بالغ اولاد کو ھبہ کیا قبضہ نہ دیا
    تاریخ: 16 مارچ، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 1040

    سوال

    میرے والد صاحب سرکاری ملازم تھے ، حکومت کی طرف سے انکو ایک مکان ملا تھا ۔ جو انہوں نے زندگی ہی میں سب سات بہنوں کے سامنے میرے نام کردیا تھا، اور اسکی فائل میرے نام ٹرانسفر کردی تھی اور اس وقت والد صاحب ،بہنیں اور میں اسی مکان میں رہتے تھے اب والد صاحب کا انتقال ہوا ہے تو میں نےمکان فروخت کیا ہے میرا سوال یہ ہے کہ اس میں بہنوں کا حصہ ہے یا نہیں ؟ بہنیں تقاضہ نہیں کررہی لیکن میں اپنے دل کو مطمئن کرنے کے لیے پوچھ رہا ہوں کہ انکا حصہ ہے تو کتنا ہے ہر ایک کا حصہ بتادیں۔

    سائل: محمد تنویر آفتاب: ڈیرہ غازی خان


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو اس صورت میں مکان کی قیمت کو نو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے دو حصے آپکے اور ایک،ایک حصہ ہر بہن کا ہوگا ۔

    المسئلۃ بھذہ الصورۃ

    مسئلہ :9

    مــیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت

    بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی بیٹی

    عصبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

    2 1 1 1 1 1 1 1


    کیونکہ تملیک عین بلا عوض ھبہ ہے ۔یعنی اگر کوئی شخص کسی کوکسی بھی چیز کا بغیر کسی عوض کے مالک بنادے تو یہ گفٹ اور ھبہ کہلاتا ہے ، جس کے لیے قبضہ ضروری ہے بغیر قبضہ کے ھبہ تام نہ ہوگا ، پھر اگر واہب (گفٹ کرنے والا ) اپنی اولاد کو ھبہ کرے تو دیکھیں گے کہ جس وقت ھبہ کیا اس وقت اولاد بالغ ہے یا نابالغ ، اگر نابالغ ہو تو ان کے باپ کا قبضہ بعینہ انکا قبضہ کہلائے گا ، از سرنو قبضہ کی ضرورت نہیں ، لیکن وقت ھبہ اگر اولاد بالغ ہو تو ضروری ہے کہ ھبہ کہ بعد قبضہ کامل بھی حاصل کرلے وگرنہ ھبہ تام نہ ہوگا اور شئے موھوب (جو چیز گفٹ کی گئی ہے) واہب(گفٹ کرنے والے) کی ملک پر باقی رہے گی اوراسکی وفات کے بعد اسکے ورثاء میں انکے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کی جائے گی ۔اور یہاں بعینہ دوسری صورت موجود کہ آپکے والد نے حالت بلوغت میں مکان آپکے نام کیا ، اور آپ نے اس پر قبضہ کامل از سر نو نہیں کیا جیسا کہ آپکا قول '' اور اس وقت والد صاحب ،بہنیں اور میں اسی مکان میں رہتے تھے'' اس بات پر دلالت کرتا ہے ۔ لہذا جو مکان آپ نے بیچا ہے اسکی قیمت تمام ورثاء بشمول آپکے شرعی اعتبار سے تقسیم ہوگی، حصوں کا ذکر اوپر کر دیا گیا ہے۔

    تنویرالابصارمیں ہے:وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ) کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز) میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)

    اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل :ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)

    عالمگیریہ میں ہے : لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض:ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)

    ہدایہ میں قبضہ کی شرط کی علت یوں بیان کی گئی :والقبض لا بد منه لثبوت الملك لأنه عقد تبرع، وفي إثبات الملك قبل القبض إلزام المتبرع شيئا لم يتبرع به، وهو التسليم فلا يصح،ترجمہ: ھبہ میں ملکیت کے ثبوت کے لیے قبضہ ضروری ہے کیونکہ یہ مفت عطیہ کا عقد ہے ، جبکہ قبضہ سے قبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت کرنا تبرع کرنے والے پر ایسی چیز کو لازم کرنا جس کا ابھی اس نے تبرع نہیں کیا اور یہ قبضہ دینا تبرع ہے تو قبل قبضہ درست نہ ہوا۔

    تنویرالابصار مع الدر المختار میں ہے :ھبۃ من لہ ولایۃ علی الطفل فی الجملۃ تتم بالعقد (ای الایجاب فقط) لان قبض الولی ینوب عنہ والاصل ان کل عقد یتولاہ الواحد یکتفی فیہ بالایجاب ۔ترجمہ: جس کو نابالغ پر ولایت حاصل ہے تو اس کا بچے کو عقد ہبہ ہی ہبہ کو تام کردیتاہے یعنی صرف ایجاب ہی کافی ہے کیونکہ ولی کا قبضہ بچے کی نیابت سے ہے۔ اورقاعدہ یہ ہے کہ ایسا عقد جس میں ایک شخص ہی فریقین کے قائم ہوسکتاہے اس میں اس کا ایجاب ہی کافی ہے۔(تنویرالابصار مع الدر المختار کتاب الھبۃ جلد 6ص 694 الشاملہ)

    سیدی اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں :پسر موہوب لہ اگر وقت ہبہ بالغ ہو تو خود اس کا اپنا قبضہ شرط ہے ورنہ باپ کا قبضہ اسی کا قبضہ ہے ،کل ذٰلک مصرح بہ فی الکتب الفقہیۃ عن اٰخرہا (یہ تمام بحث کتب فقہ میں تصریح شدہ ہے۔ )(فتاوٰ ی رضویہ کتاب الھبۃ جلد 19 ص 219)

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے ، قال اللہ تعالی یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ :ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:19 ربیع الاول 1440 ھ/27 نومبر 2018 ء