سوال
میرے والدکاا نتقال ہوا، ورثاء میں اس وقت ایک زوجہ(شمس النساء)، تین بیٹے (وسیم، وصی،عظیم) دو بیٹی (عالیہ ،زرینہ)ہیں ۔ ایک بیٹی کا والد سے پہلے انتقال ہوچکا ہے۔ان ورثاء میں شرعی طور پر کیسے تقسیم ہوگی۔ ہر ایک کا کتنا حصہ ہوگا۔تفصیل سے آگاہ فرمادیں۔
سائل:وصی الدین: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جب کسی شخص کا انتقال ہوجائے تو سب سے پہلے اسکے مال سے اسکی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا جاتاہے پھر اگر اس پر کسی کا قرضہ ہوتو اسکے سارے مال سے اس قرضے کی ادائیگی کی جاتی ہے، اگر قرضے میں سارا مال چلا جائے فبہا۔ اب چونکہ مزید مال موجود ہی نہیں لہذا ورثاء کو کچھ نہیں ملے گا لیکن اگر قرض کی ادائیگی کے بعد مال بچ جائے تو دیکھیں گے کہ مرنے والے نے کسی غیر وارث کے لیے وصیت کی ہے تواس مابقی بعد اداء القرض (قرض کی ادائیگی کے بعد جو بچا اس)مال کے تین حصے کیے جائیں گے ،اس میں سے ایک حصہ سے وصیت پوری کی جائیگی اور بقیہ دو حصے اسکے ورثاء میں شریعت کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم کر دئیے جائیں گے۔السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔)سراجی فی المیراث ص 5)
پوچھی گئی صورت میں اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا بیان کیا گیا ہے تو کل وراثت کو64حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے مرحوم کی زوجہ کو8 حصے، ہر بیٹے کو الگ الگ 14 حصے اور ہر بیٹی کو الگ الگ 7 حصے ملیں گے۔
المسئلۃ بھذ ہ الصورۃ
مسئلہ : 64=8x8
مــیــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیوی بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی
1/8 عصبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
7
8 14 14 14 7 7
مذکورہ تقسیم اللہ تعالٰی کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:بیویوںکے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ:اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
فائدہ :رقم کی صورت میں تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل مال وراثت کی مارکیٹ ویلیو لگواکر رقم کو مبلغ یعنی64پرتقسیم کردیں جو جواب آئےاسکو محفوظ کرلیں پھر اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:23 شوال المکرم 1441 ھ/17 جون 2020 ء