سوال
ایک شخص کا انتقال ہوا ، اسکے ورثاء میں ایک بیوی،والدہ اور دو بیٹیاں ہیں ۔ دو بھائی اور دوبہنیں بھی ہیں ۔ ایک بیٹا تھا جس کا انتقال والد کے انتقال سے پہلے ہی ہوگیا ہے ،لیکن اس کے تین بیٹے اور بیوی موجود ہیں ۔
1:۔ کس کس کو حصہ ملے گا اور کتنا کتنا ملے گا؟
2:۔ بھائیوں اور بہنوں کو ملے گا یا نہیں ؟
سائل: محمد حنیف(دوڑ شہر ضلع بینظیر آباد)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے تو بات مکمل ہے اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر اسکے ذمے جو قرض ہے اسکی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ اگر مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس) مال کے تین حصے کیے جاتے ہیں ،ایک حصہ سے وصیت پوری کی جاتی ہے اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جاتے ہیں۔
السراجی فی المیراث ص 5پر ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ :ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔
لہذا اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا یعنی ذکر کردہ ورثاء کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں ہے تو وراثت میں سے میت کی بیوی ،والدہ،بیٹیوں اور پوتوں کو حصہ ملیگا ، میت کے بہن بھائیوں کو کچھ حصہ نہیں ملے گا۔یونہی بیٹے کی بیوی یعنی میت کی بہو کو بھی کچھ حصہ نہیں ملے گا، حصوں کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل وراثت کے 72 حصے کئے جائیں گے جس میں سے بیوی کو 9حصے،والدہ کو 12 حصے، ہر بیٹی کو 24،24 حصے اور پوتوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک حصہ ملے گا ۔
نوٹ اس فتویٰ کی مزید تفصیل PDF کے ساتھ منسلک ہے ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:7محرم الحرام 1440 ھ/18ستمبر 2018 ء