سوال
ایک شخص کا انتقال ہوا اسکے ورثاء میں ایک زوجہ ، 6 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہیں ۔ بعد ازاں زوجہ کا بھی انتقال ہوگیا اسکے ورثاء میں بھی یہی لوگ ہیں یعنی 6 بیٹے اور 2 بیٹیاں۔ مکان کی قیمت 23 لاکھ روپے ہے ہر ایک کا شرعی حصہ بتادیں۔
سائل:فصیح الدین:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ ذکر کیا گیا تو حکم شرع یہ ہے کہ کل مالِ وراثت کو 14 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے ہر بیٹے کو الگ الگ 2 حصے جبکہ ہر بیٹی کو 1 حصہ ملے گا۔
رقم کی صورت میں ہر بیٹے کا حصہ : 328571
ہر بیٹی کا حصہ: 164286
مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:17 شعبان المعظم 1442 ھ/01 اپریل 2021 ء