زرعی زمین کی تقسیم کا حکم

    zarai zameen ki taqseem ka hukum

    تاریخ: 17 اپریل، 2026
    مشاہدات: 2
    حوالہ: 1145

    سوال

    والد کی وراثت سے والدہ کے حصہ وراثت میں 20 گُھنٹے کل زرعی زمین سے آئے۔ اب والدہ کا بھی انتقال ہوچکاہے، انکے ورثاء میں 4 بیٹے ہیں جبکہ ایک بیٹے کا پہلے انتقال ہوگیا ؟ سوال یہ ہے جس بیٹے کا انتقال پہلے ہوگیا اسکا حصہ ہوگا یا نہیں؟ نیز بقیہ کا کتنا حصہ ہوگا۔

    سائل:بندہ خدا : کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    برتقدیرِ صدقِ سائل و انحصارِ ورثاء ( یعنی اگر سائل اپنے بیان میں سچاہے اور ورثاء یہی ہیں جو ذکر ہوئے ) تو حکم شرعی درج ذیل ہے :

    1: پھر والدہ کی وراثت سے اس بھائی کو کچھ نہیں ملے گا،جسکا پہلے انتقال ہوگیا، کیونکہ مال وراثت ان لوگوں میں تقسیم ہوتا ہے جو مورِث کی وفات کے وقت موجود ہوں۔پہلے انتقال کر جانے والے وارث کے ورثاء (بچوں )کو اسکے والدین کی وراثت سے کچھ حصہ نہیں ملتا۔ جیساکہ الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه۔ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو ا س کی موت سے پہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے (یعنی ان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی)۔( الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424)

    یوں ہی البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحت ہے:وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت)أي وقت الحكم بالموت۔ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث)کی موت کے وقت موجود ہوں۔ (البنایہ شرح الہدایہ جلد 7ص367)۔

    2:بقیہ 4 بھائیوں میں یہ زرعی زمین برابر برابر تقسیم ہوگی، یعنی اسکے 4 حصص ہونگے، اور عصبہ ہونے کے سبب ،سب بھائی برابر برابر لیں گے،السراجی فی المیراث میں عصبہ کی تعریف ہے :والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال :ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں)تو سارے مال کا مستحق ہو جائے۔(السراجی فی المیراث ص54مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:04 ذوالعقدہ 1445ھ/ 13 مئی 2024 ء