سوال
میری والدہ جب زندہ تھی تو انہوں نے اپنی رضامندی سے ایک بیٹے کو کچھ زیور گفٹ دیا اور اس کے ایک ڈیڑھ ماہ بعد میری والدہ وفات پا گئیں ۔ لیکن مسئلہ اس طرح ہے کہ میرے ایک بھائی نےمیری والدہ کو تین چار سال پہلے کچھ زیور بنا کے دیا تھا ،اورہماری کوئی بہن نہیں ہے چھ بھائی ہیں اب پوچھنا یہ تھا کہ اس میں جو زیور رہ گیا ہے وہ چھ بھائیوں میں تقسیم ہوگا ؟اور دوسرا یہ کہ بھائی نے جو زیور گفٹ کیا تھا وہ بھی تقسیم ہوگا؟
نوٹ : والدہ کے پاس اپنا زیور تھا اس میں سے کچھ بیٹے کو گفٹ کیا قبضہ بھی دے دیا۔دوسرے بھائی نے والدہ کو بطور گفٹ کچھ زیور دیا اور قبضہ بھی دے دیا۔
سائل: محمد معراج
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہے تو آپ کی والدہ نے ایک بیٹے کو جو زیور دیا اور بیٹے نے اس پر قبضہ بھی کرلیاتھا۔ لہٰذا وہ والدہ کی ملکیت سے خارج ہوکر بیٹے کی ملک ہوگیا۔ وہی اکیلا مالک ہے لہٰذا اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی۔
اور وہ زیور جو بیٹے نے والدہ کو گفٹ دیا تھا وہ والدہ کی ملک ہوگیا ۔لہذا اس میں وراثت جاری ہوگی۔ اب والدہ کے ترکے کی تقسیمتمام بھائیوں کے مابین اس طرح ہوگی کہ امورِ متقدّمہ علی الإرث( مرحومہ کے ترکہ میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالیں جائیں گے ،پھر اگر قرض ہے تو وہ ادا کیا جائے گا ،پھرکوئی جائز وصیت کی ہے تو اس کوتہائی مال سے پور اکیا جائے) کے بعد کل مالِ وراثت کے06حصے کئے جائیں گے جس میں سےایک ایک حصہ ہر ایک بیٹے کو دیا جائے گا۔
المسئلۃ بھذہ الصورۃ
مسئلہ : 6
مــیــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا
1/6 عصبــــــــــــــــــــــــــــہ
1 1 1 1 1 1
دلائل و جزئیات:
عطیہ و انعام جسےہبہ بھی کہا جاتا ہے اس کے متعلق بدائع الصنائع میں ہے: "أَمَّا أَصْلُ الْحُكْمِ فَهُوَ ثُبُوتُ الْمِلْكِ لِلْمَوْهُوبِ لَهُ فِي الْمَوْهُوبِ مِنْ غَيْرِ عِوَضٍ لِأَنَّ الْهِبَةَ تَمْلِيكُ الْعَيْنِ مِنْ غَيْرِ عِوَضٍ فَكَانَ حُكْمُهَا مِلْكَ الْمَوْهُوبِ مِنْ غَيْرِ عِوَضٍ".ترجمہ: عطیہ کا اصل حکم یہ ہے کہ اس میں بغیر کسی عوض کے موہوب لہ(جسے عطیہ دیا گیا) کیلئے ملکیت کاثبوت ہوتاہے کیونکہ عطیہ نام ہے بغیر عوض کے کسی عین شئ کا مالک بنانا لہذا اسکا حکم یہ ہوگا کہ موہوب لہ عطیہ کا بغیر عوض کے مالک ہوجائے گا۔ (بدائع الصنائع،فصل فی حکم الہبۃ،6/127،دار الکتب العلمیۃ)
حدیث مبارکہ میں ہے:" قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالعُمْرَى، أَنَّهَا لِمَنْ وُهِبَتْ لَهُ".ترجمہ: نبی کریمﷺ نے عمریٰ (زندگی کے لیے ہبہ) کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ یہ اسی کا ہے جس کو ہبہ کیا گیا ہے۔(بخاري، الهبة وفضلها، 2/ 925، رقم: 2482، بیروت: دار ابن کثیر الیمامة)
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:"أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ، فَإِنَّهَا لِلَّذِي أُعْطِيَهَا، لَا تَرْجِعُ إِلَى الَّذِي أَعْطَاهَا، لِأَنَّهُ أَعْطَى عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ".ترجمہ: جس شخص کو او ر اس کے وارثوں کو تاحیات کوئی چیز دی گئی سو یہ چیز اسی کے لیے ہے جس کو دی گئی ہے وہ چیز دینے والے کی طرف نہیں لوٹے گی کیونکہ اس نے ایسی چیز دی ہے جس میں وراثت جاری ہوگی۔(مسلم، كتاب الهبات،3/ 1245، رقم: 1625، بیروت: دار احیاء التراث العربي)
علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"وَإِذَا مَاتَ الْوَاهِبُ فَوَارِثُهُ أَجْنَبِيٌّ عَنْ الْعَقْدِ إذْ هُوَ مَا أَوْجَبَهُ وَهُوَ مُجَرَّدُ خِيَارٍ فَلَا يُورَثُ". ترجمہ: اور جب ہبہ کرنے والا فوت ہو جائے تو اس کے ورثا اس عقد سے اجنبی متصوّر ہوں گے کیونکہ اس نے (اپنی حیات میں اپنے اوپر) عقد لازم کیا ہے اور یہ محض اختیار ہے، لہٰذا اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی۔(البحر الرائق، كتاب الهبة، باب الرجوع في الهبة، 7/ 292، بيروت: دار المعرفة)
علامہ ابن عابدين شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"وَتَتِمُّ الْهِبَةُ بِالْقَبْضِ الْکَامِلِ". ترجمہ: اور ہبہ کامل قبضہ سے مکمل ہوجاتا ہے۔(ابن عابدین شامي، ردالمحتار، 8: 435، بیروت: دارلفکر)
اور الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "لَا يَثْبُتَ الْمِلْكُ لِلْمَوْهُوبِ لَهُ قَبْلَ الْقَبْضِ".ترجمہ:موہوب لہ کی ملکیت سوائے قبضہ کے ثابت نہیں ہوگی۔(الفتاوی الہندیۃ،کتاب الہبۃ،4/374،دار الفکر) ۔
کتبـــــــــــــــہ: محمد عثمان طاہری
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:9رمضان المبارک 1447 ھ/27 فروری 2026 ء