تاخیر سے نکاح کرنے کاحکم
    تاریخ: 17 نومبر، 2025
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 149

    سوال

    گھر والے جان بوجھ کر نکاح یا رخصتی میں تاخیر کر رہے ہیں۔ اس دوران اگر خدا نخواستہ اولاد سے گناہ سَرزد ہو جائے تو اس گناہ کا وبال کس پر جائے گا؟ حالانکہ اولاد بار بار نکاح کی کوشش میں لگی ہوئی ہے تاکہ گناہ سے بچا جا سکے، اور نکاح میں جان بوجھ کر تاخیر کروانے والوں کے بارے میں کوئی حدیث مبارکہ یا قرآن مجید کی آیت سے دلیل دیتے ہوئے چند وعیدیں اور نکاح کرنے کے چند فوائد بتا دیں۔ سائل : علامہ محمد ذیشان

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت کا جواب یہ ہے کہ جب کوئی شخص بیوی کا مہَر اور نان و نفقہ ادا کرنے پر قدرت رکھتا ہو اور بیوی کے دیگر حقوق ادا کرنے کی بھی استطاعت رکھتا ہو تو والدین پر لازم ہے کہ جلد از جلد اس کے مناسب جوڑ کا رشتہ تلاش کریں اور اس کا نکاح کر دیں۔ ان سب چیزوں پر قدرت ہونے کے باوجود اگر والدین بلاوجہ نکاح میں تاخیر کریں تو یہ تاخیر درست نہیں۔اگر ایسی صورت میں اولاد (معاذ اللہ )کسی گناہ میں مبتلا ہو جائے تو اس کا وَبال والدین پر بھی آئے گا، یعنی وہ بھی اس جرم میں شریک اور گناہگار شمار ہوں گے۔ البتہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اولاد کے گناہ میں کمی ہو جائے گی، بلکہ جو گناہ وہ خود کرے گی اس کا پورا وبال اسی پر پڑے گا، والدین اس میں شریکِ گناہ ضرور ہوں گے مگر اولاد کا گناہ کم نہیں ہوگا۔

    اولاد کے بالغ ہو جانے کے بعد ان کا نکاح جلدی کر دینا چاہیے اگر بغیر عذرِ شرعی کے والدین نے تاخیر کی تو اس کا وبال والدین پر بھی ہوگا اس بارےسرکار دو عالم( صلّی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ) کا فرمان مبارک :’’وعن ابي سعيد وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من ولد له ولد فليحسن اسمه وادبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فاصاب إثما فإنما إثمه على ابيه.ترجمہ : ابوسعید رضی اللہ عنہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے ہاں بچہ پیدا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ اس کا اچھا نام رکھے، اسے ادب سکھائے اور جب وہ بالغ ہو جائے تو اس کی شادی کر دے، اگر وہ بالغ ہو جائے اور وہ (والد) اس کی شادی نہ کرے اور وہ کسی گناہ (زنا وغیرہ) کا ارتکاب کر لے تو اس کا گناہ اس کے والد پر ہے۔(مشکوة المصابیح ، كتاب النكاح، باب الولي في النكاح واستئذان المرأة، الفصل الثالث،ج:2،ص:939، المكتب الإسلامي - بيروت)

    اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ:’’وعن عمر بن الخطاب وأنس بن مالك رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " في التوراة مكتوب: من بلغت ابنته اثنتي عشرة سنةً ولم يزوّجها فأصابت إثماً فإثم ذلك عليه. رواهما البيهقي في شعب الإيمان‘‘.ترجمہ :تورات میں درج ہے کہ جس کی بیٹی بارہ سال کی ہوجائے اور وہ اس کا نکاح نہ کرے، پھر لڑکی سے کوئی گناہ ہوجائے تو باپ بھی گناہ گار ہوگا۔(مشکوة المصابیح ، كتاب النكاح، باب الولي في النكاح واستئذان المرأة، الفصل الثالث،ج:2،ص:939، المكتب الإسلامي - بيروت)

    ایک اور حدیث مبارکہ ہے :’’عن علي بن ابي طالب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال له: " يا علي، ثلاث لا تؤخرها: الصلاة إذا اتت، والجنازة إذا حضرت، والايم إذا وجدت لها كفئا ". قال ابو عيسى: هذا حديث غريب، وما ارى إسناده بمتصل‘‘.ترجمہ : علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: علی! تین چیزوں میں دیر نہ کرو: نماز کو جب اس کا وقت ہو جائے، جنازہ کو جب آ جائے، اوربے نکاح کیے کو جب تم اس کا کفو (مناسب ہمسفر) پا لو۔امام ترمذی کہتے ہیں:یہ حدیث غریب ہے،میں اس کی سند متصل نہیں جانتا۔(سنن الترمذی ، أبواب الصلاة، باب ما جاء في الوقت الأول من الفضل،ج:1،ص:320، شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي مصر)

    نکاح کی اہمیت و فوائد :

    نکاح کے فوائد اور اہمیت کے حوالے سے چند احادیث مبارکہ ذکر کی جاتی ہیں :

    1.میاں بیوی کے جوڑے کو اپنی قدرت کی نشانی قرار دیا جیساکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:”وَ مِنْ اٰیٰتِہٖۤ اَنْ خَلَقَ لَکُمۡ مِّنْ اَنۡفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوۡۤا اِلَیۡہَا وَ جَعَلَ بَیۡنَکُمۡ مَّوَدَّۃً وَّ رَحْمَۃً ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ‘‘.ترجمہ: اور اس کی نشانیوں سے ہے کہ تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے بنائے کہ ان سے آرام پاؤ اور تمہارے آپس میں محبّت اور رحمت رکھی بیشک اس میں نشانیاں ہیں دھیان کرنے والوں کے لئے۔( الروم:21)

    2.میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا جیساکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّؕ.ترجمہ: وہ تمہاری لباس ہیں اور تم ان کے لباس۔( البقرہ:187)

    3.نکاح کرنے سے انسان کاآدھا ایمان محفوظ ہو جاتا ہے جیسا کہ نبی کریم خاتم النبیین (صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم ) نے ارشاد فرمایا :" وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم : إِذَا تَزَوَّجَ الْعَبْدُ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ نِصْفَ الدِّينِ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ فِي النِّصْفِ الْبَاقِي‘‘. ترجمہ : حضرت انس (رضی اللہ عنہ ) سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول (صلّی اللہ علیہ و الہ وسلّم) نے فرمایا:جو کوئی نکاح کرتاہے تو وہ آدھا ایمان مکمل کرلیتاہے اور باقی آدھے دین میں اللہ سے ڈرتا رہے۔( مشكاة المصابيح، كتاب النكاح، الفصل الثالث،ج:2،ص:930،حدیث:3092، المكتب الإسلامي - بيروت)

    4.نکاح کرنا نبی کریم خاتم النبیین (صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلّم ) کی سنت مبارکہ جیسا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ارشاد فرمایا :’’النكاح من سنتي . فمن لم يعمل بسنتي فليس مني . وتزوجوا فإني مكاثر بكم الأمم . ومن كان ذا طول فلينكح ومن لم فعليه بالصيام . فإن الصوم له وجاء‘‘.ترجمہ : نکاح کرنا میری سنت ہےتوجو میری سنت پر عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں اور نکاح کرو کیونکہ میں تمہاری وجہ سے امتوں پر فخر کروں گا اور جس میں قدرت ہو وہ ضرور نکاح کرے لیکن جو شادی کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھا کرے کیونکہ روزہ شہوت کے لئے ڈھال ہے۔ (سنن ابن ماجہ، كتاب النكاح، باب ما جاء في فضل النكاح ،ج:1،ص:592،حدیث:1846، دار الفکر بیروت)

    حکیم الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی )رحمۃُ اللہ علیہ( اس طرح کی احادیث کی وضاحت میں فرماتے ہیں: یعنی ہماری جماعت سے یا ہمارے طریقہ والوں سے یا ہمارے پیاروں سے نہیں یا ہم اس سے بیزار ہیں ، وہ ہمارے مقبول لوگوں میں سے نہیں ، یہ مطلب نہیں کہ وہ ہماری اُمت یا ہماری ملت سے نہیں کیونکہ گناہ سے انسان کافر نہیں ہوتا۔(مراة المناجیح ،ج:6،ص:560)

    5.نکاح سےبےرغبتی ایک عظیم سنت سے فرارہےجوکہ کسی صورت درست نہیں۔ جیساکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا ارشاد ہے:"وَاللہِ اِنِّیْ لاَخْشَاکُمْ لِلّٰہِ وَاَتْقَاکُمْ لَہ وَلٰکِنِّیْ اَصُوْمُ وَاُفْطِرُ وَاُصَلِّیْ وَاَرْقُدُ وَاَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَیْسَ مِنِّیْ.ترجمہ : بخدا میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ اس کی ناراضی سے بچنے والا ہوں لیکن میں بھی کبھی نفل روزے رکھتا ہوں اور کبھی بغیر روزوں کے رہتا ہوں،راتوں میں نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور شادی بھی کرتا ہوں اور جو میرے طریقے سے منہ موڑے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔(صحیح البخاری، کتاب النکاح ، كتاب فضائل القرآن،باب اقرءوا القرآن ما ائتلفت عليه قلوبكم ، ج:7،ص:02،حدیث5063، : السلطانية، بالمطبعة الكبرى الأميرية)

    اور یہ بات بھی واضح رہے کہ نکاح کا حکم ہر حال میں یکساں نہیں ہوتا بلکہ حالات کے اعتبار سے کبھی فرض، کبھی واجب، کبھی سنتِ مؤکدہ، کبھی مکروہ اور بعض اوقات حرام بھی ہو سکتا ہے۔

    اس بارے علامہ علاؤ الدین حصکفی فرماتے ہیں:" (وَيَكُونُ وَاجِبًا عِنْدَ التَّوَقَانِ) فَإِنْ تَيَقَّنَ الزِّنَا إلَّا بِهِ فُرِضَ نِهَايَةٌ وَهَذَا إنْ مَلَكَ الْمَهْرَ وَالنَّفَقَةَ، وَإِلَّا فَلَا إثْمَ بِتَرْكِهِ بَدَائِعُ (وَ) يَكُونُ (سُنَّةً) مُؤَكَّدَةً فِي الْأَصَحِّ فَيَأْثَمُ بِتَرْكِهِ وَيُثَابُ إنْ نَوَى تَحْصِينًا وَوَلَدًا (حَالَ الِاعْتِدَالِ) أَيْ الْقُدْرَةِ عَلَى وَطْءٍ وَمَهْرٍ وَنَفَقَةٍ وَرَجَّحَ فِي النَّهْرِ وُجُوبَهُ لِلْمُوَاظَبَةِ عَلَيْهِ وَالْإِنْكَارِ عَلَى مَنْ رَغِبَ عَنْهُ (، وَمَكْرُوهًا لِخَوْفِ الْجَوْرِ) فَإِنْ تَيَقَّنَهُ حَرُمَ ذَلِكَ.ترجمہ : "اور نکاح واجب ہوتا ہے جب شہوت کا غلبہ ہو۔ پس اگر یہ یقین ہو جائے کہ نکاح کے بغیر زنا میں مبتلا ہو جائے گا تو نکاح فرض ہو جاتا ہے، لیکن یہ حکم اسی وقت ہے جب وہ مہر اور نفقہ ادا کرنے پر قدرت رکھتا ہو، ورنہ اس کے ترک کرنے پر کوئی گناہ نہیں (بدائع الصنائع میں یہی ہے)۔اور (نکاح) سنتِ مؤکدہ ہے، یہی اصح قول ہے، لہٰذا اس کے ترک پر گناہ ہے اور اگر نکاح کی نیت عفت (یعنی اپنے آپ کو حرام سے بچانے) اور اولاد حاصل کرنے کی ہو تو ثواب بھی ملے گا۔ یہ اس وقت ہے جب حالتِ اعتدال ہو، یعنی وطی (ہمبستری) پر قدرت رکھتا ہو اور مہر و نفقہ ادا کرنے کی استطاعت بھی رکھتا ہو۔اور "النهر" (شرح) میں اس قول کو ترجیح دی ہے کہ نکاح واجب ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اس پر ہمیشگی اختیار فرمائی اور جو نکاح سے رُکا اس پر انکار فرمایا۔اور (نکاح) مکروہ ہوتا ہے جب بیوی کے ساتھ ظلم (حقوق ضائع کرنے) کا اندیشہ ہو۔ پھر اگر یہ یقین ہو جائے کہ (واقعی) ظلم ہوگا تو نکاح حرام ہے۔(رد المحتار ،كتاب النكاح،ج:3،ص:6،دار الفكر – بيروت)

    اوراسی طرح صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی (رحمہ اللہ عزّ وجلّ ) فرماتے ہیں :’’اعتدال کی حالت میں یعنی نہ شہوت کا بہت زیادہ غلبہ ہو نہ عنین (نامرد) ہو اورمَہر و نفقہپر قدرت بھی ہو تو نکاح سُنّتِ مؤکدہ ہے کہ نکاح نہ کرنے پر اڑا رہنا گناہ ہے اور اگر حرام سے بچنا یا اتباعِ سُنّت و تعمیلِ حکم یا اولاد حاصل ہونامقصود ہے تو ثواب بھی پائے گا اور اگر محض لذّت یا قضائے شہوت منظور ہو تو ثواب نہیں۔

    مسئلہ ۵: شہوت کا غلبہ ہے کہ نکاح نہ کرے تو معاذ اﷲ اندیشۂ زنا ہے اور مہر ونفقہ کی قدرت رکھتا ہو تو نکاح واجب۔يوہيں جبکہ اجنبی عورت کی طرف نگاہ اُٹھنے سے روک نہیں سکتا یا معاذ اللہ ہاتھ سے کام لینا پڑے گا تونکاح واجب ہے۔

    مسئلہ ۶: یہ یقین ہو کہ نکاح نہ کرنے میں زنا واقع ہو جائے گا تو فرض ہے کہ نکاح کرے۔

    مسئلہ ۷: اگر یہ ا ندیشہ ہے کہ نکاح کریگا تو نان نفقہ نہ دے سکے گا یا جو ضروری باتیں ہیں ان کو پورا نہ کرسکے گا تومکروہ ہے اور ان باتوں کا یقین ہو تو نکاح کرنا حرام مگر نکاح بہرحال ہو جائے گا‘‘۔(بہار شریعت،ج:1،حصہ ہفتم،ص:05، المدینہ العلمیہ)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتــــــــــــــــــــــــــبه:محمدسجاد سلطانی

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:02ربیع الثانی 1446ھ/26ستمبر2025