زوجہ تین بیٹے تین بیٹیاں (ہبہ مشاع)
    تاریخ: 24 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 39
    حوالہ: 437

    سوال

    ہماری امی کے انتقال کے بعد والد نے دوسری شادی کر لی تھی۔ جن سے کوئی اولاد نہیں ہے۔ ہم کل 7 بہن بھائی ہیں 4 بھائی اور 3 بہنیں جن میں سے ایک بیٹے عمران الدین شیخ کا 2007 میں انتقال ہوگیا تھا۔ اب والد کے انتقال کے وقت کل 3 بھائی (نسيم الدين شيخ، شمیم الدین شیخ، شکیل الدين شيخ)اور 3 بہنیں (فہمیده، خالده، صبا)حیات ہیں والد کا انتقال 2024 میں ہوا ہے۔ والد صاحب کی کل جائیداد میں شامل ہیں: ایک فلیٹ، کچھ نقد رقم اور ایک دوکان جن میں سے والد صاحب نے اپنی حیاتی میں ہی فلیٹ ہماری دوسری والدہ (حور بانو) کے نام مکمل طور پر منتقل کردیا تھا ، اس فلیٹ میں والد اور والدہ دونوں رہائش پذیر تھے۔ اور دوکان کے حوالے سے والد صاحب نے فرمایا تھا کہ یہ بچوں کے لیے ہیں۔ والد صاحب نے اپنی عمر کے تقاضوں کی وجہ سے یا بیماری کی وجہ سے جو نقد رقم تھی اسکو ایک بیٹے شمیم الدین شیخ کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کروا دیا تھا تاکہ کوئی پریشانی کا سامنا پیش نہ آئے ۔اس کے علاوہ کچھ گھر کا سامان بھی ہے، دوکان ابھی فروخت نہیں کی گئی ہے۔

    (۱)عمران الدین شیخ جن کا انتقال والد سے پہلے ہوگیا تھا انکی دو بیویاں ہیں، ایک بیوی سے 2 بیٹیاں ہیں اور ایک بیوی سے کوئی اولاد نہیں ہے۔کیا والد صاحب کی جائیداد سے ان میں سے کوئی حصہ دار ہے یا نہیں؟

    (۲) جائیداد کی تقسیم کیسے کی جائے؟

    (۳)نقد رقم جو بینک اکاؤنٹ میں ہے وہ کیسے تقسیم کی جائے؟

    (۴)گھر کا جو بھی سامان ہے اس کی تقسیم کا کیا طریقہ ہوگا؟

    (۵)جو فلیٹ دوسری بیوی کے نام ہے وہ انکی وفات کے بعد اصل وارثوں کے حصے میں تقسیم ہوگا یا نہیں؟

    (۶)گھر کے سامان یا نقد رقم یا دوکان کی فروخت میں دوسری بیوی کا حصہ شامل ہوگا یا نہیں؟اور اگر ہوگا تو کس حساب سے ہوگا؟

    (۷)والد صاحب کے پیسوں سے ان کا سوئم ،چالیسواں، تدفین یا آخری رسومات میں خرچ کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟

    نوٹ:دوسری بیوی کے نام کیا گیا فلیٹ قانونی رجسٹری کے تحت کروایا گیالیکن اس فلیٹ میں شوہر خود رہائش پذیر بھی تھے۔

    سائل: شمیم الدین وشکیل الدین،کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر سائل اپنے بیان میں سچا ہے اور وہی ورثاء ہیں جو سوال میں مذکور ہیں تو امور متقدمہ علی الارث (یعنی کفن دفن کے اخراجات ،قرضوں کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لئے وصیت کی ہو تو اس کو ترکے کے تہائی مال سے پورا کرنے کے بعد) تمام ترکہ کے کل 72 حصے کئے جائیں گےجن میں سے 9 حصے دوسری بیوی (حور بانو) کو ملیں گے اور بقیہ 63حصے یوں تقسیم ہونگے کہ ہر ایک بیٹے کے حق میں 14 حصے آئیں گےاور ہر ایک بیٹی کو 7حصے تقسیم ہونگے۔شمیم الدین شیخ کے بینک اکاؤنٹ میں رکھوائی گئی رقم اگر واقعۃً اسی مقصد کے تحت تھی تو یہ والد کی امانت تھی اور اس کے مالک خود والد ہی تھے ،چنانچہ یہ رقم ترکے میں تقسیم ہوگی۔

    فائدہ:مرحوم کے ترکے کی رقم کی تقسیم کا طریقہ کاریہ ہے کہ ترکے کی کل رقم کو مبلغ یعنی 72پر تقسیم(Divide) کردیں، جو جواب آئے اس کو ہر ایک وارث کے حصے میں ضرب (Multiply)دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    تقسیمِ ترکہ کے بعد یہاں مزید مسائل بالترتیب بیان کئے جارہے ہیں:

    (۱)عمران الدین شیخ ،انکی بیویوں اور اولاد کو عمران الدین کے والد کے ترکے سے حصہ تقسیم نہیں ہوگا۔کیونکہ ترکہ زندہ وارثوں میں تقسیم ہوتا ہے اور عمران الدین والد سے پہلے انتقال کرچکے تھے۔البتہ عمران الدین کے ورثاء ان کے اپنے ترکے (جو عمران الدین کی ذاتی ملک اشیاء ہیں)سے حصہ ضرور پائیں گے۔

    (۲،۳،۴)ترکے کی تقسیم کے وقت ہر چیز کی تقسیم کا حکم الگ الگ بیان نہیں کیا جاتا،بلکہ منقولہ و غیر منقولہ ترکے (مثلاً دکان، مکان،پلاٹ،زمین،زیورات،بینک اکاؤنٹ وغیرہ)میں سے ہر چیز کو فروخت کرکے یا اس کی موجودہ قیمت (یعنی جس تاریخ کو وراثت تقسیم کرنے لگیں) لگاکر مجموعی مالیت نکالی جاتی ہےاور پھر اس سب مال کی شریعت کے مطابق تقسیم ہوتی ہے جو کہ ماقبل بیان ہوچکی۔

    (۵) نام کیے گئے فلیٹ میں حوربانو کی ملکیت ثابت ہوچکی ہے یعنی اس فلیٹ کی مالک وہ خود ہیں،لہذا یہ فلیٹ شوہر کے ترکے میں تقسیم نہیں ہوگا۔کیونکہ موجودہ عرف کی بناء پر ہمارے نزدیک رجسٹرار کے ہاں فلیٹ وغیرہا رجسٹرڈ کروانے سے ملکیت تامہ حاصل ہوجاتی ہے۔قانونی رجسٹری کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسا کہ فلیٹ کی چابی دے دینااور اسے اصطلاح فقہاء میں قبضہ حکمی سے تعبیر کرتے ہیں جو کہ مشروع ہے۔

    یاد رہے کہ فقہائے احناف نے جو ہبہ مکمل ہونے کیلئے شرط لگائی (یعنی واہب (تحفہ دینے والا)کا موہوب (تحفہ) کو خالی کر کے حوالے کرنا اور موہوب لہ (جسے تحفہ دیا جارہا ہے) کا اس پر قبضہ کرلینا)یہ اس لئے تھی کہ ہبہ مکمل ہو اور بعد میں کوئی نزاع پیدا نہ ہو۔ چونکہ یہ شرط بڑی کڑی ہے، خصوصاً جبکہ واہب اور موہوب لہ اسی ایک مکان میں رہ رہے ہوں ، تو فقہائے کرام نے اس کے متعلق حیلہ شرعی بھی بیان فرمایا کہ واہب ایک رات کیلئے اس جائیداد سے باہر نکل جائے یا کچھ دیر کیلئے اپنا سامان لے کر باہر نکل جائے اور پھر واپس آجائے یا اپنا سامان موہوب لہ کے پاس ودیعت رکھ کر مکان پر قبضہ دیدے پھر چاہے تو اس کے ساتھ آکر بدستور رہتا رہے۔پوچھی گئی صورت بھی اسی سے متعلق ہے جو کہ ہمارے عرف کے مطابق نزاع کو اٹھاتا ہےلہذا قواعد فقہیہ کی روشنی میں ہبہ مکمل ہوگیااور ملکیت حور بانو کو منتقل ہوگئی۔

    چنانچہ حور بانو کے انتقال کے بعد اگر یہ فلیٹ ان کی ملک میں باقی رہتا ہے اس طور پر کہ وہ کسی کو فروخت نہ کریں یا تحفۃً نہ دیں تو ترکے میں شمار ہوکر انکے اپنے ورثاء میں تقسیم ہوگا جبکہ سائلین جو کہ پہلی بیوی کی اولاد ہیں زوجہ حور بانو کی سوتیلی اولاد ہیں ،ان کے ورثاء نہیں۔

    (۶)جس طرح شریعت مطہرہ نے پہلی بیوی کو اپنے شوہر کے ترکے کا حقدار بنایا ہے اسی طرح دوسری بیوی بھی اپنے شوہر کے ترکے کی حقدار ہے حتی کہ وہ دوسری بیوی اگر ااپنے شوہر کے انتقال کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلے اس وقت بھی وہ اپنے سابقہ شوہر کی میراث پائے گی کہ اس کا نکاح کرنا اسبابِ محرومیِ وراثت سے نہیں۔ان کا حصہ ماقبل بیان ہوچکاہے۔

    (۷)میت کے ترکے سے تدفین کا خرچہ نکالنا جائز ہے بلکہ وارثین پر حصے تقسیم کرنے سے پہلے تدفین پر خرچ کیا جائے گا ،البتہ سوئم اور چالیسویں کیلئے ترکے سے رقم خرچ کرنا مطلقا جائز نہیں۔اگر ان اخراجات کے لیے میت کے عاقل بالغ ورثاء اپنے حصوں سے رقم پیش کریں تو جائز ہے کہ اس ترکے کی مالک یہی ورثاء ہیں لیکن یہاں ورثاء کی اجازت ضروری ہے۔لہذا عاقل بالغ ورثاء کی جتنی اجازت ہو، اس مقدار میں اور اس خاص مد میں استعمال کر سکتے ہیں۔ اجازت سے زیادہ مقدار میں یا باقی کسی اور مد میں استعمال کرنا جائز نہیں اور اگر باقی ورثاء کی اجازت کے بغیر کسی وارث نے خاص مدات کے علاوہ کسی کام مثلاً:ختم درود، کھانا کھلانے، مہمان داری وغیرہ پر رقم خرچ کی، تو یہ اسی کے اپنے حصے میں سے شمار کیا جائے گا، وہ دوسروں سے مطالبہ نہیں کر سکتا۔

    المسئلۃ بھذہ الصورۃ:

    8×9=72

    میــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

    زوجہ(حور بانو) 3بیٹے 3بیٹیاں

    ثمن عصــــــــــــــــــــــــبہ

    1×9 7×9=63

    9 42فی کس14 21فی کس7

    دلائل و جزئیات:

    السراجی فی المیراث میں ہے:"تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ : الاول یبدا بتکفینہ وتجھیزہ من غیر تبذیر ولا تقتیر، ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ، ثم تنفذ وصایا ہ من ثلث ما بقی بعد الدین ، ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ".ترجمہ:میت کے ترکہ کے ساتھ ترتیب وار چار حقوق متعلق ہیں: مناسب تجہیز و تکفین سے ابتدا کی جائے گی ، پھر بقیہ مال سے اس کے قرضے ادا کئے جائیں گے ، قرضوں کی ادائیگی کےبعد بقیہ مال کے ثلث سے وصیت کو نافذ کیا جائے گا ،پھر باقی ترکہ ورثاء کےدرمیان تقسیم کیا جائے گا۔( السراجیۃ مع القمریۃ،ص:11/12،مکتبۃ المدینہ العلمیۃ کراچی)

    قرآنِ مجید میں زوجہ کے حصے کے متعلق اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.ترجمہ:تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔(النساء:12)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : 11)

    سوتیلی اولاد وراثت کی مستحق نہیں،امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’سوتیلا بیٹا ہونا شرعاً ترکہ میں کوئی استحقاق نہیں پیدا کرتا‘‘۔(فتاوی رضویہ،26/84، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

    مفتی محمد خلیل خان برکاتی (المتوفی:1405ھ) فرماتے ہیں:”سوتیلے ماں باپ اور سوتیلی اولاد میں وراثت کے احکام جاری نہیں ہوتے،لہذا زوجہ کی جو اولادپہلے کسی شوہر سے موجود ہو،اپنے سوتیلے باپ کے مال ِ متروکہ سے کسی حصہ کی مستحق نہیں‘‘۔(فتاوی خلیلیہ،3/437،ضیاء القرآن پبلی کیشنز)

    بیوہ عورت دوسرا نکاح کرنے کے باوجود سابقہ شوہر کی میراث پائے گی،فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی (المتوفی:1422ھ) فرماتے ہیں:”دوسری شادی کرنے کے بعد بھی عورت اپنے متوفی شوہر کی جائیداد میں حصہ پانے کی مستحق ہے ...اگر خاوند کے ورثہ اس کا پورا حصہ نہیں دیں گے، تو سخت گنہگار ، حق العبد میں گرفتار اور مستحقِ عذابِ نار ہوں گے“۔ (فتاوی فیض الرسول ،2/728،شبیر برادرز لاہور)

    دوسرے کے مال میں بلا اجازت تصرف کرنا ناجائز و حرام ہے،ارشاد باری تعالی ہے:لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَکُمۡ بَیۡنَکُمۡ بِالْبٰطِلِ".ترجمہ: اپنے مال آپس میں نا حق نہ کھاؤ۔(النساء:29)

    علامہ ابو المحاسن فخر الدین حسن بن منصور قاضی خان اوزجندی (المتوفی:592ھ) فرماتے ہیں:"إن اتخذ ولی المیت طعاما للفقراء کان حسنا إلا أن یکون فی الورثۃ صغیر فلا یتخذ ذٰلک من الترکۃ".ترجمہ: ولی میت اگر فقراء کے لیے کھانا تیار کرائے ،تو اچھا ہے، لیکن ورثہ میں اگر کوئی نا بالغ ہو ،تو ترکہ سے یہ کام نہ کرے۔(فتاوی قاضی خان،کتاب الحظر والاباحۃ،3/306،قدیمی کتب خانہ کراچی)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”بقدرِ سنت غسل و کفن و دفن میں جس قدر صرف ہوتا ہے ، بقیہ ورثاء صرف اسی قدر کے حصہ رسد ذمہ دار ہو سکتے ہیں، فاتحہ و صدقات و سوم و چہلم میں جو صرف ہوا یا قبر کو پختہ کیایا اور مصارف قدر سنت سے زائد کیے ،وہ سب ذمہ پسر پڑیں گے، باقی وارثوں کو اس سے سروکار نہیں۔ طحطاوی کے حاشیہ میں ہے:”(تتمہ) التجھیز لا یدخل فیہ السبح و الصمدیۃ و الجمع و الموائد لأن ذٰلک لیس من الأمور اللازمۃ ،فالفاعل لذٰلک إن کان من الورثۃ یحسب علیہ من نصیبہ و یکون متبرعاً و کذا إن کان أجنبیا الخ“۔(تتمہ) میت کی تجہیز میں دعا و فاتحہ(سوم، چہلم وغیرہ) لوگوں کو جمع کرنا اور دعوت طعام وغیرہ داخل نہیں ہیں، کیونکہ یہ چیزیں لازمی امور سے نہیں ہیں، چنانچہ ایسا کرنے والا اگر وارثوں میں سے ہے ،تو اس کے حصے میں سے شمار ہو گا اور وہ متبرع ٹھہرے گا، یونہی اجنبی نے ایسا کیا ،تو وہ بھی متبرع قرار پائے گا‘‘۔(فتاوی رضویہ ،26/288،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    قانونی رجسٹری دلیل تملیک ہے، امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) سے سوال ہوا کہ والد نے مکان اپنے بیٹے کے نام اس طور پر کیا کہ قانونی رجسٹری میں اپنا نام خارج کراکر بیٹے کا نام داخل کروایاپھر مکان کے کرایہ ناموں پر بیٹے نے بحیثیت مالک دستخط کئے،اسی طرح دیگر قانونی معاملات میں بھی بیٹے کو مالک ظاہر کیا پھر سولہ سال بعد والد انتقال کرگئے،یہاں بیٹیاں کہتی ہیں کہ والد صاحب نے کسی مصلحت کے تحت یہ مکان بیٹے کے نام رجسٹررڈ کرایا تھا ،جواباً امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’داخل خارج کرا دینا اور وہ کاروائیاں کہ سوال میں مذکور ہیں قطعا دلیل تملیک ہیں، اور ثبوت ہبہ کے لئے کافی ووافی ہیں‘‘۔(فتاوی رضویہ،19/334،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    یہاں غور ہو کہ رجسٹری میں نام درج کروانے اور دیگر تصرفات مالکانہ کو امام اہلسنت نے دلیل تملیک قرار دیا ،اسی سے استفادہ کرتے ہوئے ہم کہتے ہیں کہ جب رجسٹری کے بعد موہوب لہ کو شے موہوب پر مالکانہ تصرف کا حق حاصل ہوجائے اور کوئی مانع بھی نہ ہو تو وہ رجسٹری بے معنی نہ ہوگی بلکہ دلیل تملیک قرار دی جائے گی۔

    البتہ فتاوی رضویہ شریف کے دیگر جزئیات جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بابِ تملیک میں محض تحریر کوئی معنی نہیں رکھتی،ان کا تعلق موجودہ دور کے اسٹام پیپرز سے متعلق ہے کہ جیسی تحریر پٹواری کی حیثیت امام اہلسنت کے عرف میں تھی وہ ہمارے عرف میں اسٹام پیپرکی ہے، جبکہ باقاعدہ رجسٹرار کے پاس جا کر کی جانے والے رجسٹری کا معاملہ ایسا نہیں۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:22 شوال المکرم 1445 ھ/2 مئی 2024ء