زندگی میں تقسیم وراثت کا حکم

    zindagi mein taqseem wirasat ka hukum

    تاریخ: 17 اپریل، 2026
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 1151

    سوال

    میرے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ، صرف ایک بیٹا شادی شدہ ہے اور باقی سب کنوارے ہیں،ہمارا کل اثاثہ ایک ذاتی مکان اور اسکے دو پلاٹ ہیں، اسکے علاوہ ایک فلیٹ اور دوکان بھی ہے۔منجھلا بیٹا کماتا نہیں ہے نہ کسی کام میں ساتھ دیتا ہے گھر والوں کو تنگ کررکھا ہے کیا اسکو حصہ دینا ضروری ہے۔شریعت کے مطابق دو بیٹوں اور دو بیٹیوں میں اسکی تقسیم کیسے ہوگی؟؟

    سائل: محمود عبدالقادر:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مکان وغیرہ جو کچھ ہے جتنی چیزیں ہیں وہ خاص آپکی ملکیت ہیں ،زندگی میں آپ پر ان چیزوں کو اولاد کے مابین تقسیم کرنا شرعاً ضروری نہیں،جب تک بقیدِ حیات ہیں ،اولاد ان چیزوں کو لینے کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔اور اگر مطالبہ کرے تو اسے پورا کرنا آپ پر ضروری نہیں ۔البتہ اگر اپنی خوشی سے اولادکے درمیان تقسیم کرنا چاہتے ہوں تو کر سکتے ہیں۔اور یہ تقسیم کاری از قبیل ِوراثت نہیں ہو گی اسلئے کہ وراثت یا ترکہ اس مال کو کہتے ہیں جو کسی شخص کے مرنے بعد اسکے ورثا کو ملتا ہے ۔اور زندگی میں اولاد کو جو چیز بلا عوض دی جائے وہ ہبہ (gift) ہے۔

    ہبہ کی تعریف کے حوالے سے علامہ محمد بن فرامرز المعروف ملا خسرو علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:(تَمْلِيكُ عَيْنٍ بِلَا عِوَضٍ) أَيْ بِلَا شَرْطِ عِوَضٍ لَا أَنَّ عَدَمَ الْعِوَضِ شَرْطٌ فِيهِ۔ترجمہ: کسی چیز کا( دوسرے کو )بلا عوض ( بغیر عوض کی شرط کے )مالک کردینا ہبہ کہلاتا ہے ،یعنی اسمیں عوض کا ہونا شرط و ضروری نہیں ۔ (درر الحكام شرح غرر الأحكام جلد 2 صفحہ 217 دار إحياء الكتب العربية)

    زندگی میں اولاد کے مابین جائیداد وغیرہ تقسیم کرنا چاہیں تو اسکا طریقہ یہ ہے کہ اپنے لیے جتنا مناسب سمجھیں اتنا مال و متاع اپنے پاس رکھ لیں،اور اسکے بعد جو بچے وہ تمام بیٹے اور بیٹیوں کے مابین برابر برابر تقسیم کر دیں ۔اور اگر کسی خاص وجہ سے کسی ایک کو دوسرے کے مقابلے میں ذیادہ دیں تو اس میں حرج نہیں جبکہ دوسرے کو ضرر پہنچانے کی نیت سے نہ ہو ،مثلاً کوئی ذیادہ خدمت گذار ہے ،یا دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دین دار یا حاجت مند ہے تو اسے زیادہ دینا بھی جائز ہے۔البتہ بلا وجہ شرعی ایک کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دینا مفتی بہ قول کے مطابق مکروہ ہے۔بزازیہ میں ہے: لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ ترجمہ:اگر اولاد میں سے بعض کو زیادہ دے ان بعض کی نیکی کی بناء پر تو کوئی حرج نہیں ہے، اور سب مساوی ہوں تو پھر ایسا نہ کرے۔(فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الفصل الاول جلد6 صفحہ 237)

    امام طحاوی علیہ الرحمہ حاشیہ در مختار میں لکھتے ہیں: یکرہ ذٰلک عند تساویھم فی الدرجۃ کما فی المنح والہندیۃ ترجمہ: اور درجہ میں اولاد کے برابر ہونے کی صورت میں (کسی کو زیادہ دینا) مکروہ ہے، جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے ۔(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ جلد3 صفحہ 399 دار المعرفہ بیروت)

    خلاصہ یہ ہے کہ شرعی طور پر آپ پر لازم نہیں کہ اولاد کے مابین جائیداد وغیرہ تقسیم کر دیں ۔ہاں اپنی خوشی سے بطورِ احسان تقسیم کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ، لیکن سب میں برابر برابر تقسیم کرنا ہو گی ، البتہ کسی خاص دینی وجہ سے ایک کو زیادہ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20 جمادی الاول 1441 ھ/16 جنوری 2020ء