لپ اسٹک ،نیل پالش اور کاسٹمیٹک کے استعمال کاحکم
    تاریخ: 17 نومبر، 2025
    مشاہدات: 8
    حوالہ: 148

    سوال

    اگر لپ اسٹک ،نیل پالش ،یا کوئی اور کاسٹمیٹک پانی کو جلدتک نہ پہنچنے دے تو کیا وضو اور غسل ہو جاتا ہے ؟ کیا کاسٹمیٹک استعمال کرنے کے بعد وضو درست ہوتا ہے ؟خاص طور پر واٹر پروف میک اپ یا نیل پالش کے بعد ؟ سائل : امان اللہ

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر لپ اسٹک تہہ دار ہو اور پانی کو جلد تک پہنچنے سے روکتی ہو، تو اس کے ساتھ کیا گیا وضو یا غسل درست نہیں، کیونکہ فرض یہ ہے کہ اعضاء پر پانی پہنچے۔ لیکن اگر لپ اسٹک محض رنگ ہو، تہہ دار نہ ہو اور پانی آسانی سے جلد تک پہنچ جائے، تو وضو اور غسل درست ہیں۔ البتہ بہتر یہی ہے کہ لپ اسٹک لگانے سے پہلے وضو یا غسل کر لیا جائے۔نیل پالش عموماً تہہ دار ہوتی ہے، جس پر پانی بَہ تو جاتا ہے، لیکن وہ پانی کے ناخن تک پہنچنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ اس لیے وضو اور غسل کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے نیل پالش کو مکمل طور پر زائل یعنی اتارا جائے پھر وضو یا غسل کیا جائے؛ کیونکہ ناخن کا دھونا فرض میں داخل ہے، اور اس تک پانی پہنچانا شرعاً لازم ہے۔ واٹر پروف میک اپ اگر ایسی تہہ رکھتا ہو جو پانی کو جلد تک پہنچنے سے روکے، تو اس حالت میں کیا گیا وضو اور غسل درست نہیں ہوتا۔ البتہ اگر میک اپ ہلکی نوعیت کا ہو، مثلاً اسپنج یا پاؤڈر کی صورت میں ہو اور پانی کے جلد تک پہنچنے میں رکاوٹ نہ بنے، تو وضو اور غسل صحیح ہے۔ یہی حکم ہر اُس کاسمیٹک چیز کا ہے جو چہرے یا اعضائے وضو پر لگائی جائےاگر وہ تہہ دار ہو اور پانی کو جلد تک پہنچنے سے مانع ہو، تو اس کے ساتھ وضو اور غسل درست نہیں، اور اگر وہ تہہ دار نہ ہو اور پانی بآسانی جلد تک پہنچ جائے، تو وضو اور غسل درست ہے۔

    نیز، ان چیزوں کو اتارنے میں کسی قسم کی مشقت یا حرج بھی لازم نہیں آتا کہ حرج و مشقت کی وجہ سے اجازت دی جائے۔ اس میں یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ ان چیزوں کو لگانے سے پہلے غسل یا وضو کر لیا جائے۔

    دلائل وجزئیات :

    وضو کے صحیح ہونے کے لیے تین شرائط ہیں اس بارے علامہ شرنبلالی لکھتے ہیں :" وشرط صحته ثلاثة: عموم البشرة بالماء الطهور وانقطـاع مـا ينافيـه مـن حـيض ونفـاس وحـدث وزوال ما يمنع وصول الماء إلى الجسد كشمع وشحم. ترجمہ:وضو کے صحیح ہونے کی تین شرطیں ہیں جلد تک پاک پانی پہچانا،جو چیز وضو کے منافی ہو اس کا منقطع ہونا یعنی حیض ،نفاس اور حدث سے اور جو چیزیں جسم تک پانی کو پہنچنے کو روکتی ہوں اس کا زائل ہونا جیسے موم اور چربی ۔(نو رالایضاح ،فصل فی احکام الوضوء،ص:48،المدینة العلمیة )

    جلد تک پانی نہ پہنچے تو وضو یا غسل درست نہیں اس بارے فتاوی ہندیہ میں ہے :’’وَلَوْ كَانَ عَلَيْهِ جِلْدُ سَمَكٍ أَوْ خُبْزٌ مَمْضُوغٍ قَدْ جَفَّ فَتَوَضَّأَ وَلَمْ يَصِلْ الْمَاءُ إلَى مَا تَحْتَهُ لَمْ يَجُزْ؛ لِأَنَّ التَّحَرُّزَ عَنْهُ مُمْكِنٌ. كَذَا فِي الْمُحِيطِ‘‘.ترجمہ : "اور اگراعضاء وضوءپر مچھلی کی کھال ہو، یا چبایا ہوا خشک روٹی کا ٹکڑا ، وضو کیا اور پانی اس کے نیچے نہ پہنچا، تو وضو درست نہیں ہوگا؛ کیونکہ اس سے بچنا ممکن ہے۔ اسی طرح 'المحيط' میں ہے۔( الفتاوی الهندیة ،كتاب الطهارة وفيه سبعة أبواب،ج:1،ص:5،دار الفکر بیروت)

    غسل میں بدن کے ہر حصہ کو دھونافرض ہے اس بارے 'رد المحتار ' میں ہے :’’ غسل میں ويجب أي يفرض (غسل) كل ما يمكن من البدن بلا حرج مرة۔ترجمہ : غسل میں بدن کے ہر اس حصہ کو دھونا ایک مرتبہ فرض ہے جس کو بغیر کسی حرج کے دھونا ممکن ہو ۔( رد المحتار ، كتاب الطهارة،فرض الغسل،ج:1،ص:152،دار الفکر بیروت)

    غسل میں جسم کے کسی حصے پر یا وضو میں اعضاء وضوءمیں سے کسی حصہ پر پانی پہنچانے میں حرج اور مشقت لازم آتی ہے تو اس بارے رخصت ہے اس بارے 'فتاوٰی ہندیہ ' میں ہے :’’ وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ سُئِلَ أَبُو الْقَاسِمِ عَنْ وَافِرِ الظُّفُرِ الَّذِي يَبْقَى فِي أَظْفَارِهِ الدَّرَنُ أَوْ الَّذِي يَعْمَلُ عَمَلَ الطِّينِ أَوْ الْمَرْأَةِ الَّتِي صَبَغَتْ أُصْبُعَهَا بِالْحِنَّاءِ، أَوْ الصَّرَّامِ، أَوْ الصَّبَّاغِ قَالَ كُلُّ ذَلِكَ سَوَاءٌ يُجْزِيهِمْ وُضُوءُهُمْ إذْ لَا يُسْتَطَاعُ الِامْتِنَاعُ عَنْهُ إلَّا بِحَرَجٍ وَالْفَتْوَى عَلَى الْجَوَازِ مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ بَيْنَ الْمَدَنِيِّ وَالْقَرَوِيِّ. كَذَا فِي الذَّخِيرَةِ وَكَذَا الْخَبَّازُ إذَا كَانَ وَافِرَ الْأَظْفَارِ۔ترجمہ: جامع صغیر میں ہے کہ امام ابو القاسم سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس کے ناخن لمبے ہوں اور ان میں میل کچیل رہ جاتی ہو، یا جو مٹی کا کام کرتا ہو، یا وہ عورت جس نے اپنی انگلی پر مہندی لگا رکھی ہو، یا کھیت میں فصل کاٹنے والا ،یا رنگائی کرنے والا تو فرمایا: یہ سب برابر ہیں، ان کا وضو درست ہو جاتا ہے؛ کیونکہ ان چیزوں سے بچنا بغیر مشقت کے ممکن نہیں۔ اور فتویٰ جواز پر ہے،بغیرشہری اور دیہاتی کی تفصیل کیے ۔ یہی بات ذخیرہ میں بھی ہے۔ اور یہی حکم نانبائی (روٹی پکانے والے) کے لیے بھی ہے اگر اس کے ناخن لمبے ہوں۔(الفتاوی الهندیة ،كتاب الطهارة وفيه سبعة أبواب،ج:1،ص:4 ،دار الفکر بیروت)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتــــــــــــــــــــــــــبه: محمدسجاد سلطانی

    الجـــــواب صحــــیـح :ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 03ربیع الثانی 1446ھ/26ستمبر2025