سوال
ہم چار بہنیں اور ایک بھائی ہے ، والدین بھی حیات ہیں ،والد کی پراپرٹی میں 120 گز کی زمین ہے ۔ جسکو وہ اپنی زندگی میں ہی تقسیم کرنا چاہ رہے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ اس 120 گز کے تین حصے کرلیں ایک حصہ یعنی 40 گز بھائی کو دے دیں اور بقیہ 80گز میں ہم چار بہنیں حصہ دار ہوں اس طرح کہ دو بہنیں 40 گز میں اور دوسری دو بھی 40 گز میں ۔ کیا ایسا کرنا درست ہے قرآن و سنت کی روشنی میں جواب عنایت کریں ۔
سائل: شازیہ ناز : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سب سے پہلے یہ بات یاد رکھیں کہ شرعی اصطلاح میں وراثت اس جائیداد کو کہا جاتا ہے جو انسان چھوڑکر مرتا ہے، اور وہ اس وقت اسکے موجود ہ ورثاء میں تقسیم ہوتی ہے۔اس کو ترکہ بھی کہا جاتا ہے۔التعریفات ص 42 میں ترکہ کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے: ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغيربعينه ترجمہ: ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا ۔
لہذا اگر جائیداد آپکے والد کی ذاتی ملکیت ہے تو وہ اسکے مکمل مالک ہیں اور جب تک وہ بقید حیات ہیں ، کسی اولاد کا اس میں کوئی حق نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس جائیداد کی تقسیم کا مطالبہ کر سکتا ہے۔البتہ اگر وہ اپنی زندگی میں ہی اپنی اولادکے درمیان تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں،اور یہ تقسیم ، وراثت کی تقسیم نہیں بلکہ انکی طرف سے اولاد کے لیے ھبہ و گفٹ ہوگا۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے لیے اور اپنی زوجہ کے لیے جتنا مناسب سمجھیں رکھ سکتے ہیں ،اس کے بعد جو بچے وہ سارا مال سب اولاد خواہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں سب کوبرابر برابر دے دیا جائے۔ لیکن اگر کسی خاص وجہ سے مثلاًاولاد میں سے کوئی عالم دین یا خدمت گذار ہے اسے دوسروں سے زیادہ دیدے تو یہ بھی جائز ہے، بلا وجہ شرعی کسی ایک کو دوسری اولاد سے زیادہ دینا گناہ ہے۔
البحر الرائق میں ہے: "يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدِ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ"ترجمہ:صحت کی حالت میں اولاد پر ہبہ کر تے ہوئے بعض اولاد کو زیادہ اور بعض کو کم دینا مکرہ ہے،لیکن اگر کسی دینی فضیلت کیوجہ سے دے تو جائز ہے اور اگر سارا مال اولاد میں سے کسی ایک کو دیا تو قضاء جائز ہے لیکن دینے والا گنہگار ہو گا ۔( البحر الرائق کتاب الھبہ ،باب الھبۃ لطفلۃ،ج:7،ص:288)
خلاصہ یہ ہے کہ آپ کے والداپنی جائیداداپنی سب اولاد میں برابر برابر تقسیم کردیں ، اور کسی خاص وجہ سے زیادہ دینا چاہیں تو وہ بھی دے سکتے ہیں۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:18 محرم الحرام 1441 ھ/18 ستمبر2019 ء