زندگی میں اولاد کے مابین تقسیم کرکے قبضہ دینے کا حکم

    zindagi mein aulad ke mabain taqseem karke qabza dene ka hukm

    تاریخ: 6 جولائی، 2026
    مشاہدات: 29
    حوالہ: 1578

    سوال

    اللہ داد بن غلام فرید بھٹی کے چار بیٹے ہیں ، فقیر محمد ،عاشق حسین ، محمد نوا ز ، ا ور عمردرا ز جبکہ ایک بیٹی ہے ،بشیرو بی بی ۔ اللہ دا د صاحب نے تمام بیٹوں ا ور بیٹی کی شادی کرانے کے بعد اپنی زندگی میں ہی اپنی ساری زمین بیٹوں میں تقسیم کرکے ھبہ کردی ۔گھر بنانے ا ور گھاس اگا نے کیلئے بستی کے قریب کی زمین جبکہ کھیتی باڑی کیلئے بستی سے دور کی زمین سب میں تقسیم کرکے قبضہ د ے دیا نام پر رجسٹر نہیں کرائی ۔ جبکہ انکی ایک بیٹی نے زمین لینے سے انکار کردیا ا ور والد کی زمین میں سے صرف ایک کمرہ ا ور اسکے سامنے کے صحن کی جگہ لینے پر رضامند ی کااظہارکیا ۔

    سب بھائی اپنے والد کی حیا ت میں اپنے حصے کی زمین پر دس پندرہ سال سے بغیر کسی اختلاف کے کھیتی باڑی کرتے ا ور ضر ورت کے مطابق گھر تعمیر کرتے آر ہے ہیں ا ور کسی نے آج تک اس تقسیم پر کوئی اعتراض نہیں کیا ۔ 2020میں اللہ داد صاحب کے بیٹوں میں سے دو سرے بیٹے عاشق حسین صاحب کا انتقال ہوگیا انکے انتقال کے کچھ عرصہ بعد عاشق حسین صاحب کے بیٹوں نے اپنے والد کے حصے کی زمین پر بنے گھرکی چار دیوا ری ،رنگ روغن ا ور صحن ہموا ر کر نے کا کام بھی کر ایا ا ور رہائش بھی ا ختیار کی ہوئی ہے ، جبکہ اپنے والد کے حصے کی کھیتی با ڑی والی زمین جو ا ن کے والد نے اپنی حیا ت میں اپنے چھوٹے بھائی عمر درا ز کو صرف ٹھیکے پر دی تھی ا ن سے ٹھیکہ بھی وصول کرتے آرہے ہیں ۔ اس پر بھی اب تک کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا ۔ عاشق حسین صاحب کی اہلیہ نے اپنے شو ھر کی وفات کےکچھ عرصہ بعد اپنے سسر اللہ داد صاحب سے گزا رش کی کہ و ہ اپنی موجودگی میں سب بیٹوں ا ور برا دری کے لوگوں کو بلا کر ایک با ر پھر یہ یاد دہانی کرا دیں کہ میں نے سب میں زمین تقسیم کرکے ھبہ کردی ہے اب میرے پوتوں (عاشق حسین کے بیٹوں ) کو زمین کے حو الے سے پریشان نہ کیا جائے ،جس پر اللہ داد صاحب نے جوابا کہا میں نے اپنے ہوتے ہوئے سب میں زمین تقسیم کرتو دی ہے لہٰذا اب کوئی پریشانی والی بات نہیں ہو گی ۔میرے ا س دنیا سے جانے کے بعد جب زمین سب کے نام پر رجسٹر کی جائے گی تو تم بھی رجسٹر کرا لینا ۔اللہ داد صاحب کے باقی بیٹوں نے بھی یہی کہا کہ ہم بھتیجوں سے کسی صورت زمین نہیں لیں گے اپنے بھائی کا جو حصہ بنتا ہے بھتیجوں کا ہی ہوگا ۔ 2023میں اللہ داد صاحب کا ا نتقال ہوگیا انکے انتقال کے بعد بھی انکے بیٹو ں میں سے کسی نے اب تک زمین کی تقسیم پر کوئی اعتر اض نہیں کیا ۔ لیکن کچھ دنوں سے اللہ داد صاحب کے بیٹے اس بات پر بضد ہیں کہ چونکہ ہمارے بھائی عاشق حسین کا والد صا حب کی حیات میں ہی انتقال ہوگیا تھا لہٰذا ، ہمارے بھتیجوں کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے حا لانکہ اللہ دا د صاحب کی موجودگی سے ہی زمین بھتیجوں کے قبضہ میں ہے جس پر انکی حیات میں کسی نے کوئی اعتر اض نہیں کیا سب نے رضا مندی ظاہر کی ۔ سوا ل یہ ہے کہ صورت مسئولہ میں عاشق حسین صاحب کے ا نتقال کے بعد انکے حصے کی زمین پر بیٹوں کا حق ہوگا یا نہیں ۔

    سائل: عمردراز بھٹی:


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    برتقدیرِ صدقِ سائل یعنی اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا ذکر کیا گیا تو اس صورت میں حکم شرعی یہ ہے کہ جو زمین اللہ داد نے اپنی زندگی میں اپنے بیٹوں کو دیکر اس پر تمام بیٹوں کا قبضہ بھی دے دیا وہ زمین خالصتاً بیٹوں کی ہی ملک ہےاور بیٹوں کی وفات کے بعد اصولِ شرع کے مطابق انکے ورثاء میں تقسیم ہوگی۔لہذا جب اللہ داد نے اپنی زندگی میں زمینیں اپنی اولاد کے مابین تقسیم کرکے قبضہ دے دیا تو اب اللہ داد کی وفات کے بعد انکے بیٹوں کا یہ قول درست نہیں کہ عاشق حسین کی اولاد ، اللہ داد کی وراثت سے حق نہیں رکھتی بلکہ جو حصہءِ زمین عاشق حسین کو انکے والد نے زندگی میں دیکر قبضہ دیدیا تھا وہ ان کی ہی ملک ہے اور اب عاشق حسین کے اولاد کی ملکیت ہے اس میں عاشق حسین کے بھائیوں کاشرعاً کوئی حصہ نہیں۔

    تفصیلِ مسئلہ:

    کسی بھی شخص کا زندگی میں اپنے ورثا کے مابین جائیداد تقسیم کرنا جائز ہے البتہ یہ تقسیم ازقبیلِ وراثت نہیں بلکہ از قبیلِ ھبہ ہے لہذا اگر بعد از تقسیم الگ الگ کرکے قبضہ دے دیا جائے تو یہ ھبہ تام ہوجاتا ہے اور وہ جائیداد ورثاء کی ملکیت ہوجاتی ہے اور بعد وفاتِ ورثاء انکے ورثاء کے مابین شرعی حصص کے اعتبار سے تقسیم ہوگی۔

    ھبہ سے متعلق تنویرالابصار میں ہے: وَ شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)

    اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)

    عالمگیریہ میں ہے : لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض ۔ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)

    الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل۔ترجمہ:''م'' سے مراد فریقین میں سے ایک کی موت بعد قبضہ ہے اور اگر قبضہ سے قبل موت ہو تو ہبہ باطل ہے۔(درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ،جلد 5ص701)

    ہدایہ میں قبضہ کی شرط کی علت یوں بیان کی گئی :والقبض لا بد منه لثبوت الملك لأنه عقد تبرع، وفي إثبات الملك قبل القبض إلزام المتبرع شيئا لم يتبرع به، وهو التسليم فلا يصح۔ترجمہ: ھبہ میں ملکیت کے ثبوت کے لیے قبضہ ضروری ہے کیونکہ یہ مفت عطیہ کا عقد ہے ، جبکہ قبضہ سے قبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت کرنا تبرع کرنے والے پر ایسی چیز کو لازم کرنا جس کا ابھی اس نے تبرع نہیں کیا اور یہ قبضہ دینا تبرع ہے تو قبل قبضہ درست نہ ہوا۔(الہدایہ شرح بدایۃ المبتدی کتاب الھبہ جلد 3 ص 222)

    سیدی اعلٰی حضرت قبضہ کاملہ کی وضاحت یوں فرماتے ہیں : قبضہ کاملہ کے یہ معنی کہ وہ جائیداد یا تو وقت ہبہ ہی مشاع نہ ہو یعنی کسی اور شخص کی ملک سے مخلوط نہ ہو جیسے دیہات میں بغیر پٹہ بانٹ کے کچھ بسوے یا مکانات میں بغیر تقسیم جدائی کے کچھ سہام۔ اور واہب اس تمام کو موہوب لہ کے قبضہ میں دے دے، یا مشاع ہو تو اس قابل نہ ہو کہ اسے دوسرے کی ملک سے جدا ممتاز کرلیں تو قابل انتفاع رہے جیسے ایک چھوٹی سی دکان دو شخصوں میں مشترک کہ آدھی الگ کرتے ہیں تو بیکار ہوئی جاتی ہے ایسی چیز کا بلا تقسیم قبضہ دلادینا بھی کافی وکامل سمجھا جاتاہے، یا مشاع قابل تقسیم بھی ہو تو واہب اپنی زندگی میں جدا ومنقسم کرکے قبضہ دے دے کہ اب مشاع نہ رہی۔ یہ تینوں صورتیں قبضہ کاملہ کی ہیں۔(فتاویٰ رضویہ کتاب الھبہ جلد 19 ص 221 رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:27 ربیع الاول 1447ھ/ 20 ستمبر2025 ء