے والے کے اپنے تصرف میں مشغول نہ ہو... نیز فرمایا: اور قبضہ کاملہ کے ساتھ ہبہ تمام ہو جاتا ہے۔ (الدر المختار،کتاب الہبۃ، 5/688-690،دار الفکر)
قانونی رجسٹری دلیل تملیک ہے، امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) سے سوال ہوا کہ والد نے مکان اپنے بیٹے کے نام اس طور پر کیا کہ قانونی رجسٹری میں اپنا نام خارج کراکر بیٹے کا نام داخل کروایاپھر مکان کے کرایہ ناموں پر بیٹے نے بحیثیت مالک دستخط کئے،اسی طرح دیگر قانونی معاملات میں بھی بیٹے کو مالک ظاہر کیا پھر سولہ سال بعد والد انتقال کرگئے،یہاں بیٹیاں کہتی ہیں کہ والد صاحب نے کسی مصلحت کے تحت یہ مکان بیٹے کے نام رجسٹررڈ کرایا تھا ،جواباً امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’داخل خارج کرا دینا اور وہ کاروائیاں کہ سوال میں مذکور ہیں قطعا دلیل تملیک ہیں، اور ثبوت ہبہ کے لئے کافی ووافی ہیں‘‘۔(فتاوی رضویہ،19/334،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
یہاں غور ہو کہ رجسٹری میں نام درج کروانے اور دیگر تصرفات مالکانہ کو امام اہلسنت نے دلیل تملیک قرار دیا ،اسی سے استفادہ کرتے ہوئے ہم کہتے ہیں کہ جب رجسٹری کے بعد موہوب لہ کو شے موہوب پر مالکانہ تصرف کا حق حاصل ہوجائے اور کوئی مانع بھی نہ ہو تو وہ رجسٹری بے معنی نہ ہوگی بلکہ دلیل تملیک قرار دی جائے گی۔البتہ فتاوی رضویہ شریف کے دیگر جزئیات جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بابِ تملیک میں محض تحریر کوئی معنی نہیں رکھتی،ان کا تعلق موجودہ دور کے اسٹام پیپرز سے متعلق ہے کہ جیسی تحریر پٹواری کی حیثیت امام اہلسنت کے عرف میں تھی وہ ہمارے عرف میں اسٹام پیپرکی ہے، جبکہ باقاعدہ رجسٹرار کے پاس جا کر کی جانے والے رجسٹری کا معاملہ ایسا نہیں۔
ناجائز طریقے سے حاصل شدہ مال کے متعلق علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"لِأَنَّ سَبِيلَ الْكَسْبِ الْخَبِيثِ التَّصَدُّقُ إذَا تَعَذَّرَ الرَّدُّ عَلَى صَاحِبِهِ ".ترجمہ:جو مال ناجائز طریقے سے حاصل ہو اس مال سے خلاصی کا طریقہ صدقہ ہے جبکہ اسکے مالک کو لوٹانا متعذر ہو۔(ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،6/385،دار الفکر)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’جس جس شخص کی نسبت معلوم ہو کہ فلاں سے اتنا مال سود یا رشوت یا غصب یا چوری میں اس کے باپ نے لیا تھا اس پر فرض ہے کہ ترکہ سے اتنا اتنا مال ان لوگوں یا ان کے وارثوں کو واپس دے اگرچہ وہ مال بعینہ جدا نہ معلوم ہو جو ان نا جائز طریقوں سے لیا ، اور جس مال کی نسبت بعینہ معلوم ہو کہ یہ خاص وہی مال حرام ہے توفرض ہے کہ اسے مال غیر وغصب سمجھے اگرچہ وہ لوگ معلوم نہ ہوں جن سے لیا تھا پھر بحالت علم ان مستحقوں یا ان کے وارثوں کو دے ورنہ ان کی نیت سے فقراء پر تصدق کرے‘‘۔(فتاوی رضویہ،23/535، رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:22 ذو الحجہ1445 ھ/29 جون 2024ء