سوال
ایک شخص کا انتقال ہوا ورثاء میں ایک بیوی(پروین) تین بیٹے(عمران،وقاص،فرحان)اور چار بیٹیاں (کرن،انعم،ارم،عنبر)چھوڑیں والدین پہلے ہی وفات پا چکے تھے ، اسکے بعد بیٹوں میں سے ایک بیٹے محمد وقاص کا انتقال ہوگیا جوکہ شادی شدہ تھے انکی کوئی اولاد نہیں تھی ،جبکہ انکی بیوی موجود ہے کہیں اور شادی کرچکی ہے ۔ تقسیم وراثت کیسے ہوگی ۔ برائے مہربانی ارشاد فرمائیں۔
سائل:فرحان : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت کو 3840حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،جس میں سے پروین کو 592 حصے ، عمران اورفرحان میں سے ہر ایک کو 770حصے ، کرن،انعم،ارم،عنبر میں سے ہر ایک کو 385 حصے جبکہ محمد وقاص کی بیوہ کو 168 حصے ملیں گے۔
نوٹ: مزید تفصیل PDF کے ساتھ منسلک ہے
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:01 ذوالحج 1440 ھ/03 اگست 2019 ء