سوال
ایک باپ کے چار بیٹے اور سات بیٹیاں ہیں ، بڑا بیٹا باپ کے ساتھ تمام معاملات میں شامل رہا،بہنوں کی شادیاں کیں اور درمیان والے دو بیٹے ساتھ نہیں چلے۔ باپ کی جائیداد 16 مرلے ہے جس میں 6مرلے مین روڈ پر ہے جس کے فرنٹ پر 4دکانیں ہیں اور یہ بڑے اور چھوٹے بیٹے کے پاس ہیں (جو باپ نے ان دونوں کے نام کر رکھے ہیں) اور 10مرلے جو ان سے پیچھے ہیں درمیان والے بیٹوں کے پاس ہیں پانچ پانچ مرلے ۔ اب ان دونوں بیٹوں کا کہنا ہےکہ وہ چھ مرلے کمرشل جگہ ہے، دوکانیں کروڑوں کی ہیں اور ہماری جگہ کی ویلیو کم ہے،کیا باپ کو یہ اجازت ہے کہ وہ اس طرح ایک کو کم اور ایک کو زیادہ دے ۔قرآن وسنت کے مطابق رہنمائی فرمائیں۔
سائل: مولانا طاہر المتخصص فی الفقہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر اولاد درجے (یعنی حافظ، عالم، خدمت گزار ہونے)میں برابر نہیں اور دیگر اولاد کو ضرر پہچانے کی نیت بھی نہیں تو والد کو یہ اجازت ہےکہ کسی کو زیادہ دے اور کسی کو کم۔لیکن اولاد درجے میں برابر ہے اور دیگر اولاد کو ضرر پہچانے کی غرض موجود ہے تو اس فعل پر انہیں گناہ ہوگا البتہ یہ فعل بہرحال لازم و نافذ ہوجائے گا۔کیونکہ والد اپنی حیاتی میں جو مال تقسیم کرتے ہیں وہ تحفہ ہوتا ہے اور اولاد کو تحفہ دینے میں زیادہ بہتر یہ ہےکہ لڑکے اور لڑکی کا فرق کیے بغیر سب کوبرابر دیا جائے۔ہاں اگر تمام اولاد درجے میں برابر نہ ہوں یعنی کسی میں دینی فضیلت پائی جائے،مثلاً حافظ،عالم یا خدمت گزار ہو تو کسی ایک کو زیادہ دینا گناہ بھی نہیں جبکہ دوسروں کو ضرر پہنچانے کی نیت نہ ہو ،پھر اگر اولاد فاسق فاجر ہو تو محروم بھی کئے جاسکتے ہیں۔لیکن بیٹا ہویا بیٹی،کسی کوبھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنےباپ یا ماں کی حیات میں ان سے جبری تحفہ طلب کریں ،اور اگر اس طرح کے مطالبے سے ان کو اذیت پہنچتی ہو تو ایسا مطالبہ کرنا بھی ناجائزو حرام ہےکہ وہی سارے مال کے مالک ہیں۔
فضل دینی کی وجہ سے اولاد میں سے کسی کو زیادہ مال دینا مکروہ نہیں،چنانچہ سید احمد بن محمد بن اسماعيل الطحطاوی الحنفی (المتوفی:1231ھ) فرماتے ہیں:"يكره ذلك عند تساويهم في الدرجة كما في المنح والهندية .أما عند عدم التساوي كما اذا كان احدهم مشتغلا بالعلم لا بالكسب لا باس أن يفضله على غيره كما في الملتقط أي ولا يكره وفي المنح روي عن الامام أنه لا باس به اذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين".ترجمہ:درجہ میں برابر ہونے کی صورت میں تمام اولاد کو برابر مال دینا مکروہ ہے جیسا کہ منح اورہندیہ میں ہے لیکن مساوی نہ ہوں مثلا ایک علم دین میں مشغول ہے اور کسب نہیں کرتا تو اس کو دوسروں پر فضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ ملتقط میں ہے یعنی مکروہ نہیں ہے۔ اورمنح میں ہے کہ امام صاحب رحمہ اللہ تعالی سے مروی ہے کہ جب دین میں فضیلت رکھتاہو تو اس کو فضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔(حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار، کتاب الھبۃ ،9/473،دار الکتب العلمیۃ بیروت )
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’جبکہ یہ لڑکا باپ کا خدمت گزار زیادہ ہے تو ان دو پر ایک طرح کا فضل دینی رکھتاہے اگر اور کوئی وجہ اس کے منافی نہ ہو تو ایسی صورت میں باتفاق روایات اس کو ترجیح دینے میں مضائقہ نہیں جبکہ دوسروں کو ضرر پہنچانے کی نیت نہ ہو، بزازیہ میں ہے: لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ . اگر اولاد میں سے بعض کو اس کی نیکی کی بناء پر زیادہ دینے میں خصوصیت برتے تو کوئی حرج نہیں ہے اور سب مساوی ہوں تو پھر امتیاز نہ برتے۔(فتاوی رضویہ،19/273، رضا فاؤنڈیشن لاھور)
کسی ایک وارث کو مال دینے اور بلاوجہِ شرعی دوسروں کو بالکل محروم کردینے کے متعلق امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”اگر کوئی شخص غیر محجور (وہ شخص جسے بیع و شراء ، صدقہ و ہبہ وغیرہا تصرفات کی اجازت ہوتی ہے)اپنی ساری جائیداد ایک ہی بیٹے کو دےد ے اور باقی اولاد کو کچھ نہ دے، تو یہ تصرف بھی قطعاً صحیح و نافذ ہے، اگرچہ عند اللہ گنہگار ہو گا،گنہگاری کو عدمِ نفاذ سے کچھ علاقہ نہیں۔درمختار میں ہے:ولووہب فی صحتہ کل المال للولد جاز واثم . اگر اپنی صحت میں تمام مال بیٹے کو ہبہ کردیا تو جائز ہے اور گنہگار ہوگا‘‘۔(فتاوی رضویہ،19/237، رضا فاؤنڈیشن لاھور)
فاسق و فاجر کو محروم کر سکتے ہیں۔چنانچہ البحر الرائق میں ہے:"لَوْ كَانَ وَلَدُهُ فَاسِقًا فَأَرَادَ أَنْ يَصْرِفَ مَالَهُ إلَى وُجُوهِ الْخَيْرِ وَيَحْرِمَهُ عَنْ الْمِيرَاثِ هَذَا خَيْرٌ مِنْ تَرْكِهِ لِأَنَّ فِيهِ إعَانَةً عَلَى الْمَعْصِيَةِ".ترجمہ:اگر کسی کا بیٹا فاسق ہو اور اس کا ارادہ ہے کہ اپنے مال کو نیکی کے کاموں میں خرچ کرے اور بیٹے کو میراث سے محروم کر دے، تو اس صورت میں نیکی کے کاموں میں مال خرچ کردینا ترکے میں مال چھوڑ جانے سے بہتر ہے۔کیونکہ فاسق بیٹے کو ترکہ دینے میں گناہ پر مدد ہوگی۔(البحر الرائق،کتاب الہبۃ،ہبۃ الاب لطفلہ،7/288،دار الکتاب الاسلامی بیروت)
حیاتی میں اولاد میں تقسیم مال سے متعلق امام اہلسنت رحمہ اللہ نے فرمایا:”مذہبِ مفتی بہ پر افضل یہی ہے کہ بیٹوں بیٹیوں سب کو برابر دے۔یہی قول امام ابویوسف کا ہے اور”لِذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ “دینا بھی، جیسا کہ قول امام محمد رحمہ اللہ کاہے ، ممنوع وناجائز نہیں اگر چہ ترکِ اولیٰ ہے۔ردالمحتار میں علامہ خیرالدین رملی سے ہے:” الفتوی علی قول ابی یوسف من ان التنصیف بین الذکر والانثٰی افضل من التثلیث الذی ھو قول محمد“ (فتویٰ امام ابو یوسف کے قول پر ہے یعنی لڑکے لڑکی دونوں کو برابر ، برابر دیا جائے ، یہ بہتر ہے لڑکے کو لڑکی سے دُگنا دینے والے قول سے اور یہ قول امام محمد علیہ الرحمۃ کا ہے)۔حاشیۂ طحطاوی میں فتاویٰ بزازیہ سے ہے:”الافضل فی ھبۃ البنت والابن التثلیث کالمیراث وعند الثانی التنصیف وھو المختار“(یعنی بیٹے اور بیٹی کو دینےمیں افضل وراثت والا طریقہ ہے ، جبکہ امام ابویوسف علیہ الرحمۃ کے نزدیک برابر دینا اولیٰ ہے اور یہی قول مختارہے)۔بالجملہ خلاف افضلیت میں ہے اور مذہبِ مختار پر اولیٰ تسویہ( یعنی برابر ، برابر)، ہاں اگر بعض اولاد فضل دینی میں بعض سے زائد ہو ، تو اس کی ترجیح میں اصلاً باک نہیں ۔(فتاوٰی رضویہ،19/ 231 ،رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:4 ذو القعدہ 1445 ھ/13 مئی 2024ء