zindagi mein taqseem e maal ka hukum
سوال
میری والدہ نے اپنا گھر بیچ کر اسکا پیسہ ہم پانچ بہنوں اور ایک بھائی میں تقسیم کردیا ہے ۔ تقسیم کرنے والا میرا بھائی ہے گھر کی کل قیمت 15 لاکھ روپے ہے میرے بھائی نے ہر بہن کو ایک لاکھ 5 ہزار روپے دیئے ہیں ۔ میری رہنمائی کریں کہ کیا یہ تقسیم درست ہے ۔ شرعی اعتبار سے ہر ایک کے حصے میں کتنی کتنی رقم آئے گی ۔
سائل: بمعرفت عمران : کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر گھر والدہ کا ذاتی ہے تو زندگی میں ان چیزوں کو اولاد کے مابین تقسیم کرنا شرعاً ضروری نہیں بلکہ جب تک بقیدِ حیات ہیں ،اولاد ان چیزوں کو لینے کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتی۔اور اگر مطالبہ کرے تو بھی اسے پورا کرنا لازم نہیں ہے۔
البتہ اگروالدہ اپنی خوشی سے اولادکے درمیان اس مکان کی قیمت تقسیم کرنا چاہیں توحرج نہیں لیکن یا رہے کہ یہ تقسیم از قبیل ِوراثت نہیں بلکہ ھبہ کے طور پر ہوگی، کیوں کہ وراثت یا ترکہ اس مال کو کہتے ہیں جو کسی شخص کے مرنے بعد اسکے ورثا کو ملتا ہے۔اور زندگی میں اولاد کو جو چیز بلا عوض دی جائے وہ ہبہ (gift) ہے۔
تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ والدہ سب سے پہلے اپنے لئے جتنا مال مناسب سمجھیں رکھ لیں اور اسکے بعد جو کچھ بچے وہ تمام اولاد کے مابین برابر برابر تقسیم کر دیں۔(وراثت کی تقسیم کا طریقہ اس سے جداگانہ ہے۔) اور اگر کسی خاص وجہ سے کسی ایک کو دوسرےکے مقابلے میں ذیادہ دیں تو اس میں حرج نہیں جبکہ دوسری کو ضرر پہنچانے کی نیت سے نہ ہو ،مثلاً کوئی زیادہ خدمت گزار ہے ،یا دوسری کے مقابلے میں زیادہ دین دار یا حاجت مند ہے تو اسے زیادہ دینا بھی جائز ہے۔البتہ بلا وجہ شرعی ایک کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دینا مفتی بہ قول کے مطابق مکروہ ہے۔
صحیحین میں حدیث پاک ہے:عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا، فَقَالَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ» ، قَالَ: لاَ، قَالَ ''فَارْجِعْهُ''۔ ترجمہ:نعمان بن بشیررضی اللہ عنہمانےکہاان کےوالدانہیں رسول اللہﷺکی خدمت میں لائےاورعرض کیاکہ میں نےاپنےاس بیٹےکوایک غلام بطورہبہ دیاہے۔آپﷺنےدریافت فرمایا،کیاایساہی غلام اپنےدوسرےلڑکوں کو بھی دیاہے؟انہوں نےکہانہیں،توآپ نےفرمایاکہ پھر(ان سےبھی)واپس لےلے۔(بخاری،باب الھبۃ للولد حدیث نمبر 2586،مسلم ،باب کراہیۃ تفضیل بعض الاولاد حدیث نمبر 1623)
ھبہ میں اولاد کو ایک دوسرے پر فضیلت کے حوالے سے بزازیہ میں ہے: لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ ترجمہ:اگر اولاد میں سے بعض کو زیادہ دے ان بعض کی نیکی کی بناء پر تو کوئی حرج نہیں ہے، اور سب مساوی ہوں تو پھر ایسا نہ کرے۔(فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الفصل الاول جلد6 صفحہ 237)
امام طحاوی علیہ الرحمہ حاشیہ در مختار میں لکھتے ہیں: یکرہ ذٰلک عند تساویھم فی الدرجۃ کما فی المنح والہندیۃ ترجمہ: اور درجہ میں اولاد کے برابر ہونے کی صورت میں (کسی کو زیادہ دینا) مکروہ ہے، جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے ۔(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ جلد3 صفحہ 399 دار المعرفہ بیروت)
البحر الرائق میں ہے: يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ كَذَا فِي الْمُحِيطِ۔ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکروہ ہے۔مگر کسی دینی فضیلت کی وجہ سے زیادہ دے تو جائز ہے۔ اور اگر سارا مال کسی ایک کو دیدے تو جائز ہے لیکن گنہ گار ہوگا۔( البحر الرائق کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ ج 7 ، ص:288 الشاملہ)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:10 رمضان المبارک 1443 ھ/12 اپریل 2022 ء