فوت شدہ وارث کا حصہ
    تاریخ: 24 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 33
    حوالہ: 436

    سوال

    میرے سسر (خیر محمد)2023ء میں فوت ہوئے ہیں۔انہوں نے وراثت میں ایک پلاٹ اورتین دکانیں چھوڑی ہیں۔ان کے زوجہ، دو بیٹے (شہزادہ، اربیلا) اور تین بیٹیاں (شہناز، مہناز، خیر خاتون) شادی شده ہیں جن میں سے ایک بڑی بیٹی (شہناز) 2020ء میں فوت ہو چکی ہے اور اس کی تین بیٹیاں ہیں دوشادی شدہ اور ایک کنواری ہے۔عرض ہے کہ جو بیٹی پہلے فوت ہو گئی ہے ان کی بیٹیوں میں اور باقی جو دو بھائی اور دو بہنیں ہیں ان میں اس کا مالِ وراثت کیسے تقسیم ہوگا؟

    سائل: غوث بخش عطاری،ملیر کھوکھرا پارک کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    ترکے کی تقسیم کے وقت ہر چیز کی تقسیم کا حکم الگ الگ بیان نہیں کیا جاتا،بلکہ منقولہ و غیر منقولہ ترکے (مثلاً دکان، مکان،پلاٹ،زمین،زیورات،بینک اکاؤنٹ وغیرہ)میں سے ہر چیز کو فروخت کرکے یا اس کی موجودہ قیمت (یعنی جس تاریخ کو وراثت تقسیم کرنے لگیں) لگاکر مجموعی مالیت نکالی جاتی ہےاور پھر اس سب مال کی شریعت کے مطابق تقسیم ہوتی ہے۔

    لہذا اگر سائل اپنے بیان میں سچا ہے اور وہی ورثاء ہیں جو سوال میں مذکور ہیں تومرحوم کے کفن دفن کے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لئے وصیت کی ہو تو اس کو مرحوم کے تہائی مال سے پورا کرنے کے بعد تمام ترکہ کے کل 48حصے کئے جائیں گےجن میں سے 6 حصے زوجہ کو، ہر ایک بیٹے کو 14 اور ہر ایک بیٹی کو 7 حصے تقسیم ہونگے۔

    پھر والد کی وفات کے سے پہلے جس بیٹی (شہناز) کا انتقال ہوا وہ والد کے ترکے سے حصے نہیں پائیں گی نہ ہی یہ حصے انکے وارثین (یعنی بیٹیاں وغیرہ) میں تقسیم ہونگے کیونکہ ترکہ مورث (جس کی وراثت تقسیم ہونی ہے) کے انتقال کے وقت زندہ وارثوں میں تقسیم ہوتا ہے، چاہے بعد میں انتقال کرجائیں۔البتہ جس بیٹی (شہناز) کا انتقال ہوااس کے وارثین اس (شہناز)کے ترکے (جو شہناز کی ذاتی ملک اشیاء ہیں)سے حصہ ضرور پائیں گے۔

    المسئلۃ بھذہ الصورۃ:

    8×6=48

    میــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

    بیوی 2بیٹے 2بیٹیاں

    ثمن عصــــــــــــــــــــــــبہ

    1×6 7×6=42

    6 28/4 14/7

    دلائل و جزئیات:

    قرآنِ مجید میں زوجہ کے حصے کے متعلق اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.ترجمہ:تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔(النساء:12)

    لڑکے لڑکیوں کے حصہ وراثت کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : 11)

    مال وراثت زندہ وارثین میں ہی تقسیم ہوتا ہے، چنانچہ ہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:" ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه".ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو اس کی موت سے پہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے (لہذا ان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی)۔( الہدایۃ ،کتاب المفقود ،2/424،دار احیاء التراث العربی)

    ورثاء اسی چیز کےمستحق ہوتے ہیں، جو مرنے والے کی ملک ہو، چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”ورثاء اس چیز کے مستحق ہوتے ہیں، جو مورث کی ملک اوراس کاترکہ ہو‘‘۔ (فتاوی رضویہ،17/306،رضافاؤنڈیشن،لاھور)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:4 ذو القعدہ 1445 ھ/13 مئی 2024ء