zindagi mein hiba aur wirasat ki taqseem
سوال
میرے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ،میرے شوہر کا کاروبار تھا جس میں سب ایک ساتھ کام کرتے تھے بڑے بیٹے محمود الحسن نے انکی زندگی میں مطالبہ کرنا شروع کردیا کہ جائیداد میں جو میرا حصہ ہے مجھے دیا جائے تو میرے شوہر نے علماء کرام سے مشورہ کرکے پہلے بڑے بیٹے کو اسکا حصہ ہبہ کردیا اسکے کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اپنے اور میرے لئے کچھ حصہ رکھ کر باقی تمام بچوں میں ھبہ کرکے قبضہ دے دیا بعد ازاں میرے بڑے بیٹے محمود الحسن کا 2007 میں انتقال ہوگیا اسکے بعد 2019 میں میرے شوہر کا انتقال ہوگیا اب بیٹے کے بیوی بچوں نے فساد ڈالا ہواہے کہ مابقی جائیداد میں ہمارا بھی حصہ ہے حالانکہ میرے علم میں ہے کہ وراثت میں یتیم پوتا پوتی کا حق نہیں ہوتا جبکہ ہم یہاں حصہ دے بھی چکے ہیں ۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں فتوٰی صادر فرمائیں تاکہ بروز قیامت ہم کسی بھی مسئلہ میں گنہ گار نہ ہوں۔
سائل:بمعرفت توصیف مدنی : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بڑے بیٹے کی بیوی بچوں کا شوہر کے والد کی وراثت سے تقاضا جائز نہیں اور نہ ہی اس تقاضے پر انہیں وراثت سےحصہ دینا واجب ہے۔ بلکہ یہ جائیداد صرف ان ورثاء میں تقسیم ہوگی جومورث کی وفات کے وقت حیات تھے ، جس بیٹے کا انتقال پہلے ہوا ،اسکے ورثاء (بیوی، بچوں )کو اس وراثت سے کچھ حصہ نہ ملے گا۔کیونکہ مال وراثت ان لوگوں میں تقسیم ہوتا ہے جو مورث کی وفات کے وقت موجود ہوں۔الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه :ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو ا س کی موت سے پہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے (لہذا ان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی)۔( الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424)
یوں ہی البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحت ہے:وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت)أي وقت الحكم بالموت۔ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث)کی موت کے وقت موجود ہوں۔ (البنایہ شرح الہدایہ جلد 7ص367)
لیکن اگر دیگر ورثاء اس مرحوم بیٹے کے ورثاء کومالِ وراثت میں سے کچھ دیں تو یہ ان کی طرف سے احسان و صلہ رحمی کے طور پر ہوگا ، اور ایسے لوگ اللہ کریم کے پسندیدہ ہیں،قال اللہ تعالیٰ ان اللہ یحب المحسنین۔ترجمہ: اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔
البتہ موجودہ مال وراثت مرحوم کی بیوی اور موجودہ اولاد کے مابین ہوگی کیونکہ جو کچھ زندگی میں دیا وہ از قبیلِ وراثت نہیں بلکہ از قبیل ھبہ تھا۔اور موجودہ مال وراثت ہے جسکی تقسیم ورثاء کے مابین درج ذیل طریقے کے مطابق ہوگی کہ مالِ وراثت کے کل 64 حصے ہونگے جس میں سے بیوی کو 8 حصے، ہربیٹے کو الگ الگ 8 حصے اور ہر بیٹی کو الگ الگ 7 حصے کئے جائیں گے۔
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوںکے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان :تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:26 رجب المرجب 1445ھ/ 07 فروری 2024 ء