سوال
آج کل حاجیوں کے اضافے کی وجہ سے منی کے کچھ خیمے مزدلفہ کی جانب لگائے جاتے ہیں۔ اور اس جگہ کو نیومنی کا نام دیا گیا ہے ۔بہت سارے حجاج کرام وہاں قیام فرماتے ہیں ۔کیا ان کا یہ قیام کرنا درست ہے ۔اگر نہیں تو کیا ایسا کرنے سے ان پر دم لازم ہوگا؟ سائل:عبداللہ:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
حج کے ایام میں حجاج کرام دو مرتبہ منیٰ کی طرف جاتے ہیں:
1:آٹھویں ذی الحجۃ کے دن سورج طلوع ہونےکے بعدمنیٰ کی طرف جاتےہیں۔ وہاں نو یں ذی الحجۃکے طلوع شمس تک قیام کرتےہیں اورپھر اس کے بعد میدان عرفات کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔
2:دسویں ذی الحجۃ کی صبح نماز فجر کی ادائیگی کے بعد مزدلفہ سے منی کی طرف دوبارہ روانہ ہوتےہیں۔اور پھردسویں ذی الحجہ کے دن رمی اورقربانی کرتےہیں اور حلق کرواتےہیں ۔اورگیارہویں اور بارہویں ذی الحجۃکو دن میں رمی (شیطان کو کنکڑیاں مارنا)کرتےہیں ۔گیارہوں اور بارہویں ذی الحجۃ کی رات منی میں گزارتےہیں۔پھر جنہیں تیرہ ذی الحجہ کی رمی نہیں کرنی ہوتی وہ بارہ ذی الحجہ کو غروبِ آفتاب سے قبل منیٰ سے نکل جاتے ہیں۔اور جنہیں رمی کرنی ہوتی ہے وہتیرہ ذی الحجہ کو رمی کے بعد منٰی سے نکلتے ہیں۔
مندرجہ بالا دونوں صورتوں (یعنی وقوف ِعرفہ سے قبل آٹھ ذی الحجہ کو اور دس ذی الحجہ کی رمی کے بعد 11 اور 12 کی رات گزارنا۔)میں منیٰ میں قیام کرنا سنت مؤکدہ ہے۔جبکہ 10 ،11،12ذی الحجہ کے دن رمی کرنا واجب ہے۔
پس صورت ِمستفسرہ میں نیو منٰی میں قیام سے حج درست ہوجائے گا مگرایسا کرنا خلاف ِسنت ہے ۔جان بوجھ کر ایسا کرنا گناہ ہے لیکن اس سے دم لازم نہیں ہوتااور یہ صورت تومجبوری کی ہے کہ حکومت کی جانب سے ان حاجیوں کے کیمپ ہی وہاں لگائے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں گناہ بھی نہ ہوگا۔البتہ اکثر وقت مسجد خیف اور اس کے قرب میں گزاریں جبکہ آرام و غیرہ کے لیے اپنے خیموں میں تشریف لے جائیں تاکہ منی ٰ میں وقوف کا ثواب بھی مل جائے اوراتنی دیر خلافِ سنت بھی نہ ہو۔
الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:(ثُمَّ يَخْرُجُ غَدَاةَ التَّرْوِيَةِ) وَهُوَ ثَامِنُ ذِي الْحِجَّةِ.(إِلَى مِنًى) فَيَنْزِلُ بِقُرْبِ مَسْجِدِ الْخَيْفِ.(فَيَبِيتُ بِهَا حَتَّى يُصَلِّيَ الْفَجْرَ يَوْمَ عَرَفَةَ) فَيُصَلِّي بِمِنًى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالْفَجْرَ،وَهَذِهِ الْبَيْتُوتَةُ سُنَّةٌ ملخصاًترجمہ:پھر وہ نکلے ترویہ کی صبح اور وہ آٹھ ذی الحجہ ہےمنی کی طرف پس وہ قیام کرے مسجد خیف کے قرب میں تو منی میں رات گزارے یہاں تک کہ یوم عرفہ کے دن فجر کی نماز منی میں ادا کرے یعنی آٹھ ذی الحجہ کے دن منی پہنچ کر ظہر،عصر،مغرب ،عشاء اور اگلے دن کی فجر کی نماز پڑھے اور یہ رات گزارنا سنت ہے۔ملخصاً(الاختیار لتعلیل المختار ،جلد:1،ص:149،مطبعۃ الحلبی،قاہرہ)
مناسک ملا علی قاری میں ملا علی قاری ارشاد فرماتےہیں:راح الامام مع الناس بعد طلوع الشمس من مکۃ الی منی فیقیم بھاویصلی بھا الظہر و العصروالمغرب والعشاءو الفجرترجمہ:(آٹھ ذی الحجہ کے دن)سورج طلوع ہونے کے بعد امام لوگوں کے ساتھ مکہ سے منی کے جانب روانہ ہو پس وہ منی میں قیام کرے اور وہی پر ظہر ، عصر ، مغرب ،عشاء اور فجر کی نماز پڑھے۔(مناسک ملا علی القاری،جلد:1،ص:188،ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیۃ،گارڈن ایسٹ کراچی)
فتاوٰی رضویہ شریف میں اعلٰحضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں: منیمیں دسویں، گیارھویں، بارھویں دن رمی جمار واجب ہے،شب باشی ہمارے نزدیک سنت ہے(فتاوٰی رضویہ،جلد:10،ص:791،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: آٹھویں تاریخ مکہ معظمہ سے منیٰ، نویں کو بعد طلوع شمس منیٰ سے عرفات جانا، وہاں نہانا، مزدلفہ میں رات بسر کرنا، دسویں کو وہاں سے قبل طلوع شمس منی کو جانا۔ وہاں ایام رمی جمار میں راتوں کو رہنا، مکہ معظمہ کو یہاں سے جاتے وادی محصب میں اترنا وغیر ذلک کہ یہ سب سننِ موکدہ ہیں۔(فتاوٰی رضویہ ،جلد:10،ص:797،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
المبسوط للسرخسی میں ہے: وإن بات بمكة ليلة عرفةوصلى بها الفجر ثم غدا منها إلى عرفات، ومر بمنى أجزأه لما بينا، وقد أساء في تركه الاقتداء برسول الله - صلى الله عليه وسلم - «فإنه أقام بمنى يوم التروية» كما رواه جابر - رضي الله عنه - مفسرا.ترجمہ:اور اگر عرفہ کی شب مکہ میں گزاری پھر صبح مکہ سے عرفات کی طرف روانہ ہوگیااور منی سے گزر گیاایسا کرنا اسے کافی ہے اس کے سبب جو ہم نے بیان کیا لیکن نبی کریم ﷺ کی اطاعت چھوڑنے کےسبب اس نے برا کیا ، بے شک نبی کریمﷺنے یوم ترویہ منی میں قیام فرمایا جیسا کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسےتفصیل سے روایت کیا ہے(المبسوط للسرخسی،جلد:4،ص:53،دارالمعرفۃ بیروت)
فتاوٰی قاضی خان میں ہے:وان بات بمکۃ و خرج منھایوم عرفۃ الی عرفات کان مخالفاً للسنۃ ولا یلزمہ الدم ترجمہ:اور اگر(عرفہ کی شب)مکہ میں گزاری اور یوم عرفہ(نویں ذی الحجہ)میدانِ عرفات کی طرف روانہ ہوگیاتو اس نے خلاف سنت کیا لیکن اس پر دم لازم نہیں ہوا(فتاوی قاضی خان،جلد:1،ص:259،قدیمی کتب خانہ)
بدائع الصنائع میں ہے: وَيُكْرَهُ أَنْ يَبِيتَ فِي غَيْرِ مِنًى فِي أَيَّامِ مِنًى، فَإِنْ فَعَلَ لَا شَيْءَ عَلَيْهِ، وَيَكُونُ مُسِيئًا؛ لِأَنَّ الْبَيْتُوتَةَ بِهَا لَيْسَتْ بِوَاجِبَةٍ بَلْ هِيَ سُنَّةٌ،ترجمہ:اورمکروہ ہےایام ِمنی میں منی کے علاوہ مقام پر رات گزارنا ، پس اگر کوئی ایسا کرے تو اس پرکوئی دم نہیں لیکن اس نے برا کیا ، اس لیے کہ منی میں رات گزارناواجب نہیں ہے بلکہ ایسا کرنا سنت ہے۔ (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع،جلد:2،ص:159،دارالکتب العلمیۃ)
درر الحکام شرح غرر الاحکام میں ہے: وَكُرِهَ أَنْ لَا يَبِيتَ بِمِنًى لَيَالِيَ الرَّمْيِ ترجمہ:اور رمی کی راتوں میں منی میں قیام نہ کرنا مکروہ ہے۔
اس کے تحت علامہ شرنبلالی لکھتےہیں: قَالَ الْكَمَالُ وَيَكُونُ مُسِيئًا لِتَرْكِهِ السُّنَّةَ وَقَالَ فِي الْكَافِي يُكْرَهُ أَنْ لَا يَبِيتَ بِمِنًى لَيَالِيَ الرَّمْيِ، وَلَوْ بَاتَ فِي غَيْرِهَا عَمْدًا لَا يَجِبُ عَلَيْهِ شَيْءٌ ثُمَّ قَالَ فِي تَعْلِيلِهِ؛ لِأَنَّ الْبَيْتُوتَةَ غَيْرُ مَقْصُودَةٍ بَلْ هِيَ تَبَعٌ لِلرَّمْيِ فِي هَذِهِ الْأَيَّامِ فَتَرْكُهَا لَا يُوجِبُ الْإِسَاءَةَ كَالْبَيْتُوتَةِ بِالْمُزْدَلِفَةِ لَيْلَةَ النَّحْرِترجمہ:کمال نے کہا اور ایساشخص(ایام منی میں منی میں رات نہ گزارنے والا )سنت کے ترک کے سبب براکرنے والا ہے۔اور کافی میں فرمایا رمی کی راتوں میں منی میں رات نہ گزارنا مکروہ ہےاور اگر کوئی شخص جان بوجھ کر غیر منی میں رات گزارے اس پر کچھ لازم نہیں ہوتا۔پھر اس کی علت بیان کرتے ہوئے فرماتےہیں:اس لیے کہ رات گزارنا مقصود نہیں ہے بلکہ یہ ان ایام میں رمی کے تابع ہےپس اس کا چھوڑنا براہونے کو لازم نہیں کرتاجیسا کہ دسویں کی شب مزدلفہ میں رات گزارنے کا حکم ہے۔ (درر الحکام شرح غرر الاحکام،جلد:1،ص:231، داراحیاء الکتب العربیۃ)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری
الجواب الصحیح:مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 09صفر المظفر1443 ھ/17ستمبر 2021 ء