سوال
میرے شوہر عبدالرفیق کا 2000ء میں انتقال ہوگیا تھا، انکی دو بیویاں تھیں پہلی بیوی کا ان سے پہلے ہی 1969 میں انتقال ہوگیا اس بیوی سے دو بیٹے اور ایک بیٹی حیات ہیں ۔ جبکہ میرے بھی دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے، انکی پہلی اہلیہ کے دونوں بیٹے انکی حیات میں ہی الگ الگ ذاتی مکان میں رہائش اختیار کرچکے تھے ، جبکہ وہ خود ایک عدد پلاٹ 120 مربع گز پر عارضی تعمیر کرکے میرے اور بچوں کے ساتھ رہائش پذیر تھے ۔ انکے انتقال کے بعد میں نے موجودہ مکان کے آدھے حصے کی تعمیر 2004ء میں کروائی جس پر تین لاکھ لاگت آئی، دوسری مرتبہ بقیہ حصے کی تعمیر 2007ء میں ہوئی جس پر پانچ لاکھ لاگت آئی،تیسری مرتبہ چھت پر حسب ضرورت تعمیر کی گئی اس پر بھی تین لاکھ لاگت آئی۔اب 2018 ء میں انکی پہلی بیوی کی اولاد موجودہ مکان کو فروخت کرکے اس میں اپنا حق وراثت مانگ رہے ہیں۔برائے کرم اس بات کی وضاحت فرمائیں کہ اس ترکے میں سے کس کا کتنا حصہ بنتا ہے ؟ نیز تعمیرات پر جو لاگت آئی وہ لاگت بقدر وضع کی جائے گی یا موجودہ قیمت سے بقدر منہا ہوگی، نیز میں نے یہ تجویز رکھی کہ قیمت کا تعین کرکے حصے طے کر لیں اور باری باری قسطوں میں ادا کروں گی ۔ از روئے شرع اس بات کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرمادیں۔
سائلہ: زوجہ عبد الرفیق
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا توآپ کے مرحوم شوہر کے ترکہ کے کل80 حصے کیئے جائیں گے جس میں سے آپکو 10 حصے اور مرحوم کے ہر بیٹے کو 14،14 حصے اور ہر بیٹی کو 7،7 حصے دئیے جائیں گے۔
آپ نے اپنے شوہر کی عارضی تعمیر اگر تمام ورثاء کی اجازت سے گرائی تھی تو فبہا ، وگرنہ اس وقت اس عمارت کی جو مالیت تھی وہ آپ پر آئے گی،
اوراسکے بعد آپ نے جو اس پلاٹ پر تعمیر کے سلسلے میں رقم لگائی وہ رقم موجودہ عمارت کی قیمت لگواکر اس سے منہا کی جائے گی اور باقی سب کا سبتمام ورثاء میں بشمول آپکے انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔
اور اگر دیگر ورثاء آپکی تجویز سے راضی ہوں تو شریعت کی طرف سے اس میں کوئی ممانعت نہیں ہےاور اس میں ان کے لیئے ثواب و احسان بھی ہے۔
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:لایجوز التصرف فی مال غیرہ بلااذنہ ولاولایتہ الا فی مسائل: ترجمہ: غیرکے مال میں اس کی اجازت وولایت کے بغیر تصرف کرنا سوائے چندمسائل کے ناجائزہے۔(الدرالمختار کتاب الغصب جلد 6 ص 200)
سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں :فی العقود الدریۃ من کتاب العاریۃ سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ و عن ورثۃ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ الجواب نعم کما صرح بذٰلک فی حاشیۃ الاشباہ:ترجمہ: العقود الدریۃ میں کتاب العاریۃ کے بیان میں مذکور ہے، ایک ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنے باپ کی اجازت سے اس کی زمین پر اپنے مال سے اپنے لئے محل بنایا پھر باپ اس سمیت دیگر ورثاء کو چھوڑ کر فوت ہوگیا تو یہ محل اس بانی کا ہوگا ۔الجواب، ہاں۔ جیسا کہ اس کی تصریح الاشباہ میں ہے۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب الوکالۃ ،جلد 19 ص 224 رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ: ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا: یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ
ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
فائدہ : جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ ہی ہے کہ مکان کو بیچ کر یا اسکی قیمت لگوا کر کل رقم کو مبلغ یعنی 80 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:16 جمادی الاول 1440 ھ/22 جنوری 2019 ء