سوال
ہمارا 120گز کا ایک گھر ہے اور ہم 4 بھائی اور 01 بہن ہیں ۔والد محترم حیات ہیں اور والدہ محترمہ کی وفات ہو چکی ہے اور والد اپنی زندگی میں ہی اپنا گھر بیچنا چاہتے ہیں۔آپ ہماری یہ رہنمائی فرمادیں کہ شرعی طور پر ہر ایک کا کیا حصہ بنتا ہے؟
سائل: عامر قادری
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مکان وغیرہ آپکے والد کی ملکیت میں جتنی چیزیں ہیں وہ آپکے والد کی ہیں ،زندگی میں آپ کے والدپر ان چیزوں کو اولاد کے مابین تقسیم کرنا شرعاً ضروری نہیں بلکہ جب تک بقیدِ حیات ہیں ،اولاد ان چیزوں کو لینے کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔اور اگر مطالبہ کرے تو اسے پورا کرنا آپ کے والد پر ضروری نہیں ۔البتہ اگروالد صاحب اپنی خوشی سے اولادکے درمیان تقسیم کرنا چاہتے ہوں تو کر سکتے ہیں۔اور یہ تقسیم کاری از قبیل ِوراثت نہیں ہو گی اسلئے کہ وراثت یا ترکہ اس مال کو کہتے ہیں جو کسی شخص کے مرنے بعد اسکے ورثا کو ملتا ہے ۔اور زندگی میں اولاد کو جو چیز بلا عوض دی جائے وہ ہبہ (gift) ہے۔
ہبہ کی تعریف کے حوالے سے علامہ محمد بن فرامرز المعروف ملا خسرو علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:(تَمْلِيكُ عَيْنٍ بِلَا عِوَضٍ) أَيْ بِلَا شَرْطِ عِوَضٍ لَا أَنَّ عَدَمَ الْعِوَضِ شَرْطٌ فِيهِ۔ترجمۃ: کسی چیز کا( دوسرے کو )بلا عوض ( بغیر عوض کی شرط کے )مالک کردینا ہبہ کہلاتا ہے ،یعنی اسمیں عوض کا ہونا شرط و ضروری نہیں ۔ (درر الحكام شرح غرر الأحكام جلد 2 صفحہ 217 دار إحياء الكتب العربية)
زندگی میں اولاد کے مابین جائیداد وغیرہ تقسیم کرنا چاہیں تو اسکا طریقہ یہ ہے کہ آپکے والد اپنے لیے جتنا مناسب سمجھیں اتنا مال و متاع اپنے پاس رکھ لیں،اور اسکے بعد جو بچے وہ تمام بھائیوں اور بہن کے مابین برابر برابر تقسیم کر دیں ۔اور اگر کسی خاص وجہ سے کسی ایک کو دوسری کے مقابلے میں ذیادہ دیں تو اس میں حرج نہیں جبکہ دوسری کو ضرر پہنچانے کی نیت سے نہ ہو ،مثلاً کوئی ذیادہ خدمت گذار ہے ،یا دسری کے مقابلے میں ذیادہ دین دار یا حاجت مند ہے تو اسے زیادہ دینا بھی جائز ہے۔البتہ بلا وجہ شرعی ایک کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دینا مفتی بہ قول کے مطابق مکروہ ہے۔بزازیہ میں ہے: لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ ترجمہ:اگر اولاد میں سے بعض کو زیادہ دے ان بعض کی نیکی کی بناء پر تو کوئی حرج نہیں ہے، اور سب مساوی ہوں تو پھر ایسا نہ کرے۔(فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الفصل الاول جلد6 صفحہ 237)
امام طحاوی علیہ الرحمہ حاشیہ در مختار میں لکھتے ہیں: یکرہ ذٰلک عند تساویھم فی الدرجۃ کما فی المنح والہندیۃ ترجمہ: اور درجہ میں اولاد کے برابر ہونے کی صورت میں (کسی کو زیادہ دینا) مکروہ ہے، جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے ۔(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ جلد3 صفحہ 399 دار المعرفہ بیروت)
خلاصہ یہ ہے کہ شرعی طور پر آپ پر لازم نہیں کہ اولاد کے مابین جائیداد وغیرہ تقسیم کر دیں ۔ہاں اپنی خوشی سے بطورِ احسان تقسیم کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں ، لیکن سب میں برابر برابر تقسیم کرنا ہو گی ، البتہ کسی خاص دینی وجہ سے ایک کو زیادہ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:22 صفر المظفر 1441 ھ/22 اکتوبر 2019 ء