zindagi mein taqseem wirasat ka masla
سوال
ميرے سسر اور ساس زندہ ہيں اور وہ يہ چاہتے ہيں کہ ہمارا جو ايک عدد مکان ہے (جس کے وہ خود مالک ہيں ) ہماری زندگی ميں اپنی اولاد ميں شريعت کے مطابق تقسيم کرديا جائے اور وصيت نامہ تحرير کرکے محفوظ کرديا جائےان کے دو بٹیے چار بيٹياں ہيں جو کہ تمام شادی شدہ ہيں اور ايک پوتی بھی ہے تقريباً دس سے گيارہ سال عمر ہے باپ انتقال کر چکا ہے ماں نے دوسری شادی کرلی ہے جبکہ اس کی کفالت کا ذمہ بھی دادا دادی پر ہی ہے گذارش ہے کہ اس مسئلے کا تفصيلی حل ارشاد فر ما کر ذہنی الجھن کو دور فرمائيں۔
اور يہ بھی ارشاد فرمائيں کہ اگر جائيداد کی رقم فروخت کے بعد برابر تقسيم ہوگی تو کيا دونوں کے انتقال کے بعد بھی اسی طرح تقسيم ہوگی يا اس ميں تبديلی واقع ہوگی ؟کيا باپ اپنی مرضی سے جس کو چاہے جتنا حصہ دے يا نہ دے جبکہ وہ مالک ہے اور حيات ہے کيا وہ ايساکر سکتا ہے ۔
سائل: شہاب احمد قادری عطاری: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر گھر ان کا ذاتی ہے تو زندگی میں اسکو اولاد کے مابین تقسیم کرنا شرعاً ضروری نہیں بلکہ جب تک بقیدِ حیات ہیں ،اولاد ان چیزوں کو لینے کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتی۔اور اگر مطالبہ کرے تو بھی اسے پورا کرنا لازم نہیں ہے۔
البتہ اگروالدہ اپنی خوشی سے اولادکے درمیان اس مکان کی قیمت تقسیم کرنا چاہیں توحرج نہیں لیکن یا رہے کہ یہ تقسیم از قبیل ِوراثت نہیں بلکہ ھبہ کے طور پر ہوگی، کیوں کہ وراثت یا ترکہ اس مال کو کہتے ہیں جو کسی شخص کے مرنے بعد اسکے ورثا کو ملتا ہے۔اور زندگی میں اولاد کو جو چیز بلا عوض دی جائے وہ ہبہ (gift) ہے۔
تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے لئے جتنا مال مناسب سمجھیں رکھ لیں اور اسکے بعد جو کچھ بچے وہ تمام اولاد کے مابین برابر برابر تقسیم کر دیں۔(وراثت کی تقسیم کا طریقہ اس سے جداگانہ ہے۔) اور اگر کسی خاص وجہ سے کسی ایک کو دوسرےکے مقابلے میں ذیادہ دیں تو اس میں حرج نہیں جبکہ دوسری کو ضرر پہنچانے کی نیت سے نہ ہو ،مثلاً کوئی زیادہ خدمت گزار ہے ،یا دوسری کے مقابلے میں زیادہ دین دار یا حاجت مند ہے تو اسے زیادہ دینا بھی جائز ہے۔البتہ بلا وجہ شرعی ایک کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دینا مفتی بہ قول کے مطابق مکروہ ہے۔ صحیحین میں حدیث پاک ہے:عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا، فَقَالَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ» ، قَالَ: لاَ، قَالَ ''فَارْجِعْهُ''۔ ترجمہ:نعمان بن بشیررضی اللہ عنہمانےکہاان کےوالدانہیں رسول اللہﷺکی خدمت میں لائےاورعرض کیاکہ میں نےاپنےاس بیٹےکوایک غلام بطورہبہ دیاہے۔آپﷺنےدریافت فرمایا،کیاایساہی غلام اپنےدوسرےلڑکوں کو بھی دیاہے؟انہوں نےکہانہیں،توآپ نےفرمایاکہ پھر(ان سےبھی)واپس لےلے۔(بخاری،باب الھبۃ للولد حدیث نمبر 2586،مسلم ،باب کراہیۃ تفضیل بعض الاولاد حدیث نمبر 1623)
ھبہ میں اولاد کو ایک دوسرے پر فضیلت کے حوالے سے بزازیہ میں ہے: لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ ترجمہ:اگر اولاد میں سے بعض کو زیادہ دے ان بعض کی نیکی کی بناء پر تو کوئی حرج نہیں ہے، اور سب مساوی ہوں تو پھر ایسا نہ کرے۔(فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الفصل الاول جلد6 صفحہ 237)
امام طحاوی علیہ الرحمہ حاشیہ در مختار میں لکھتے ہیں: یکرہ ذٰلک عند تساویھم فی الدرجۃ کما فی المنح والہندیۃ ترجمہ: اور درجہ میں اولاد کے برابر ہونے کی صورت میں (کسی کو زیادہ دینا) مکروہ ہے، جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے ۔(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ جلد3 صفحہ 399 دار المعرفہ بیروت)
البحر الرائق میں ہے: يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ كَذَا فِي الْمُحِيطِ۔ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکروہ ہے۔مگر کسی دینی فضیلت کی وجہ سے زیادہ دے تو جائز ہے۔ اور اگر سارا مال کسی ایک کو دیدے تو جائز ہے لیکن گنہ گار ہوگا۔( البحر الرائق کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ ج 7 ، ص:288 الشاملہ)۔
یاد رہے یہ سارا طریقہ زندگی میں تقسیم کے حوالے سے بعد ازوصال اس وقت مووجد ورثاء کے اعتبار سے شریعت کے مقرر کردہ طریقت کے مطابق تقسیم ہوگی۔ نیز پوتے کو بھی دوسرے بچوں کی نسبت برابر دینا ضروری ہے ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:14 ربیع الثانی 1444 ھ/10 اکتوبر 2022 ء